بسم اللہ الرحمن الرحیم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
حج کرنے گئے اور تھکاوٹ کی وجہ سے رَمی نہیں کی، تو کیا حکم ہے؟
پوچھی گئی صورت میں اب اس حاجی پر ایک چھوٹا جانور یعنی بکرا یا دُنبہ حدودِ حرم میں قربان کروانا واجب ہے اور توبہ کرنا بھی واجب ہے۔
وقار الفتاویٰ میں ہے: ’’رَمی ایک دن کی چھوٹ جائے یا تینوں دن کی، ایک شیطان کی چھوٹے یا تینوں کی، ایک قربانی واجب ہوگی اور یہ قربانی زمینِ حرم پر واجب ہے لہٰذا کسی جانے والے کو روپیہ دے دیں وہ مکہ میں جاکر یہ قربانی کردے۔“(وقار الفتاوی ، جلد 2، صفحہ 461، مطبوعہ بزم وقار الدین)
ستائیس واجباتِ حج میں ہے:”اگر کسی دن کی رَمی بالکل نہ کی ، تو جب تک ایامِ رمی باقی ہیں ، رَمی کی قضا کرے گا ، تیرہ تاریخ کو غروب سے پہلے تک رَمی کے آخری دن کا وقت ہے۔ قضا کے ساتھ ساتھ دَم بھی واجب ہوگا۔ یاد رہے کہ یہ قضا کفارے سمیت واجب ہے یعنی 13 تاریخ کو سورج غروب ہونے تک کفارہ اور قضا دونوں واجب ہیں۔ البتہ اس کے بعد صرف کفارہ واجب رہے گا ، قضا ساقط ہوجائے گی۔“(ستائیس واجباتِ حج، صفحہ 107، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتوی نمبر:Web-2331
تاریخ اجراء:15ذوالحجۃالحرام1446ھ/12جون2025ء