احرام میں کپڑے پر خوشبو لگانے کے بعد اتار دیا تو حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احرام کی حالت میں کپڑے پر خوشبو لگائی اور فوراً اتار دیا تو کیا حکم ہے ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حالتِ احرام میں اگر عورت اپنے اسکارف پر بھول کے پرفیوم لگا دے، پھر فوراً اس اسکارف کو اتار دے، تو کیا حکم ہو گا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں حالتِ احرام میں بھولے سے اسکارف پر خوشبو لگائی اور پھر فوراً اسکارف اتار دیا، تو خوشبو کثیر ہونے کی صورت میں ایک صدقہ (صدقہ فطر) لازم ہوگا اور خوشبو قلیل ہونے کی صورت میں ایک مٹھی اناج (گندم)صدقہ کرنا لازم ہوگا۔
تفصیل یہ ہے کہ حالتِ احرام میں بدن اور کپڑوں پر خوشبو لگانے سے کفارہ لازم ہونے کے احکام میں کچھ فرق ہےکہ بدن پر خوشبو لگنے میں محض خوشبو کے قلیل وکثیر ہونے پر حکمِ شرعی کا دارومدار ہوتا ہے کہ اگر بدن پر خوشبو لگنے کے فوری بعد خوشبو کو زائل کردیا، تب بھی کفارے کی نوعیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، جبکہ کپڑے کے معاملے میں خوشبو کے کثیر و قلیل ہونے کے ساتھ ساتھ دورانیہ کا بھی لحاظ ہوتا ہے، جس کی درج ذیل 4 صورتیں ہیں:
(1) خوشبو کثیر ہو اور اس کپڑے کو ایک دن یا رات کی مقدار (عموماً 12 گھنٹے) یا اس سے زائد پہنے رکھا، تو دم لازم ہوگا۔
(2) خوشبو کثیر ہو اور اس کپڑے کو ایک دن یا رات کی مقدارسے کم پہنا، تو صدقہ لازم ہوگا۔
(3) خوشبو قلیل ہو اور اس کپڑے کو ایک دن یا رات کی مقدار یا اس سے زائد پہنے رکھا، تو صدقہ لازم ہوگا۔
(4) خوشبو قلیل ہو اور اس کپڑے کو ایک دن یا رات کی مقدارسے کم پہنا، تو ایک مٹھی اناج (گندم) صدقہ کرنا لازم ہوگا۔
سوال میں بیان کردہ صورت میں چونکہ اسکارف پر خوشبو لگنے کے فوری بعد اس خوشبو والے اسکارف کو اتار دیا، اس لیے اگر خوشبو کثیر ہو، تو صدقہ اور خوشبو قلیل ہو، تو ایک مٹھی اناج صدقہ کرنا لازم ہوگا۔
یاد رہے کہ کپڑوں کے معاملے میں قلیل خوشبو سے مراد یہ ہے کہ وہ خوشبو بالشت در بالشت یا اس سے کم حصے پر لگے اور بذاتِ خود خوشبو کی مقدار بھی کم ہو اور اگر خوشبو کی مقدار بذاتِ خود کثیر ہو کہ جسے عُرف میں زیادہ سمجھا جائے یا بالشت در بالشت سے زیادہ حصے پر لگ جائے، اگرچہ بذاتِ خود خوشبو کی مقدار کم ہو، تو یہ کثیر خوشبو کہلائے گی۔
حالتِ احرام میں جسم پر خوشبو لگنے میں حکمِ شرعی کا دارومدار خوشبو کی قلت و کثرت پر ہونے کے متعلق علامہ ابو المَعَالی بخاری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 616ھ/1219ء) لکھتےہیں: ”أما الجسد فإن أصابه شيء كثير فعليه دم، وإن كان يسيرا فعليه طعام“ ترجمہ: اگر جسم پر زیادہ خوشبولگی، تو اس پر دم لازم ہوگا اور اگر تھوڑی لگی، تو اس پر کھانا کھلانا لازم ہوگا۔ (المحیط البرھانی، جلد 2، صفحہ 454، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
کپڑے پر کثیر خوشبو لگی ہو، تو دم لازم ہونے کی تفصیل کے متعلق در مختار میں ہے ”وأما الثوب المطيب أكثره فيشترط للزوم الدم دوام لبسه يوما“ ترجمہ: جس کپڑے کے اکثر پر خوشبو لگی ہو، تو دم لازم ہونے کے لیے اسے ایک دن (12 گھنٹے )کی مقدار مسلسل پہننا ضروری ہے۔
اس کے تحت بدن اور کپڑے پر خوشبو کا فرق بیان کرتے ہوئے علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں: ”أشار بتقدير الطيب في الثوب بالزمان إلى الفرق بينه وبين العضو فإنه لا يعتبر فيه الزمان، حتى لو غسله من ساعته فالدم واجب كما في الفتح بخلاف الثوب“ ترجمہ: کپڑوں میں خوشبو کو زمانے کے ساتھ مقدر کرنے سے، کپڑے اور عضو کے درمیان فرق کی طرف اشارہ کردیا کہ عضو (پر خوشبو لگنے) میں زمانے کا اعتبار نہیں، یہاں تک کہ اگر عضو کو اسی وقت دھو دیا، تو دم واجب ہوگا، جیسا کہ فتح القدیر میں ہے، برخلاف کپڑے کے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 3 ,صفحہ 654، مطبوعہ کوئٹہ)
