logo logo
AI Search

حیض کی وجہ سے عمرہ کیے بغیر مکہ سے واپس آنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عورت حیض کی وجہ سے عمرہ کیے بغیر مکہ سے واپس آگئی تو کیا حکم ہے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک اسلامی بہن عمرہ پر گئیں، طواف کا ایک چکر ہی پورا کیا تھا کہ ان کو حیض آگیا، جس کی وجہ سے وہ طواف چھوڑ کر اپنے وطن واپس آگئیں  اور انہوں نے احرام اتارنے کی نیت سے احرام بھی کھول دیا اور یہ سمجھ لیا کہ اب احرام کی پابندیاں نہ رہیں، اس بات کو تقریباً چار سال کا عرصہ ہوچکا ہے، اس دوران بہت سارے کام ایسے بھی ہوئے ہیں جو احرام میں منع ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ اب اگر وہ خاتون حدود حرم میں قربانی بھیج دے تو کیا ایسا کردینا کافی ہوگا ؟

نوٹ: وہ اسلامی بہن اب بھی عمرہ کے اخراجات پر قادر ہیں، شادی شدہ ہیں اور شوہر کی طرف سے عمرہ پر جانے کی ممانعت بھی نہیں اور محرم بھی ساتھ جانے کیلئے موجود ہے۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں حدودِ حرم میں قربانی بھیج دینا یا وہاں جانور خرید کر ذبح کرنے کیلئے رقم دے دینا کافی نہیں بلکہ وہ خاتون بدستور حالتِ احرام ہی میں ہے اور اس پر لازم ہے کہ وہ اسی احرام کے ساتھ دوبارہ مکہ مکرمہ کی طرف لوٹے اور پاکی کی حالت میں طوافِ عمرہ و سعی وغیرہ افعالِ عمرہ کرکے احرام سے باہر ہوجائے، کیونکہ جب وہ خاتون دوبارہ مکہ مکرمہ جاکر عمرہ کرنے پر قادر ہے اور شوہر بھی منع نہیں کررہا اور محرم بھی ساتھ جانے کیلئے موجود ہے تو اسے ”محصرہ“ قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اس صورت میں کوئی ایسا حابس و مانع موجود نہیں جس کی وجہ سےاحصار متحقق ہو، نیز اس صورت میں احرام اتارنے کی نیت سے جو احرام کھولا گیا اور ممنوعاتِ احرام کا ارتکاب کیا گیا، ان سب کے بدلے صرف ایک دم دینا لازم ہے اور ایسی خاتون پر توبہ کرنا بھی لازم ہے۔

نوٹ: دم سے مرادایک بکرا ہے، اِس میں نَر، مادہ، دُنبہ، بھیڑ، نیز گائے یا اونٹ کا ساتواں حصہ سب شامل ہیں، نیز اس جانور کا حدودِ حرم میں ذبح ہونا لازم ہے، نیز اس جانور کا گوشت نہ توخود کھا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی غنی کو کھلا سکتے ہیں، بلکہ وہ صرف محتاجوں کا حق ہے۔

تفصیل کچھ یوں ہے کہ عمرہ میں طواف یعنی سات میں کم از کم چار پھیرے  فرض ہیں، اس کے بغیر عمرہ کی ادائیگی ممکن ہی نہیں اور اس کیلئے طہارت یعنی حیض و نفاس و جنابت وغیرہ سے پاک ہونا واجب ہے، نیز حالت ِ حیض میں عمرے کا احرام باندھنا جائز ہے، لہٰذا اگر کسی عورت نے اس حالت میں احرام باندھا یا احرام تو پاکی کی حالت میں ہی باندھا تھا لیکن اس کے بعد حیض آگیا تو ان دونوں صورتوں میں محض حیض آنے سے احرام کی پابندیاں ختم نہیں ہوں گی، بلکہ عورت پرلازم ہے کہ وہ پاک ہونے کا انتظار کرے، جب پاک ہوجائے تو طہارت کی حالت میں تمام افعالِ عمرہ اداکرکے عمرہ مکمل کرے کہ ناپاکی کی حالت میں طواف حرام ہے ۔

چنانچہ عمرہ کیلئے طواف کے رکن ہونے کے متعلق ”لباب فی شرح الکتاب“ میں ہے: ”وأکثر الطواف رکن“ ترجمہ: اور طواف کے اکثر پھیرے رکنِ عمرہ ہیں۔ (اللباب فی شرح الکتاب، ج 01، ص 221، المکتبۃ العلمیۃ)

