logo logo
AI Search

متعدد عمرے ایک احرام کے ساتھ کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ایک ساتھ الگ الگ احرام سے متعدد عمرے کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر ایک بندہ دو تین عمرے اکٹھے ایک احرام کے ساتھ کرے بس ہر بار سر پر استرا پھروا کر مسجد عائشہ جا کر عمرے کے نفل پڑھ کر آتا رہے تو اس پر دم لازم ہوگا؟ اگر ہاں تو کتنے دم دے گا؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں جب وہ ہر بار مسجد عائشہ جا کر نئے سرے سے عمرے کی نیت کر کے آتا اور ارکان عمرہ ادا کر کے حلق کرواتا رہا تو تمام عمرے ادا ہو گئے اور اس وجہ سے کوئی دم لازم نہیں ہوا؛ کہ ان پے در پے عمروں میں ہر عمرہ انفرادی طور پر پورا ہوتا رہا اور اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ عمرے کی تکرار جائز بلکہ اس کی کثرت مستحب ہے۔ اسے ایک احرام سے اتنے عمرے کرنا نہیں کہیں گے کہ احرام در حقیقت دو چادروں کا نام نہیں کہ جب تک انہیں اتار نہ دیا جائے تو آدمی مُحرم رہے، بلکہ احرام مخصوص حالت کا نام ہے جو کہ اپنے وقت پر حلق یا تقصیر کرنے سے ختم ہو جاتی ہے۔

علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:

ان تكرار العمرة في سنة واحدة جائز

ترجمہ: ایک ہی سال میں عمرہ کو بار بار ادا کرنا جائز ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، كتاب الحج، باب الجنايات، جلد 2، صفحہ 585، دار الفکر، بیروت)

علامہ نور الدین ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1014ھ / 1605ء) لکھتے ہیں:

و لا يكره الإكثار منها أي من العمرة... بل يستحب أي الإكثار منها على ما عليه الجمهور

ترجمہ: عمرے کی کثرت کرنا مکروہ نہیں ہے، بلکہ جمہور جس بات پر ہیں اس کے مطابق عمرے کی کثرت مستحب ہے۔ (المسلک المتقسط شرح لباب المناسک، باب العمرۃ، فصل في وقتها، صفحہ 657، مطبوعہ المکۃ المکرمۃ)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:

و هو الدخول في التزام حرمة ما يكون حلالا عليه قبل التزام الإحرام بالنية و التلبية

ترجمہ: اور احرام نیت اور تلبیہ کے ذریعے ان امور کی حرمت کی پابندی میں داخل ہو جانا ہے، جو احرام کی پابندی سے پہلے اس کے لیے حلال تھے۔ (المسلک المتقسط شرح لباب المناسک، باب الاحرام، صفحہ 125، مطبوعہ المکۃ المکرمۃ)

امیر اہل سنت علامہ ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں: جب حج یا عمرہ یا دونوں کی نیت کر کے تلبیہ پڑھتے ہیں تو بعض حلال چیزیں بھی حرام ہو جاتی ہیں، اس لیے اس کو احرام کہتے ہیں اور مجازاً ان بغیر سلی چادرو ں کو بھی احرام کہا جاتا ہے جنہیں مُحرم (حالت احرام والا) استعمال کرتا ہے۔ (رفیق الحرمین، صفحہ 58، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

علامہ نور الدین ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1014ھ / 1605ء) لکھتے ہیں:

و شرط الخروج منه أي من إحرام العمرة و الحج في الجملة الحلق أو التقصير أي قدر ربع شعر الرأس في وقته

ترجمہ: اور مجموعی طور پر عمرہ اور حج کے احرام سے باہر نکلنے کی شرط اپنے وقت پر حلق یا تقصیر (کا ہونا) ہے یعنی چوتھائی سر کے بالوں کے برابر۔ (المسلک المتقسط شرح لباب المناسک، باب الاحرام، صفحہ 131، مطبوعہ المکۃ المکرمۃ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1078
تاریخ اجراء: 08 شعبان المعظم 1447ھ / 28 جنوری 2026ء