کپڑے پر خوشبو لگنے کی چار صورتوں کے متعلق علامہ خُسْرو رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 885ھ/1480ء) لکھتے ہیں: ”الثوب المطيب كله أو أكثره فإنه يشترط لوجوب الدم بلبسه مطيبا دوامه يوما فإن كان أقل من يوم فعليه صدقة والمعتبر في وجوب الدم كثرة الطيب في الثوب والمرجع فيه العرف، وورد التنصيص في المجرد على أن الشبر في الشبر قليل وفي القليل صدقة إن لبسه يوما كاملا وإن لبسه أقل من يوم فقبضة“
ترجمہ: جس سارے کپڑے یا اکثر پر خوشبو لگی ہو، تو ایسی صورت میں دم لازم ہونے کے لیے اس خوشبو والے کپڑے کو ایک دن کی مقدار پہننا شرط ہے اور اگر ایک دن کی مقدار سے کم پہنا ہو، تو صدقہ لازم ہوگا اوردم لازم ہونے میں کپڑے پر خوشبو کی کثرت کا اعتبار کیا گیا ہے اور کثرت کے معیار میں عرف کو دیکھا جائے گا۔اور ”المجرد للحسن بن زیاد“ میں اس بات پر نص وارد ہوئی ہے کہ بالشت در بالشت قلیل میں داخل ہے اور قلیل خوشبو کی صورت میں ایک پورے دن کی مقدار پہننے میں صدقہ ہے اور اگر ایک دن کی مقدار سے کم پہنا، تو ایک مٹھی اناج ہے۔ (درر الحکام شرح غرر الاحکام، جلد 1، صفحہ 239، مطبوعہ دار إحياء الكتب العربية)
اسی طرح لباب المناسک میں ہے: ”اذا كان الطيب في ثوبه شبرا في شبر فهو داخل في القليل فان مكث يوم فعليه صدقة او اقل منه فقبضة “ ترجمہ: اگر کپڑے پر خوشبو کی مقدار بالشت در بالشت ہو، تو وہ قلیل میں داخل ہے، لہٰذا اگر ایک دن گزر جائے، تو اس پر صدقہ لازم ہوگا اور اس سے کم میں ایک مٹھی (اناج)۔ (لباب المناسک، فصل فی تطییب الثوب، صفحہ 200، مطبوعہ دار قرطبہ)
بھولے سے خوشبو لگنے کی صورت میں بھی کفارہ لازم ہونے کے متعلق ملک العلماء علامہ کاسانی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں: ”ويستوي في وجوب الجزاء بالتطيب: الذكر والنسيان، والطوع والكره عندنا كما في لبس المخيط“ ترجمہ: خوشبو لگانے پر جزاء (کفارہ) واجب ہونے میں یاد ہوتے ہوئے لگانا، بھول کر لگانا، اپنی مرضی سے لگانا یا مجبور ہوکر لگانا، سب برابر ہیں، جیسا کہ سلا ہوا کپڑا پہننے میں ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 192، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
کپڑوں پر خوشبو میں قلیل وکثیر کی وضاحت کے متعلق علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں: ”يمكن إجراء التوفيق المار هنا أيضا بأن الطيب إذا كان في نفسه كثيرا لزم الدم وإن أصاب من الثوب أقل من شبر، وإن كان قليلا لا يلزم حتى يصيب أكثر من شبر في شبر “ ترجمہ: یہاں اقوال کے درمیان بھی وہی گزشتہ تطبیق دی جا سکتی ہے۔ وہ یہ کہ اگر خوشبو بذاتِ خود مقدار میں زیادہ ہے، تو اس پر دم لازم آئے گا، چاہے وہ کپڑے پر ایک بالشت سے بھی کم جگہ پر لگی ہو اور اگر خوشبو بذاتِ خود تھوڑی ہو، تو اس پر دم اس وقت تک لازم نہیں ہوگا، جب تک کہ وہ کپڑے پر ایک بالشت لمبائی اور ایک بالشت چوڑائی سے زیادہ جگہ پر نہ پھیل جائے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 3، صفحہ654، مطبوعہ کوئٹہ)
رسالہ ”احرام اور خوشبودار صابن“ میں ہے: ”احرام کی نیت کے بعد گلاب کا ہار نہ پہنا جائے، کیونکہ گلاب کا پھول خود عین خوشبو ہے اور اس کی مہک بدن اور لباس میں بَس بھی جاتی ہے۔ چنانچہ اگر اس کی مہک لباس میں بس گئی اور کثیر ہے اور چار پہر یعنی بارہ گھنٹے تک اس کپڑے کو پہنے رہا، تو ”دم“ ہے، ورنہ ”صدقہ“ اور اگر خوشبو تھوڑی ہے اور کپڑے میں ایک بالشت یا اس سے کم میں لگی ہو اور چار پہر تک اسے پہنے رہا تو ’’صدقہ“ اور اس سے کم پہنا، تو ایک مٹھی گندم دینا واجب ہے۔ اور اگر خوشبو قلیل ہے، لیکن بالشت سے زیادہ حصے میں ہے، تو کثیر کا ہی حکم ہے یعنی چار پہر میں دم اور کم میں صدقہ۔“ (احرام اور خوشبو دار صابن، صفحہ 29-30، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9934
تاریخ اجراء:03 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ/21 اپریل 2026ء