سر میں زخم ہونے کی صورت میں حلق یا تقصیر کروانا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سر میں زخم ہوں تو عمرے پر حلق یا تقصیر کروانے کا حکم؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے سر کے اوپر کی جانب درمیانی حصے کے بال گر گئے تھے، جبکہ سر کی سائیڈوں کے بال موجود ہیں۔ دوستوں کے مشورے پر میں نے ہیئر ٹرانسپلانٹ کروایا لیا ہے، جس میں سر کے اطراف سے بال لے کر درمیانی حصے میں لگائے گئے ہیں۔ اس سرجری کی وجہ سے سر میں اس وقت چھوٹے چھوٹے زخم، دانے، ہلکی سوجن اور درد ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق زخم وغیرہ کی مکمل ریکوری میں تقریباً 15 سے 20 دن لگ جائیں گے۔ ڈاکٹر نے ادویات کے استعمال کے علاوہ سر دھونے یا کسی بھی سخت چیز کے استعمال سے منع کیا ہے، ورنہ زخم بڑھنے کا صحیح اندیشہ اور ناقابل برداشت درد ہوگا۔ اب ایک دن بعد مجھے 14 دن کے لئے عمرہ کرنے جانا ہے، پہلے سات دن مکہ مکرمہ قیام ہے۔ سر کے درمیانی حصے میں زخم اور سوجن کی وجہ سے حلق یا تقصیر کرنا ممکن نہیں۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا ایسی صورت میں میرے لیے حلق یا تقصیر معاف ہے؟
نوٹ: سر کی سائیڈوں کے بال موجود ہیں، جو چوتھائی سر سے زیادہ حصے پر مشتمل ہیں، اس حصے میں حلق یا تقصیر کرنا ممکن ہے۔
جواب
اولاً یہ بات ذہن نشین رہے کہ مذکورہ طریقہ کار کے مطابق ہیئر ٹرانسپلانٹ کروانا ناجائز و حرام ہے۔ لہذا اس گناہ سے توبہ لازم ہے ۔
اور جہاں تک آپ کا سوال ہے، تو اس حوالے سے حکم شرعی یہ ہے کہ جب سر کے کم از کم چوتھائی حصے میں حلق یعنی سر منڈوانا یا تقصیر یعنی کم از کم چوتھائی سر کے بال ایک پورے کے برابر کاٹنا ممکن ہے، تو حلق یا تقصیر معاف نہیں، بلکہ احرام کی پابندیوں سے باہر ہونے کے لیے حلق یا تقصیر لازم و ضروری ہے، ورنہ اس کے بغیر احرام ختم نہیں ہوگا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ نےاحرام سے نکلنے کے لیے عورت کے حق میں تقصیر اور مرد کے حق میں حلق یا تقصیر لازم و ضروری قرار دی ہے اور کم از کم چوتھائی سر کا حلق یا تقصیر واجب، جبکہ پورے سر کا حلق یا تقصیر سنتِ مؤکدہ ہے۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر پورے سر کے بجائے کم ازکم چوتھائی سر کا حلق یا تقصیر کرواتا ہے، تو اس سے واجب تو ادا ہو جائے گا، مگر بلا عذر ایسا کرنے کی وجہ سے سنتِ مؤکدہ کا ترک لازم آئے گا اور سنت مؤکدہ کا ایک آدھ بار کا ترک اساءت (بُرا) ہے اور اس کے ترک کی عادت بنا لینا گناہ ہے، البتہ اگر کسی عذر مثلاً دانے وزخم کی وجہ سے پورے سر کا حلق یا تقصیر ممکن نہ ہو، تو اس صورت میں اساءت وگناہ بھی نہیں۔اب صورتِ مسئولہ میں سر کی سائیڈوں میں دانے یا زخم نہ ہونے کی وجہ سے حلق یا تقصیر ممکن ہےاور وہ جگہ بھی سر کےچوتھائی حصے سے زیادہ ہے، تو ایسی صورت میں احرام سے باہر آنے کے لیے کم از کم چوتھائی حصے کا حلق یا تقصیر کروانا لازم و ضروری ہوگا اور سر میں موجود دانوں اور زخموں کی وجہ سے پورے سر کا حلق یا تقصیر نہ کرنے میں حرج نہیں۔
تنبیہ! جب بال ایک پورے سے کم ہوں، جس کی وجہ سے تقصیر ممکن نہ رہے، تو اب مرد کے لئے حلق ہی کرنا لازم و ضروری ہے۔
حلق میں کم از کم چوتھائی سر کے بالوں کو زائل کرنا اور تقصیر میں چوتھائی سر کے بالوں کا ایک پورے کے برابر کاٹنا ضروری ہے۔ چنانچہ البحر الرائق میں ہے:
و المراد بالحلق إزالة شعر ربع الرأس۔۔۔ و المراد بالتقصير أن يأخذ الرجل أو المرأة من رءوس شعر ربع الرأس مقدار الأنملة
ترجمہ: حلق سے مراد چوتھائی سر کے بالوں کو زائل کرنا ہے اور تقصیر سے مراد یہ ہے کہ آدمی یا عورت (کم از کم) چوتھائی سر کے بالوں کو ایک پورے کے برابر کاٹ لیں۔ (البحر الرائق، باب الاحرام، جلد 2، صفحہ 372، دار الكتاب الإسلامي، بیروت)
پورے سر کا حلق و تقصیر کرنا سنت ہے۔ چنانچہ محیط رضوی میں ہے:
