logo logo
AI Search

احرام میں جرم کا صدقہ کس کو دیا جائے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

احرام میں جرم کی وجہ سے صدقہ لازم ہو تو کس کو دینا ہوگا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

احرام میں جرم کی وجہ سے صدقہ لازم ہو تو کس کو دینا ہوگا؟

جواب

احرام میں کسی حکم کی خلاف ورزی کی وجہ سے جو صدقہ لازم ہوتا ہے، اس صدقے کا مصرف شرعی فقیر ہے، لہٰذا شرعی فقیر کو اس کا مالک بنایا جائے گا، اور یہ حرم میں دینا افضل ہے، اس کے علاوہ کسی اور مقام پر مثلا اپنے شہر وغیرہ میں دینا بھی جائز ہے۔

تنویر الابصار مع درِ مختار و رد المحتارمیں ہے

(و ما بین القوسین زیادۃ من رد المحتار) تصدق بنصف صاع من برّ كالفطرة۔۔۔ أين شاء (أي في غير الحرم أو فيه و لو على غير أهله لإطلاق النص، بخلاف الذبح، و التصدق على فقراء مكة أفضل)

ترجمہ: صدقۂ فطر کی طرح نصف صاع گندم صدقہ کرے، جہاں چاہے یعنی حرم کے علاوہ یا حرم میں، اگرچہ حرم کے فقیر کے علاوہ کسی دوسرے فقیر پر کیونکہ اس بارے میں نص مطلق ہے، برخلاف جانور ذبح کرنے یعنی دم کے، اور مکہ مکرمہ کے فقیروں پر صدقہ کرنا افضل ہے۔ (تنویر الابصار مع در مختار و رد المحتار، جلد 3، صفحہ 671 - 672، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے جن لوگوں کو زکاۃ دینا ناجائز ہے انھیں اور بھی کوئی صدقۂ واجبہ نذر و کفّارہ و فطرہ دینا جائز نہیں۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 931، مکتبۃا لمدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4639
تاریخ اجراء: 23 رجب المرجب1447ھ / 13 جنوری2026ء