طواف کیلئے طہارت کے واجب ہونے کے متعلق ”مناسک ملا علی قاری“ میں ہے: ”الأول الطھارۃ عن الحدث الأکبر والأصغر“ ترجمہ: طواف کے واجبات میں سے پہلا واجب حدث اصغر یعنی بے وضو ہونے اور حدث اکبر یعنی حیض ونفاس اور جنابت سے پا ک ہو نا ہے۔ (مناسک ملا علی قاری، ص 213، مطبوعہ مکۃ المکرمہ)

اور حیض و نفاس وغیرہ ناپاکی کی حالت میں طواف کے حرام ہونے کے متعلق ”ارشاد الساری میں ہے:

”(الطواف جنباأو حائضا أو نفساء ) حرام أشد حرمۃ“

ترجمہ: حالت جنابت یا حیض اور نفاس میں طواف حرام اشد حرام ہے۔ (ارشاد الساری الی مناسک ملا علی قاری، صفحہ 182، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

اور ایسی عورت پر پاکی کا انتظار کرنا لازم ہے تاکہ وہ اس حالت میں طواف کرسکے، چنانچہ البحر العمیق میں ہے:

”والمرأۃ لا تطوف وھی حائض أو نفساء و تؤخر الی وقت الطھر“

ترجمہ: اور حیض و نفاس کی حالت میں عورت طواف نہیں کرے گی بلکہ طواف کو پاکی کے وقت تک موخر کرے گی۔ (البحر العمیق، ج 02، ص 1125، موسسۃ الریان)

لیکن اگر کسی عورت نے اسی حالت میں طواف مکمل کرلیا تو اس کا طواف صحیح ہوجائے گا البتہ وہ گنہگار ہوگی اور اس کو توبہ کرنا ہوگی اور جب تک مکہ مکرمہ میں ہے اس پر لازم ہے کہ پاک ہونے کی صورت میں اس کا اعادہ کرے، اگر اعادہ نہ کیا تو اس پر دم دینا لازم ہوگا، چنانچہ البحر العمیق میں ہے:

”منھا: الطھارۃ عند الحدث و الجنابۃ و الحیض و النفاس و لیست بشرط لجواز الطواف و لا فرض، بل ھی واجبۃ حتی یجوز الطواف بدونھا و یقع معتدا بہ و لکن یکون مسیئا“

ترجمہ: طواف کے واجبات میں سے حدث، جنابت اور حیض و نفاس سے پاک ہونا ہے لیکن یہ طواف کے جائز ہونے کی نہ ہی شرط ہے نہ ہی فرض بلکہ یہ واجب ہے یہاں تک کہ اس کے بغیر بھی طواف جائز اور قابلِ شمار ہوتا ہے لیکن اس حالت میں طواف کرنے والا گنہگار ہوگا۔ (البحر العمیق، ج 02، ص 1112، موسسۃ الریان)

 لباب المناسک مع مسلک متقسط میں ہے:

”(ولو طاف للعمرۃ کلہ أو أکثرہ أو أقلہ ولو شوطا جنبا أو حائضا أو نفساء أو محدثا فعلیہ شاۃ )أی فی جمیع الصور المذکورۃ (و لا فرق فیہ )أی فی طواف العمرۃ (بین الکثیر و القلیل و الجنب و المحدث )“

ترجمہ: اور اگر عمرے کا مکمل طواف یا اس کے اکثر یا اقل پھیرے اگرچہ ایک ہی جنابت یا حیض و نفاس یا حدث کی حالت میں کیا تو ان تمام صورتوں میں اس پر ایک بکری لازم ہے اور عمرے کے طواف میں کثیر و قلیل اور جنبی و بے وضو کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ (المسلک المتقسط علی لباب المناسک مع ارشاد الساری، ص 290، دار الکتب العلمیۃ)

فتاوٰی تاتارخانیہ میں بحوالہ محیط برہانی ہے:

”اذا طاف للعمرۃ محدثا أو جنبا فما دام بمکۃ یعید الطواف، فان رجع الی أھلہ و لم یعد ففی المحدث تلزمہ الشاۃ وفی الجنب القیاس أن تلزمہ البدنۃ وفی الاستحسان یکفیہ شاۃ‘‘