و المسنون حلق جميعه أو تقصيره والواجب ربعه و لا يحل بدون الربع
ترجمہ: پورے سر کا حلق یا پورے سر کی تقصیر سنت ہے اور چوتھائی کا حلق یا تقصیر واجب ہے اور چوتھائی سے کم حلال نہیں۔ (محیط رضوی، کتاب الحج، ج 2، ص 190، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
یونہی ارشاد الساری میں ہے:
(السنۃ حلق جمیع الراس او تقصیر جمیعہ وان اقتصر علی الربع جاز مع الکراھۃ) ای لترکہ السنۃ و الاکتفاء بمجرد الواجب (و ھو) ای الربع (اقل الواجب فی الحلق) و کذا فی التقصیر
ترجمہ: سنت یہ ہے کہ پورے سر کا حلق کیا جائے یا پورے سر کے بالوں کی تقصیر کی جائے۔ اگر کسی نے صرف چوتھائی سر پر ہی اکتفا کیا، تو کراہت کے ساتھ جائز ہے، کیونکہ اس صورت میں سنت کو چھوڑ کر صرف واجب پر اکتفا کیا گیا ہےاور وہ واجب چوتھائی سر ہے، یعنی حلق میں کم از کم واجب مقدار چوتھائی سر ہے اور تقصیر میں بھی یہی حکم ہے۔ (ارشاد الساری الی مناسک ملا علی قاری، صفحہ 252، الناشر: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
سنت سے مراد سنت مؤکدہ ہے۔ چنانچہ المسالک فی المناسک میں ہے:
ان السنة حـلق جميع الرأس أو تقصير جميع الرأس و من ترك ذلك فيكون مسيئا
ترجمہ: پورے سر کا حلق یا پورے سر کی تقصیر سنت ہے اور جس نے یہ سنت ترک کر دی، تو وہ اساءت کا مرتکب ہوگا۔ (المسالک فی المناسک، فصل فی الحلق و التقصیر، ص 578، دارا لبشائر الاسلامیۃ)
اساءت ،سنت موکدہ کے ترک سے لازم آتی ہے۔ چنانچہ لباب و شرح لباب میں ہے:
(و حکم السنن) ای الموکدۃ (الاساء ۃ بترکھا)
ترجمہ: اور مؤکدہ سنتوں کا حکم یہ ہے کہ ان کا ترک اساءت ہے۔ (لباب و شرح لباب، ص 105 / 106، مطبوعہ، پشاور)
سنت مؤکدہ کے ترک کاحکم بیان کرتےہوئے، سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: سنتِ مؤکدہ کا ایک آدھ بارترک گناہ نہیں، ہاں بُراہے اور عادت کے بعد گناہ و نارَوا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ دوم، صفحہ 911، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
اگر کسی عذر کی وجہ سے سنت مؤکدہ کو ترک کیا جائے، تو کوئی گناہ و اساءت بھی نہیں۔ چنانچہ خرانۃ الاکمل پھر بحر العمیق میں ہے:
السنن المؤکدۃ حتی لو ترکہ یصیر مسیئا بترکہ لکن لا یلزمہ دم و لا صدقۃ و ھذا اذا ترکہ بغیر عذر، اما اذا ترکہ بعذر لایکون مسیئاً
ترجمہ: اگر کوئی سنتِ مؤکدہ کو ترک کردے، تو اساءت کا مرتکب ہوگا، لیکن اس پر دم یا صدقہ لازم نہیں ہوگا، یہ اس وقت ہے جبکہ بغیر کسی عذر کے ترک کرے، اگر کسی عذر کے سبب ترک کرتا ہے، تو اساءت کا مرتکب نہیں۔ (خزانۃ الاکمل، ج 01، ص 335، دار الکتب العلمیۃ، بیروت) (البحر العمیق، ج 02، ص 1160، مؤسسۃ الریان)
یونہی ارشاد الساری میں ہے:
(و حکم السنن) ای المؤکدہ (الاساءۃ بترکھا) ای لو ترکھا عمداً (و عدم لزوم شیء) ای من دم و صدقۃ علی فاعلھا
ترجمہ: سننِ مؤکدہ کا حکم یہ ہے کہ ان کو چھوڑنا اساءت ہے، یعنی جب کوئی شخص جان بوجھ کر انہیں ترک کرے۔ البتہ ان کے چھوڑنے والے پر کوئی شے لازم نہیں، یعنی نہ دم لازم ہوتا ہے اور نہ صدقہ۔ (ارشاد الساری الی مناسک ملا علی قاری، فصل فی سننہ، صفحہ 83، الناشر: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
جب بال ایک پورے سے کم ہوں، جس کی وجہ سے تقصیر ممکن نہ رہے، تو اب حلق ہی کروانا ہوگا۔ چنانچہ لباب المناسک اور اس کی شرح میں ہے:
(و لو تعذر التقصیر) أی تعذر لکون الشعر قصیرا (تعین الحلق)
ترجمہ: اور اگر تقصیر ممکن نہ رہے یعنی بالوں کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے تقصیر نہ ہوسکتی ہو تو اب (مرد کے لئے) حلق متعین ہوجائے گا۔ (لباب المناسک مع شرحہ،فصل فی الحلق و التقصیر، صفحہ 324، مطبوعہ، مکۃ المکرمہ)
و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: GUJ-0117
تاریخ اجراء: 29رمضان المبارک1447ھ/19مارچ2026ء