logo logo
AI Search

طواف الزیارہ نہ کرنے کا کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بیماری کی وجہ سے طواف الزیارت نہیں کیا تو اب کیا حکم ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص وقوفِ عرفہ کرنے کے بعد بیماری کی وجہ سے ہسپتال میں ایڈمٹ ہوجائے اور طواف زیارت نہ کرے اور ہسپتال میں داخل ہوجائے اور پھر طوافِ زیارت بلکہ کسی بھی قسم کا طواف کئے بغیر وہیں سے ڈائریکٹ اپنے ملک چلا جائےتو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ اور اگر اس کے پاس واپس مکہ شریف جانے کی استطاعت نہ ہو تو کیا کرنا ہوگا؟

جواب

وقوفِ عرفہ کے بعد طوافِ زیارت حج کا دوسرا رکن ہے اور رکن کے قائم مقام کوئی چیز نہیں ہوسکتی لہذا اس شخص پر پوری زندگی طواف زیارت لازم رہے گا خواہ اس شخص کو دوبارہ حرمین شریفین جانے کی استطاعت ہو یا نہ ہو اور بڑا جانور یا مالی کفارہ وغیرہ کوئی چیز بھی طوافِ زیارت کا متبادل نہیں بن سکتی۔ اگر وہ شخص شادی شدہ ہے تو جب تک طوافِ زیارت نہیں کرتا اپنی بیوی کے قریب بھی نہیں جاسکتا کہ حاجی جب تک طوافِ زیارت نہ کرلے اس معاملے میں اس کا احرام باقی رہتا ہے ہاں اگر مقررہ وقت اور ترتیب پر حلق یا قصر کرلیا ہو تو زوجہ کے ساتھ جنسی تعلقات کے علاوہ احرام کی باقی تمام پابندیاں مثلاً ناخن تراشنا، سلے ہوئے کپڑے پہننا، سر اور چہرہ ڈھانپنا، خوشبو لگانا وغیرہ ختم ہوجاتی ہیں۔

مزید یہ کہ سوال سے واضح ہے کہ ان حاجی صاحب نے طوافِ رخصت بھی نہیں کیا اور اپنے ملک آگئے لہذا طوافِ رخصت چھوڑ دینے کی وجہ سے ان پر ایک دم واجب ہے نیز اگر حج کی سعی وقوفِ عرفہ سے پہلے طوافِ قدوم کے بعد کرلی تھی تو ٹھیک ورنہ سعی ترک کرنے کے سبب بھی مزید ایک دم لازم ہوگا کیونکہ حج کی سعی حج کے بعد کرنی ہو تو وہ طواف الزیارہ کے بعد ہی ہوسکتی ہے اور اس نے کوئی طواف نہ کیا اور سعی کا ترک بھی پایا گیا، پھر اگر یہ حاجی صاحب واپس جاکر (واپس کس طرح جانا ہے، اس کی تفصیل آگے ہے) طوافِ زیارت ادا کرنے کے بعد حج کی سعی بھی کر لیتے ہیں اور طوافِ رخصت بھی ادا کرلیتے ہیں تو طوافِ رخصت اورحج کی سعی کی وجہ سے لازم آنے والے دم ساقط ہوجائیں گے۔

واضح رہے کہ طوافِ زیارت کا اکثر حصہ 12 ذوالحجہ کی غروبِ آفتاب سے پہلے ہونا حج کے واجبات میں سے ہے اور اس کے ترک پر دم لازم آتا ہے البتہ اگرعذر مثلاً حیض و نفاس یا بیماری وغیرہ کسی عذر کے سبب تاخیر کی تو دم لازم نہیں ہوگا لہذا پوچھی گئی صورت میں اگروہ حاجی صاحب بیماری کے سبب 12 کی غروبِ آفتاب تک طوافِ زیارت کرنے پر قادر نہ تھے اورنہ ہی کوئی ایسا تھا جو ان کو طواف کرادیتا تو ان پر تاخیر کا دم لازم نہیں لیکن اگروہ بارہ کی غروب سے اتنا پہلے ٹھیک ہوچکے تھے کہ غروب سے پہلے طوافِ زیارت کا اکثر حصہ یعنی چار چکر ادا کرسکتے تھے لیکن ایسا نہ کیا یا ٹھیک تونہیں ہوئے تھے لیکن وہاں کوئی ایسا شخص تھا جس نے ان کو طواف کرانے کی ذمہ داری لی تھی، پھر بھی طواف نہ کیا تو اب بلاعذر تاخیر کے سبب ان پر ایک دم لازم ہوگا اور یہ دم کسی صورت ساقط نہیں ہوسکتا۔

اپنے سوال کا مکمل جواب جان لینے کے بعد یہاں یہ بات لازمی یاد رکھیں کہ یہ شخص جب بھی طوافِ زیارت کے فرض سے سبکدوش ہونے کے لئے مکہ مکرمہ جائے گا تو حج یا عمرہ کا نیا احرام پہنے بغیر ہی جائے گا کیونکہ وہ ازدواجی تعلقات کی پابندی کے لحاظ سے ابھی بھی احرام میں ہے، اب اگر وہ میقات سے احرام باندھتا ہے تو یہ احرام پر احرام باندھنا ہوگا جو کہ خود ایک خلاف ورزی ہے لہذا طوافِ زیارت کی ادائیگی کے لئے یہ شخص عام لباس میں ہی مکہ مکرمہ حاضر ہوگا۔

