logo logo
AI Search

حیض کی حالت میں حرم شریف میں رہنے کی حدود

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حیض والی عورت حرم شریف میں کہاں تک جا سکتی ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

حیض والی خاتون حرم شریف میں کس مقام تک جا سکتی ہے؟ ہم الحمد للہ حج کی سعادت کے لیے مکہ مکرمہ آئے ہوئے ہیں۔

جواب

سوائے مسجد کے، بقیہ تمام حرم میں حیض والی عورت کا جانا، جائز ہے، کہ حدیث پاک میں حائضہ کو سوائے طواف کے، جو کہ مسجد الحرام میں ادا ہوتا ہے، بقیہ تمام افعال حج ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

فتح باب العنایۃ میں ہے "(وحيضها) وكذا نفاسها (لا يمنع) شيئا من أفعال الحج (إلا الطواف) لما روى البخاري في حديث جابر: أن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال لعائشة حين حاضت بسرف: تنسكي المناسك كلها غير أن لا تطوفي ولا تصلي حتى تطهري" ترجمہ: عورت کو حیض و نفاس آ جانا اسے افعال حج کی ادائیگی سے مانع نہیں سوائے طواف کے؛ کیونکہ بخاری شریف میں موجود حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں ہے: جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا مقام سرف میں حائضہ ہوئیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: تمام افعال حج ادا کرو! البتہ! تم پاک ہونے تک طواف اور نمازوں کی ادائیگی نہیں کرسکتی۔ (فتح باب العنایۃ، ج 1، ص 672، دار الأرقم، بیروت)

فتاوٰی عالمگیری میں ہے ”(ومنها) أنه يحرم عليهما وعلى الجنب الدخول في المسجد سواء كان للجلوس أو للعبور، هكذا في منية المصلي. وفي التهذيب: لاتدخل الحائض مسجدا لجماعة.“ ترجمہ: حیض و نفاس والی عورت اور جنبی شخص کے لیے مسجد میں داخل ہونا حرام ہے خواہ بیٹھنے کے لیے ہو داخل ہو یا مسجد سے گزرنے کے لیے۔ ایسا ہی منیۃ المصلی میں ہے۔ تہذیب میں ہے کہ جس مسجد میں جماعت قائم کی جاتی ہو، اس میں حیض والی عورت نہیں جاسکتی۔ (فتاوٰی عالمگیری، کتاب الطھارۃ، ج 01، ص 38، مطبوعہ: پشاور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5043
تاریخ اجراء: 20 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 08 مئی 2026ء