kiya Bator Dam Diya Jane Wala Janwar Zinda He Sharai Faqeer Ko De Sakte Hain ?
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا بطور دم دیا جانے والا جانور زندہ ہی شرعی فقیر کو دے سکتے ہیں؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حج یا عمرہ میں جو دم واجب ہوتا ہے وہ اگر کوئی شخص جانور لے کر زندہ ہی فقیر شرعی کو دیدے تو کیا اس سے دم پورا ہوجاتا ہے یا نہیں؟
سائل: شاہ نواز (ریگل صدر کراچی)
جواب
حج و عمرہ میں جہاں دم کا ذکر ہے تو اس سے مراد جانور کو حدود حرم میں ذبح کرنا ہے چاہے وہ دم کی کوئی بھی قسم ہو، دم شکر، یا دم جبر۔ لہذا اس جانور کی قربانی ہونا ہی ضروری ہے، زندہ جانور صدقہ کرنے سے دم ساقط نہیں ہوگا نیز یہ ذبح بھی حدود حرم میں ہی ہوگا تو کفایت کرے گا ورنہ نہیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-994
تاریخ اجراء: 16 جمادی الثانی 1438ھ / 16 مارچ 2017ء