logo logo
AI Search

عمرہ کیے بغیر احرام کھول دیا تو کیا حکم ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عمرہ کئے بغیر احرام کھول دیا ، عمرہ نہیں کیا، تو کیا احکام ہیں

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

دو افراد کمپنی کے ویزے پر مکہ مکرمہ میں مقیم تھے۔ رمضان المبارک میں زیارت کے لیے مدینہ منورہ گئے۔ واپسی پر مدینہ سے مکہ آتے ہوئے عمرہ کا احرام باندھا، لیکن مکہ پہنچ کر تھکن کی وجہ سے عمرہ ادا کیے بغیر احرام کھول کر عام لباس پہن لیااور عمرہ نہیں کیا اور اپنی ڈیوٹی پر واپس چلے گئے۔ ایسی صورت میں ان کے لئے کیا حکم ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں جب وہ مکہ شریف احرام باندھ کر آگئے تھے تو محض احرام کی نیت ختم کردینے یا چادریں اتار کر سلا لباس پہن لینے سے ان کا احرام ختم نہیں ہوا ، وہ بدستور ابھی بھی احرام میں ہیں ، ابھی فوراً وہ احرام کی پابندیوں میں آجائیں اور اسی احرام کے ساتھ عمرہ ادا کریں ، انہیں دوبارہ احرام کی نیت نہیں کرنی ۔

احرام کھول دینے کے بعد جب یہ سمجھے کہ میں احرام سے باہر آگیا ہوں تو اس کے بعد جو خلاف ورزیاں کیں ، ان سب کا ایک دم دینا واجب ہوگا اور دم کے جانور میں وہی شرائط ہیں جو قربانی کے جانور میں ہیں یعنی بکرا ، بکری ایک سالہ اور مانع قربانی عیب سے پاک ہو ،اسی طرح دم کے جانور کا حرم مکہ میں ذبح ہونا ضروری ہے،کسی اور جگہ نہیں ہوسکتا ۔

شرح لباب المناسک مع حاشیہ ارشاد الساری میں ہے: ”(اعلم أنہ إذا نوى رفض الاحرام) ای قصد ترک الاحرام بمباشرۃ المحظور علی وفق ظنہ (فجعل يصنع ما يصنعه الحلال من لبس الثياب )ای الممنوعۃ من المخیط ونحوہ ( فإنه لا يخرج بذلك من الاحرام )ای بالاجماع (وعليه) ای یجب ( أن يعود كما كان محرما)ای ولا یرتکب بعد ذلک محظورا ( ويجب دم واحد لجميع ما ارتكب، ولو فعل المحظورات) ای استحسانا عندنا…(وإنما يتعدد الجزاء بتعدد الجنايات إذا لم ينو الرفض) ای فی اول ارتکابھا (ثم نية الرفض إنما تعتبر ممن زعم أنه یخرج منه)ای الاحرام ( بهذا القصد)ای فی ارتکاب الجنایۃ“ (ملتقطاً) ترجمہ : تُو جان لے! مُحْرِم جب اپنے گمان کے مطابق ممنوعاتِ احرام میں سے کسی کام کے ذریعے احرام کھولنے کا ارادہ کرے اور کوئی ایسا کام کرلے جو غیر مُحْرِم کرتا ہے،یعنی غیر محرم کی طرح سلےہوئےکپڑے پہنےاور اِسی کی مثل دوسرے کام (مثلاً: خوشبو لگائے، حلق کروائے) تو ان کی وجہ سے وہ محرم بالاجماع کیفیتِ احرام سے باہر نہیں نکلے گا، بلکہ اُس پر واجب ہو گا کہ جیسے پہلے مُحْرِم تھا، اُسی حالت پر واپس لوٹ آئے اور اس کے بعد دیگر ممنوع کام نہ کرےاِن تمام ممنوع اُمور کا ارتکاب کرنے کے سبب اُس پر ایک ہی دَم لازم ہو گا،اگرچہ وہ سارے ہی محظورات کا ارتکاب کر لے۔۔۔ اورمتعدد جنایات سے متعدد دم اس صورت میں لازم ہوتے ہیں، جب پہلے ممنوع کام کا ارتکاب کرتے ہوئے رفضِ احرام کی نیت نہ کی ہو۔پھر رفضِ احرام کی نیت اُسی کی معتبر ہے ،جو یہ گمان کرتا ہو کہ وہ اس جرم کےارتکاب سے احرام سے نکل جائے گا۔( شرح لباب المناسک مع حاشیۃ ارشاد الساری ، صفحہ 578 ، مطبوعہ مکہ مکرمہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2478

تاریخ اجرا: 29شوال المکرم1446ھ/28اپریل2025ء