شرح مختصر طحاوی میں ہے: ”و ان رجع الى اهله فھو محرم من النساء ابداً فیعود الی مکۃ بذلك الإحرام و لا یحتاج الی احرام جدید فیطوف طواف الزیارۃ و طواف الصدر و علیہ لتاخیر طواف الزیارۃ عن ایام النحر دم“ ترجمہ: اگر کوئی طوافِ زیارت کئے بغیر اپنے ملک واپس آگیا تو وہ بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلقات کے لحاظ سے ہمیشہ احرام کی پابندی میں رہے گا اور اسے اسی احرام کے ساتھ واپس مکہ جائےگا، نئے احرام کی حاجت نہیں پھر وہ وہاں طوافِ زیارت و رخصت ادا کرے گا اور اس پر ایامِ نحر سے طوافِ زیارت مؤخر کرنے کے سبب دم لازم ہوگا۔ (شرح مختصر الطحاوی للاسبیجابی، ج 2، ص 718، مطبوعہ کوئٹہ)

مناسک ملا علی قاری میں ہے: ”و لو ترک الطواف کلہ او طاف اقلہ و ترک اکثرہ ای و رجع الی اھلہ فعلیہ حتماً ای وجوباً اتفاقاً ان یعود بذلک الاحرام و یطوفہ ای لانہ محرم فی حق النساء و لا یجوز احرام العمرۃ علی بعض افعال الحج من الطواف و السعی و لو بعد الحلق من التحلل الاول و لا یجزئ عنہ ای عن ترک الطواف الذی ھو رکن الحج کلہ او اکثرہ البدل و ھو البدنۃ لانہ ترک رکناً فلا یقوم مقامہ غیرہ بل یجب الاتیان بعینہ لا یجزئ عنہ البدل اصلاً ای سواء عاد الی اھلہ او لم یعد“ یعنی کسی نے طواف زیارت مکمل چھوڑ دیا یا اکثر حصہ چھوڑدیا اگرچہ اقل حصہ کیا اور اپنے ملک لوٹ آیا تو اس پر بالاتفاق واجب ہے کہ اسی احرام کے ساتھ مکہ واپس جائے اور طواف کرے کیونکہ بیوی کے معاملات میں اس پر اب بھی احرام کی پابندیاں باقی ہیں اور اسے بعض افعالِ حج یعنی طوافِ زیارت وسعی باقی ہونے کی بنا پر عمرے کا احرام باندھنا جائز نہیں اگرچہ کہ حاجی حلق یعنی تحلل اول کرچکا ہو اور کوئی چیز مثلاً بڑا جانور وغیرہ حج کے رکن طواف زیارت کے قائم مقام نہیں ہوسکتا کیونکہ اس نے رکن چھوڑا ہے اور رکن کے قائم مقام کوئی دوسری چیز نہیں ہوسکتی بلکہ طوافِ زیارت کرنا ہی لازم ہوگا اورکوئی بھی دوسری چیز طوافِ زیارت کا قطعاً بدل نہیں بن سکتی خواہ حاجی اپنے ملک روانہ ہوگیا ہو یا نہیں۔ (المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، ص 490، مطبوعہ مکہ مکرمہ)

حج کا کوئی واجب عذر کے سبب چھوڑنے پر کفارہ لازم آنے سے متعلق مناسک ملا علی قاری اورحیات القلوب میں ہے: و اللفظ للاوّل ”و یستثنی من ھذا الکلیّ و ھو لزوم الجزاء بترک کلّ واجب ۔۔۔ ترک الواجب ای جنسہ بعذر ای معتبر شرعاً قال فی البدائع: ان الواجبات کلّھا ای فضلاً عن بعضھا او المعنی کلا منھا ان ترکھا لعذر لا شیء علیہ لان الضرورات تبیح المحظورات وممّا صرّحوا ای بقیّۃ العلماء بثبوت العذر فیہ ای و بترک وجوب الجزاء علیہ ۔۔۔ تاخیر طواف الزیارۃ عن ایامہ ای عند الامام لحیضٍ او نفا سٍ و کذا لحبسٍ او مرضٍ و لم یوجد لہ حامل او لم یتحمّل الحمل“ ترجمہ: ہر واجب کے ترک پرکفارہ لازم آنے کے حکم سے چند صورتیں مستثنی ہیں ایک یہ کہ عذرِ شرعی کے سبب حج کے کسی واجب کا ترک کیا ہو جیسا کہ بدائع میں کہا کہ بعض واجبات کا ترک تو ایک طرف اگر حج کے تمام واجبات بھی عذرِ شرعی کی بنا پر ترک کئے تو کفارہ لازم نہیں ہوگا کیونکہ ضرورت، ممنوع کام کو کچھ وقت کے لئے مباح کردیتی ہے اور فقہائے کرام نے جن صورتوں میں عذر شرعی کے سبب ترکِ واجب پر کفارہ لازم نہ آنے کی صراحت کی ہے، ان میں سے ایک طواف زیارت کو ایامِ قربانی سے مؤخر کرنا ہے جبکہ یہ مؤخر کرنا حیض یا نفاس کے سبب ہو یونہی گرفتاری کے سبب یا کسی بیماری کے سبب جبکہ کوئی اٹھا کر طواف کرانے والا نہ ہو یا کوئی اٹھا کر طواف کرانے کی ذمہ داری نہ اٹھاتا ہو۔ (المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، صفحہ 101 - 103، مطبوعہ مکہ مکرمہ، ملتقطاً) (حیاۃ القوب بزیارۃ المحبوب، ص 10 - 11، مخطوط)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: یہ طواف حج کا دوسرا رکن ہے، اس کے سات پھیرے کئے جائیں گے، جن میں چار پھیرے فرض ہیں کہ بغیر ان کے طواف ہوگا ہی نہیں اور نہ حج ہوگا اور پورے سات کرنا واجب۔ (بھار شریعت، ج 1، حصہ 6، ص 1144، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-12328
تاریخ اجراء: 02 محرم الحرام 1444ھ / 01 اگست 2022ء