احرام کی چادر کے کنارے سلے ہونا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احرام کی چادروں کے کنارے سلے ہوئے ہوں، تو کیا حکم ہے ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا عمرے پر جانے کا ارادہ ہے اور اس مقصد کے لئے میں نے احرام خریدا ہے، لیکن میری والدہ نے اس کے کناروں کو سوئی کی مدد سے سی دیا تا کہ اس کے دھاگے نکلنے نہ پائے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں کہ یہ درست ہے یا نہیں؟
جواب
احرام کی چادروں کا کناروں سے سلا ہوا ہونا مکروہ و ناپسندیدہ امر ہے، کیونکہ ان کا ہر طرح کی سلائی سے خالی ہونا افضل ہے، لیکن ناجائز نہیں کیونکہ یہ ممنوع مخیط (سلے ہوئے لباس) میں داخل نہیں، لہذا اگر کوئی شخص ایسی چادریں پہن کر حج و عمرہ کرلے تو جائز ہے، اور اس سے کوئی کفارہ یا صدقہ بھی لازم نہیں ہوگا۔
جیسا کہ فقہائے عظام نے چادروں میں رفو یا پیوند ہونے کی صورت میں یہی حکم بیان فرمایا ہے، چنانچہ لباب المناسک میں ہے:
”(ویجوز ) فی الاحرام (قطع خرق مخیطۃ والافضل ان لا یکون فیھما خیاطۃ)“
ترجمہ: احرام میں پیوند کا ہونا، جائز ہے، لیکن افضل یہ ہے کہ ان دونوں (چادروں)میں کسی قسم کی سلائی نہ ہو۔‘‘ (المسلک المتقسط علی لباب المناسک، ص 110، دار الکتب العلمیۃ بیروت)
شامی میں ہے:
”ما خيط بعضه ببعض لا بحيث يحيط بالبدن مثل المرقعة فلا بأس بلبسه“
ترجمہ: جس کےحصوں کو آپس میں سی دیا جائے، لیکن وہ جسم پر محیط نہ ہو، جیسا کہ پیوند لگا ہوا، تواس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں۔ (رد المحتار، ج 02، ص 489، دار الفکر بیروت)
سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: ”احرام میں یہ باتیں مکروہ ہیں: بے سلا کپڑا رفو کیا یا پیوند لگاہوا پہننا۔“ (فتاوی رضویہ ملتقطاً، ج 10، ص733، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
مزید ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’چادر، تہبند بے سِلی اوڑھے باندھے۔ ف: نئے سفید ہوں تو بہتر ورنہ دھُلے اُجلے اور ان میں رفویا پیوند بھی اچھا نہیں، پر جائز ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 779، 778، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0539
تاریخ اجراء: 14 رمضان المبارک 1446 ھ/15مارچ 2025ء