logo logo
AI Search

کیا دودھ پیتے بچے کی وجہ سے حج مؤخر کر سکتے ہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

حج فرض ہو اور دودھ پیتا بچہ بھی ہو تو کیا حکم ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

جب حج فرض ہونے کی شرائط پائی جائیں اور جانے پر قدرت ہو تو اسی سال حج کرنا لازم ہوتا ہے، بلا عذر شرعی حج کی ادائیگی میں تاخیر کرنا ناجائز و گناہ ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں جب حج فرض ہو چکا ہے تو اگرچہ بچہ چھوٹا ہو، لیکن اگر اس کی نگہداشت اور خوراک وغیرہ کا قابل اطمینان متبادل موجود ہے یا کوشش سے بن سکتا ہے کہ جس سے بچے کی صحت کی حفاظت اور دیکھ بھال مناسب طور پر جاری رہ سکے تو ماں پر بھی اسی سال حج کرنا فرض ہوگا، محض بچے کی شیر خوارگی کی وجہ سے حج مؤخر کرنے کی اجازت نہیں۔ ہاں اگر بچہ بہت چھوٹا ہے اور ماں کے دودھ ہی پر منحصر ہے، اس کی نگہداشت وغیرہ کا کوئی متبادل انتظام بھی میسر نہیں اور قانونی طور پر اسے ساتھ لے جانا بھی ممکن نہیں تو ایسی صورت میں ماں کے لیے حج میں تاخیر کرنے کی شرعاً رخصت ہوگی؛ کیونکہ اس میں بچے کے لیے واضح ضرر ہے اور ضرر کو شرعاً زائل کیا جاتا ہے، نیز ضرورتیں ممنوعات کو جائز کر دیتی ہیں۔ یوں ہی نظر شرع میں بچے کی جان و صحت کی حفاظت مطلوب و مقصود ہے، لہذا اس میں حائل امور کو حتی المقدور دور کرنے کا حکم ہوگا۔

اس کی نظیر وہ مسئلہ ہے کہ دودھ پلانے والی عورت کو روزہ رکھنے کی وجہ سے دودھ کی کمی کے باعث بچے کی جان یا صحت کا خطرہ ہو یا اسے شدید ضرر پہنچنے کا صحیح اندیشہ ہو تو اس کے لیے رمضان کے فرض روزوں کو مؤخر کرنے کی اجازت ہے، یعنی اگر واقعی ایسی کیفیت ہو تو فی الحال روزے نہ رکھے، بعد میں ان چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرے، اور فقہائے کرام نے اس کے تحت یہی دفع حرج و ضرر اور بچے کی حفاظت کے پہلو کو بیان فرمایا ہے۔

واضح رہے! بیان کردہ رخصت صرف عذر کی حد تک ہے، اس لیے جیسے ہی بچہ اس قابل ہو جائے کہ ماں کے بغیر رہ سکے یا اس کی دیکھ بھال کا اطمینان بخش انتظام ہو جائے تو پھر مزید تاخیر جائز نہیں ہوگی اور فوراً حج کرنا لازم ہوگا بشرطیکہ اور کوئی مانع نہ ہو۔ نیز یہ رخصت ماں کے لیے بیان کی گئی، لہذا اگر آپ (شیر خوار بچے کے والد) پر خود حج فرض ہے اور کوئی صحیح مجبوری نہیں تو آپ کے لیے حج میں تاخیر کرنے کی اجازت نہیں۔

علامہ نور الدین ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1014ھ / 1605ء) لکھتے ہیں: انه يجب في الفور علي الاصح اذا استجمعت شروط الوجوب و الاداء و الصحة“ ترجمہ: جب شرائط وجوب، شرائط ادا اور شرائط صحت جمع ہو جائیں تو اصح قول کے مطابق حج فی الفور واجب ہو جاتا ہے۔ (بداية السالك في نهاية المسالك، الباب الاول في فرائض الحج، صفحہ 3، مخطوطه)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: جب حج کے لیے جانے پر قادر ہو حج فوراً فرض ہو گیا یعنی اسی سال میں، اور اب تاخیر گناہ ہے اور چند سال تک نہ کیا تو فاسق ہے اور اس کی گواہی مردود، مگر جب کرے گا ادا ہی ہے قضا نہیں۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1036، مکتبة المدینہ، کراچی)

علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 970ھ / 1562ء) مسلمہ قاعدہ ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: الضرر يزال“ ترجمہ: ضرر کو دور کیا جاتا ہے۔ (الأشباه و النظائر، الفن الأول القواعد الكلية، القاعدة الخامسة، صفحہ 72، دار الكتب العلمية، بيروت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ضرر مدفوع ہے، قال عزوجل: ﴿مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ﴾ (اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:) تم پر دین میں کوئی تنگی نہ رکھی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں: لاضرر ولا ضرار رواہ ابن ماجۃ عن عبادۃ و احمد عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنهم بسند حسن، نہ ضرر لو نہ ضرر دو۔ (ابن ماجہ نے اس کو حضرت عبادہ سے روایت کیا اور امام احمد نے عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ت) . . . المشقۃ تجلب التیسیر، مشقت آسانی لاتی ہے۔ اور اسی کے معنی میں ہے: ما ضاق امر الا اتسع (کوئی معاملہ تنگ نہیں ہوا مگر اس میں کشادگی رکھی گئی۔ ت) (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 203 - 204، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: مواضع ضرورت مستثنی رہتے ہیں، الضرورات تبیح المحظورات (یعنی ضرورتیں ممنوعات کو مباح کر دیتی ہیں)، اور حرج بیّن و ضرورت و مشقت شدیدہ کا بھی لحاظ فرمایا گیا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 197، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: پانچ چیزیں ہیں جن کے حفظ کو اقامت شرائع الہیہ ہے: دین و عقل و نسب و نفس و مال۔ عبث محض کے سوا تمام افعال انہیں میں دورہ کرتے ہیں، اب اگر فعل (کہ ترک بمعنی کف کو کہ وہی مقدور و زیر تکلیف ہے، نہ کہ بمعنی عدم کما فی الغمز وغیرہ بھی شامل ) اگر ان میں کسی کا موقوف علیہ ہے کہ بے اس کے یہ فوت یا قریب فوت ہو تو یہ مرتبۂ ضرورت ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 205، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

شہزادۂ اعلی حضرت مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1402ھ / 1981ء) لکھتے ہیں: فرائض الہیہ سے ہر فرض بقدر قدرت و بشرط استطاعت ہے، جہاں کہیں کسی مسلمان کی جان کا اندیشہ ہو، نہیں نہیں! بلکہ مرض کے اشتداد ہی کا خطرہ ہو، یا مرض بڑھے گا تو نہیں مگر دیر میں صحت کا غالب گمان ہو، بلکہ جہاں (غیر مقصودی) مالی نقصان ہو وہاں مولی تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنا وہ فرض اس سے ساقط فرما دیتا ہے۔ (فتاوی مفتی اعظم، جلد 4، صفحہ 196، شبیر برادرز، لاہور)

علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر فرغانی مرغینانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 593ھ/1197ء) لکھتے ہیں: و الحامل و المرضع إذا خافتا على أنفسهما أو ولديهما أفطرتا و قضتا دفعا للحرج و لا كفارة عليهما لأنه إفطار بعذر“ ترجمہ: جب حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو اپنی جان پر یا اپنے بچے پر خوف ہو تو وہ دفع حرج کے لیے روزہ افطار کر لیں اور (بعد میں) قضا کریں، اور ان پر کفارہ نہیں؛ کیونکہ یہ عذر کی وجہ سے افطار کرنا ہے۔ (الهدایة شرح بدایة، کتاب الصوم، باب ما يوجب القضاء و الكفارة، جلد 1، صفحہ 124، دار احیاء التراث العربي)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: حمل والی اور دودھ پلانے والی کو اگر اپنی جان یا بچہ کا صحیح اندیشہ ہے تو اجازت ہے کہ اس وقت روزہ نہ رکھے۔ . . . ان صورتوں میں غالب گمان کی قید ہے، محض وہم ناکافی ہے۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 1003، مکتبة المدینہ، کراچی)

علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں: ان الحامل والمرضع مأمورة بصيانة الولد مقصودة وهي لا تتأتى بدون الإفطار عند الخوف فكانت مأمورة بالإفطار“ ترجمہ: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت بچے کی حفاظت پر بطور مطلوب و مقصود مامور ہے اور (بچے کی ہلاکت یا نقصان کے) خوف کے وقت یہ حفاظت روزہ چھوڑے بغیر نہیں ہو سکتی، لہذا وہ روزہ چھوڑنے کی (بھی) مامور ہوئی۔ (منحة الخالق علي البحر الرائق، کتاب الصوم، باب ما يوجب القضاء والكفارة، جلد 2، صفحہ 355، دار الكتاب الإسلامي)

علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 970ھ / 1562ء) لکھتے ہیں: ما أبيح للضرورة يقدر بقدرها“ ترجمہ: جو کام ضرورت کی وجہ سے جائز قرار دیا گیا ہو، وہ بقدر ضرورت ہی جائز ہوتا ہے۔ (الأشباه و النظائر، الفن الأول القواعد الكلية ، القاعدة الخامسة، صفحہ 73، دار الكتب العلمية، بيروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری 
فتویٰ نمبر: FAM-1250
تاریخ اجراء: 21 محرم الحرام 1448ھ / 06 جولائی 2026ء