کیا حج بدل کیلئے پہلے سے حج فرض ہونا ضروری ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
حج بدل کروانے کے لیے حج کاپہلے سے فرض ہوناضروری ہے
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
کسی دوسرے کی طرف سے فرض حج ادا کرنا کہ اس سے حج کی فرضیت ساقط ہوجائے، اس کے لیے چند شرائط ہیں، جن میں سے ایک شرط یہ ہے کہ: جس کی طرف سے حج کیا جائے، اس پرحج کرانے سے پہلے حج فرض ہو، لہذا اگر حج کرانے سے پہلے اس پر حج فرض نہیں تھا، مثلا وہ فقیر تھا، پھر حج کرانے کے بعد فرض ہوا، تو اب اسے خود حج کرنا فرض ہوگا۔
فتاوی عالمگیری میں ہے "(منها): أن يكون المحجوج عنه عاجزا عن الأداء بنفسه و له مال" ترجمہ: حج بدل کی شرائط میں سے (ایک شرط یہ) ہے کہ: جس کی طرف سے حج کیا جا رہا ہے وہ خود ادا کرنے سے عاجز ہو اور اس کے پاس (حج کی مقدار) مال ہو۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 257، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے "حجِ بدل یعنی نیا بۃً دوسرے کی طرف سے حجِ فرض ادا کرنا کہ اُس پرسے اسقاطِ فرض کرے ان شرائط سے مشروط ہے: (۱) جس کی طرف سے حج کیا جائے قبل احجاج اس پر حج فرض ہو، اگر فقیر نے حج کرادیا پھر غنی ہوا خود حج کرنا فرض ہوگا۔" (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 659، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہارِ شریعت میں ہے "حج بدل کے لیے چند شرطیں ہیں: جو حج بدل کراتا ہو اس پر حج فرض ہو یعنی اگر فرض نہ تھا اور حج بدل کرایا تو حج فرض ادا نہ ہوا، لہٰذا اگر بعد میں حج اس پر فرض ہوا تو یہ حج اس کے لیے کافی نہ ہوگا بلکہ اگر عاجز ہو تو پھر حج کرائے اور قادر ہو تو خود کرے۔" (بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 1201، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو الفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5338
تاریخ اجراء: 10 ربیع الاول 1448ھ / 24 اگست 2026ء