logo logo
AI Search

احرام کی حالت میں شکار کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

احرام کی حالت میں شکار کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

حالت احرام میں خشکی اور سمندری جانور کے شکار کرنے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

حالت احرام ہو یا نہ ہو، خشکی کا شکار ہو یا دریا کا، بہر صورت محض تفریح کے لیے شوقیہ شکار کرنا، ناجائز و حرام ہے۔ اور احرام میں یوں شکار کرنا انتہائی سخت تر ہے۔ ہاں اگر واقعی کھانے یا دوا یا کسی اور نفع مثلاً تجارت کے لئے یا کسی ضرر کو دور کرنے کے لئے ہو تو احرام کی حالت کے علاوہ تو جائز ہے۔

رہا حالتِ احرام میں شکار تو اس حالت میں دریا کا شکار حلال ہے، لیکن خشکی کے وحشی جانور کا شکار حرام ہے خواہ وہ جانور حلال ہو یا نہ ہو۔ البتہ کٹکھنا کتا، بھیڑیا، کوا، بچھو، چیل، چوہا، سانپ، وغیرہ کے قتل کی اجازت دی گئی ہے۔ یونہی مچھر، پِسُّو، کاٹنے والی چیونٹی، مکھی، چھپکلی وغیرہ تمام حشراتُ الارض اور حملہ آور درندوں کو مارنا بھی معاف ہے۔

بہارِ شریعت میں ہے: ”خشکی کا وحشی جانور شکار کرنا یا اس کی طرف شکار کرنے کو اشارہ کرنا یا اور کسی طرح بتانا، یہ سب کام حرام ہیں اور سب میں کفارہ واجب اگرچہ اُس کے کھانے میں مُضطر ہو۔ ۔۔ پانی کے جانور کو شکار کرنا جائز ہے، پانی کے جانور سے مراد وہ جانور ہے جو پانی میں پیدا ہوا ہو اگرچہ خشکی میں بھی کبھی کبھی رہتا ہو اور خشکی کا جانور وہ ہے جس کی پیدائش خشکی کی ہو اگرچہ پانی میں رہتا ہو۔ “(بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 1179، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اسی میں ہے: ”کوّا، چیل، بھیڑیا، بچھو، سانپ، چوہا، گھونس، چھچوندر، کٹکھنا کتّا، پِسُّو، مچھر، کلّی، کچھوا، کیکڑا، پتنگا، کاٹنے والی چیونٹی، مکھی، چھپکلی، بُر اور تمام حشرات الارض بِجو، لومڑی، گیدڑ جب کہ یہ درندے حملہ کریں یا جو درندے ایسے ہوں جن کی عادت اکثر ابتدائً حملہ کرنے کی ہوتی ہے جیسے شیر، چیتا، تیندوا، اِن سب کے مارنے میں کچھ نہیں۔ یوہیں پانی کے تمام جانوروں کے قتل میں کفارہ نہیں۔ “ (بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 1183، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مزید تفصیل کے لئے بہار شریعت اور رفیق الحرمین سے احرام کے احکام کا مطالعہ فرمالیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی

فتوی نمبر: Web-2543

تاریخ اجراء: 24ربیع الاول 1447ھ/18 ستمبر 2025ء