ترجمہ: اگر کسی نے عمرے کا طواف بے وضو یا جنابت کی حالت میں کیاتو جب تک مکہ مکرمہ میں ہے دوبارہ طواف کرے اور اگر اعادہ کے بغیر اپنے گھر کو لوٹ گیا تو بے وضوطواف کرنے کی صورت میں ایک بکری اس پر لازم ہے اور جنبی میں قیاس یہ ہے کہ بدنہ لازم ہو لیکن اس کو بھی استحساناً ایک بکری بطور دم دیناکافی ہے۔ (الفتاوی التاتار خانیۃ، ج 02، ص 206، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

لہٰذا اگر اس نے اس طرح نہ کیا بلکہ وہ حیض کی وجہ سے مکمل طواف یا اس کے اکثر پھیرے چھوڑ کر اپنے وطن واپس آگئی، تو اب یہ دیکھا جائے گا کہ اس خاتون کیلئے دوبارہ مکہ مکرمہ جاکر عمرہ کرنا ممکن ہے یا نہیں؟ اگر ممکن نہیں مثلاً اخراجات ہی نہیں ہیں یا شوہر منع کررہا ہے اور محرم بھی موجود نہیں، تو وہ محصرہ کہلائے گی، چنانچہ شرح لباب المناسک میں ہے:

”الاحصار فیھا ھو المنع (عن الطواف) أی بعد الاحرام بھا۔۔(و یتحقق) أی الاحصار عندنا (بکل حابس یحبسہ) أی مانع یمنعہ“

ترجمہ: عمرہ میں احصار سے مراد اس کا احرام باندھنے کے بعد طواف سے روک دیئے جانا ہے اور ہمارے نزدیک احصار ہر اس مانع کی وجہ سے متحقق ہوجائے گا جو اس کو روک دے۔ (شرح لباب المناسک مع ارشاد الساری، ص 452، 453، ملتقطا، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

اور اگر مکہ مکرمہ واپس جاکر عمرہ کرنے سے کوئی مانع و حابس موجود نہیں، تو  اس پر لازم ہے کہ وہ اسی احرام کے ساتھ دوبارہ مکہ کی طرف لوٹے اور پاکی کی حالت میں طوافِ عمرہ و سعی وغیرہ افعالِ عمرہ کرکے احرام سے باہر ہوجائے، چنانچہ البحر العمیق اور المسلك المتقسط میں ہے،

واللفظ للآخر: ”(و کذا لو ترک منہ) أی من طواف العمرۃ (أقلہ و لو شوطا فعلیہ دم و ان أعادہ) أی الأقل منہ (سقط عنہ الدم و لو ترک کلہ أو أکثرہ فعلیہ أن یطوفہ حتما) أی وجوبا أو فرضا (و لا یجزئ عنہ البدل أصلا) لأنہ رکن العمرۃ“

ترجمہ: اور اسی طرح اگر کسی نے عمرے کے طواف کے اقل پھیرے اگرچہ ایک ہی چھوڑا تو اس پر دم لازم ہے اور اگر اس اقل پھیرے کا اعادہ کرلیا تو اس سے دم ساقط ہوجائے گا اور اگر کسی نے مکمل طواف یا اس کے اکثر پھیرے چھوڑ دئیے تو اس پر وجوبی یا فرضی طور پر لازم ہے کہ وہ طواف ہی کرے اور اس کی طرف سے بدل ہرگز کافی نہیں ہوگا، کیونکہ طواف عمرہ کا رکن ہے۔ (البحر العمیق، ج 02، ص 1126، موسسۃ الریان)(المسلک المتقسط علی لباب المناسک، ص 390، دار الکتب العلمیۃ)

فتاوٰی تاتارخانیہ میں بحوالہ فتاوٰی ظہیریہ و شرح الطحاوی ہے:

”ولو ترک طواف العمرۃ أکثرہ أو کلہ و سعی بین الصفا و المروۃ و رجع الی أھلہ فھو محرم أبدا و لا یجزئ عنہ البدل و علیہ أن یعود الی مکۃ بذالک الاحرام و لا یجب علیہ احرام جدید لأجل مجاوزۃ المیقات و یطوف لھا أو یکمل الطواف و یسعی بین الصفا و المروۃ و سعیہ الأول غیر جائز“

