logo logo
AI Search

حجِ قران و حجِ افراد والا طوافِ قدوم کب کرے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حجِ قران و حجِ افراد والا طوافِ قدوم کب کرے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا حجِ قران یا حجِ افراد کرنے والا مکہ جاتے ہی طوافِ قدوم کرے گا؟

جواب

قارن اور مفرد دونوں کے لیے طواف قدوم کرنا سنت ہے جبکہ متمتع کے لیے سنت نہیں اور مُفرِد یعنی صرف حج کا احرام باندھ کر مکہ شریف حاضر ہونے والا جو پہلا طواف کرے گا وہ طوافِ قدوم ہوگا جبکہ قارن پر واجب ہے کہ مکہ شریف حاضر ہوکر پہلے عمرے کا طواف کرے، پھر سعی کرے اور اس کے بعد حلق یا تقصیر کروائے بغیر طوافِ قدوم کی نیت سے سات پھیرے طواف کرے۔

چنانچہ بہار شریعت میں ہے: طواف قدوم مفرد اور قارِن کے لیے سنت ہے، متمتع کے لیے نہیں۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 1050، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اسی میں ہے: طواف میں نیت فرض ہے، بغیر نیت طواف نہیں مگر یہ شرط نہیں کہ کسی معین طواف کی نیت کرے بلکہ ہر طواف مطلق نیتِ طواف سے ادا ہوجاتا ہے بلکہ جس طواف کو کسی وقت میں معین کردیا گیا ہے، اگر اس وقت کسی دوسرے طواف کی نیت سے کیا تو یہ دوسرا نہ ہوگا بلکہ وہ ہوگا جو معین ہے۔ مثلاً عمرہ کا احرام باندھ کر باہر سے آیا اور طواف کیا تو یہ عمرہ کا طواف ہے اگرچہ نیت میں یہ نہ ہو۔ یوہیں حج کا احرام باندھ کر باہر والا آیا اور طواف کیا تو طوافِ قدوم ہے یا قِران کا احرام باندھ کر آیا اور دو طواف کیے تو پہلا عمرہ کا ہے، دوسرا طوافِ قدوم یا دسویں تاریخ کو طواف کیا تو طوافِ زیارت ہے، اگرچہ ان سب میں نیت کسی اور کی ہو۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 1099، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اسی میں ہے: قِران میں واجب ہے کہ پہلے سات پھیرے طواف کرے اور ان میں پہلے تین پھیروں میں رَمَل سنت ہے پھر سعی کرے، اب قِران کا ایک جُز یعنی عمرہ پورا ہوگیا مگر ابھی حلق نہیں کرسکتا اور کیا بھی تو احرام سے باہر نہ ہوگا اور اس کے جرمانہ میں دو دَم لازم ہیں۔ عمرہ پورا کرنے کے بعد طوافِ قدوم کرے۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 1155، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1997
تاریخ اجراء: 11 جمادی الاول 1446ھ / 14 نومبر 2024ء