ترجمہ: اور اگر کسی نے عمرہ کا اکثر طواف یا مکمل طواف ترک کردیا اور صفا و مروہ کی سعی کرلی اور اپنے گھر لوٹ آیا تو وہ ہمیشہ حالتِ احرام ہی میں رہے گا اور اس کی طرف سے بدل بھی کافی نہ ہوگا اور اس پر لازم ہے کہ اسی احرام کے ساتھ مکہ کو لوٹے اور اس پر میقات سے گزرنے کی وجہ سے جدید احرام لازم نہیں اور وہ آکر طواف کرے یا اس کی تکمیل کرے اور صفا و مروہ کی سعی بھی کرے کہ پہلی سعی ناجائز تھی۔ (الفتاوی التاتار خانیۃ، ج 02، ص 206، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

نیز اس صورت میں جو ممنوعات احرام کا ارتکاب ہوا، اس کی وجہ سے ایک دم بھی لازم ہے، چنانچہ بحر الرائق میں بحوالہ مبسوط، شرح لباب المناسک، منحۃ الخالق اور رد المحتار میں ہے،

واللفظ للمنحۃ: ”اعلم أن المحرم إذا نوى رفض الإحرام فجعل يصنع ما يصنعه الحلال من لبس الثياب والتطيب والحلق والجماع، وقتل الصيد فإنه لا يخرج بذلك من الإحرام، وعليه أن يعود كما كان محرما ويجب دم واحد لجميع ما ارتكب، ولو كل المحظورات، وإنما يتعدد الجزاء بتعدد الجنايات إذا لم ينو الرفض ثم نية الرفض إنما تعتبر ممن زعم أنه خرج منه بهذا القصد لجهله مسألة عدم الخروج، وأما من علم أنه لا يخرج منه بهذا القصد فإنها لا تعتبر منه“

ترجمہ: جان لو کہ محرم جب احرام توڑدینے کی نیت کرے اور غیر محرم جو کام کرتا ہے وہ کرنا شروع ہوجائے جیسے سلا ہوا کپڑا پہننا، خوشبو لگانا، حلق کروانا، جماع اور شکار کا قتل تو وہ اس کی وجہ سے احرام سے باہر نہیں ہوگا اور اس پر لازم ہے کہ وہ ویسے ہی لوٹ جائے جیساکہ وہ محرم تھا اور اس پر ان چیزوں کے ارتکاب کی وجہ سے ایک ہی دم لازم ہے اگرچہ اس نے سارے ممنوعات کا ہی ارتکاب کیوں نہ کرلیا ہو ! کیونکہ جنایات کے متعدد ہونے سے جزاء اس وقت متعدد ہوتی ہے جبکہ احرام سے باہر ہونے کی نیت نہ کی جائے پھر یہ نیت ِ رفض بھی اسی شخص کی طرف سے معتبر ہے جس نے یہ گمان کیا ہو کہ وہ اس قصد کی وجہ سے احرام سے نکل گیا جبکہ وہ نہ نکلنے کے مسئلہ سے واقف نہ ہو اور اگر وہ جانتا ہو کہ اس قصد کی وجہ سے احرام سے نہیں نکلے گا تو اس کی یہ نیت معتبر نہیں ہوگی۔ (البحر الرائق، ج 03، ص 17، و، منحۃ الخالق، ج03 ، ص 17، دار الکتاب الاسلامی) ( شرح لباب المناسک مع حاشیۃ ارشاد الساری، باب فی جزاء الجنایات، فصل فی ارتکاب المحرم المحظور، صفحہ 578، مطبوعہ مکہ مکرمہ) (رد المحتار، ج 02، س 553، دار الفکر)

دم کے متعلق، رفیق المعتمرین میں ہے: ”دَم یعنی ایک بکرا، اِس میں نر، مادہ، دنبہ، بھیڑ، نیز گائے یااونٹ کا ساتواں حصہ سب شامل ہیں۔۔دم اور بدنہ کے جانور کا حرم میں ذبح ہونا شرط ہے۔۔کفارے یعنی دم اور بدنہ وغیرہ کا گوشت صرف محتاجوں کا حق ہے، نہ خود کھاسکتے ہیں نہ غنی کو کھلاسکتے ہیں۔“ (رفیق المعتمرین، ص 136 تا 138، ملتقطا، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0226
تاریخ اجراء: 22 ربیع الثانی 1445 ھ/07 نومبر 2023ء