مینسٹرل کپ لگا کر طواف کرنا کیسا ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عذر کی وجہ سے عورت کا مینسٹرل کپ استعمال کرنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ مستحاضہ عورت جو شرعی معذور نہ ہو، اس کو داغ لگنے (Spotting) کا کبھی علم ہو جاتا ہے اور کبھی پتہ ہی نہیں چلتا، کبھی فلو زیادہ، تو کبھی کم ہوتا ہے، ایسی صورت میں اگر عورت طواف کرنا چاہے، تو اسے بہت آزمائش ہوتی ہے، آج کل عورتوں کے لیے خون جمع کرنے والے مینسٹرل کپ (Menstrual Cup) آتے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ
(1) مستحاضہ عورت کے لیے مینسٹرل کپ کا لگانا، شرعاً کیسا ہے؟
(2) اس کپ کو لگانے کی صورت میں اگر خون اتر کر اس کپ میں آ جائے، تو کیا وضو ٹوٹ جائے گا؟
(3) مستحاضہ عورت مینسٹرل کپ لگا کر طواف کر سکتی ہے؟
(4) طواف میں جسم اور لباس کے پاک ہونے کی تاکید ہوتی ہے، تو اس کپ کو لگانے کی صورت میں کیا عورت نجاست اٹھانے والی شمار ہوگی؟ یا اس کا جسم اور لباس ناپاک شمار ہوں گے؟
جواب
(1) نماز اور طواف جیسی عبادات کے لیے مستحاضہ عورت مینسٹرل کپ (Menstrual Cup) استعمال کرسکتی ہے۔
(2) کپ لگا ہونے کی صورت میں اگر استحاضہ (بیماری) کا خون اتر کر کپ میں آ جائے، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔
(3) مینسٹرل کپ لگانے کے بعد عورت با وضو حالت میں طواف کرسکتی ہے۔
(4) کپ اگرچہ خون سے بھر جائے، جب تک خون اس کپ کے اندر ہے، عورت پاک ہی شمار ہوگی، نیز اس لگے ہوئے کپ میں موجود خون کی وجہ سے عورت ناپاک یا نجاست اٹھانے والی بھی شمار نہیں ہوگی۔
تفصیلی جواب:
مینسٹرل کپ کے استعمال کی طبی تحقیق:
میڈیکلی اشیاء کی تفصیل بیان کرنے والی ویب سائٹس کے مطابق مینسٹرل کپ مکمل طور پر عورت کی فرجِ داخل (Inner Vagina) یعنی مخصوص مقام کے اندرونی و باطنی حصہ کی نالی (Vaginal Canal) میں رکھا جاتا ہے اور اترنے والا خون اس کپ میں آنے کی وجہ سے فرجِ داخل میں ہی جمع رہتا ہے، جب تک کپ بھر نہ جائے خون فرجِ خارج (Outer vagina) میں نہیں آتا اور اس کا ٹائم پیریڈ خون کے بہاؤ کے مطابق 8 سے 12 گھنٹے ہوتا ہے ، جیساکہ ذیل میں متعلقہ ویب سائٹ کے دئیے گئے " target="_blank" rel="noopener">لنک پر اس کے مقام اور استعمال کو دیکھا جا سکتا ہے:
مینسٹرل کپ کے استعمال کا جواز:
مینسٹرل کپ زمانۂ قدیم میں استعمال ہونے والی کُرسُف (وہ روئی یا کپڑا جو عورتیں مخصوص ایام میں مخصوص مقام میں رکھتی تھیں، تاکہ خون کے سبب لباس وغیرہ آلودہ نہ ہو) کی جدید صورت ہے اور فقہائے کرام نے بدن یا کپڑوں کو آلودہ ہونے سے بچانے کے لیے کرسف استعمال کرنے کی اجازت بیان فرمائی ہے اور اس کپ کا بھی بنیادی مقصد یہی ہوتا ہے، لہٰذا اسے استعمال کرنا، جائز ہے، البتہ چونکہ کُرسُف کا اصل محل مقامِ بکارت اور فرجِ خارج ہے اور اسے فرجِ داخل میں رکھنے کو بعض فقہائے کرام نے مکروہ اور ناپسندیدہ قرار دیا ہے، جبکہ مینسٹرل کپ فرجِ داخل ہی میں رکھا جاتا ہے، اس لیے مستحاضہ غیر معذور عورت کو بلا حاجت اس کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے اور اس کے بجائے پیڈز وغیرہ متبادل اشیاء استعمال کرنی چاہئیں۔ہاں! اگر کسی حاجت و ضرورت، مثلاً طواف وغیرہ کی ادائیگی کے لیے اس کے استعمال کی حاجت پیش آ جائے، تو ایسی صورت میں مینسٹرل کپ استعمال کرنے میں حرج نہیں۔
یاد رہے! مذکورہ حکم ایسی مستحاضہ عورت کا ہے جو شرعی معذور نہ ہو اور اگر مستحاضہ عورت شرعی معذور (ہر وہ شخص جس کو کوئی ایسی بیماری یا عارضہ ہوکہ ایک نماز کا اوّل تا آخرپورا وقت ایسا گزر گیا کہ وُضو کے ساتھ نمازِ فرض ادا نہ کرسکا، وہ شرعی معذور ہے) ہو، تو اس کے لیے حکم شرعی یہ ہے کہ اگر کسی ترکیب سے اپنا عذر ختم کر سکتی ہے یا اس میں کمی لا سکتی ہے، تو نماز وغیرہ کی ادائیگی کے لیے اس صورت کو اختیار کرنا، واجب ہوگا۔ اور عذر سے نکلنے کی صورتیں مختلف عورتوں کے لیے مختلف ہو سکتی ہیں، مثلاً مخصوص مقام میں روئی یا کپڑا رکھنا، مینسٹرل کپ استعمال کرنا یا کھڑے ہو کر خون بہتا ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھنا وغیرہ، لہٰذا معذورِ شرعی مستحاضہ عورت عذر کو ختم یا کم کرنے کے لیے اپنی قدرت و اختیار کے مطابق روئی، کپڑا، مینسٹرل کپ وغیرہ جو استعمال کرنا چاہے، کرسکتی ہے، علی التعیین خاص مینسٹرل کپ استعمال کرنا ضروری نہیں، بلکہ جس عورت کے لیے جو صورت یا چیز میسر ہو، اسی کو اپنا لے اور شرعی معذور کی صورت سے نکلے اور جو کسی بھی طرح شرعی عذر سے نکلنے پر قادر نہ ہو ، اس پر کچھ بھی لازم نہیں۔
مینسٹرل کپ استعمال کرنے کی صورت میں وضو و طواف کا حکم:
شرعی اُصول یہ ہے کہ نجاست جب تک اپنے معدن و محل میں ہو، اس پر نجاست کا حکم نہیں ہوتا، یعنی پیشاب، پاخانہ، خون وغیرہ جب تک جسم کے اندر اپنی جگہ میں ہیں، بندے پر ان کی وجہ سے ناپاکی کا حکم نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ نجاست اٹھانے والا شمار ہوتا ہے ، بلکہ جب یہ چیزیں اپنے محل سے خارج ہو تی ہیں ، تب نجاست کے احکام لاگو ہوتے ہیں، اسی وجہ سے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ خون وغیرہ نجاست جب تک فرجِ داخل میں ہو، خارج کی طرف نہ آئے، طہارت زائل نہیں ہوتی، ہاں! جیسے ہی خون فرجِ داخل سے فرجِ خارج کی طرف آئے گا، اگرچہ ایک قطرے کی مقدار ہی ہو، خواہ ابھی فرجِ خارج کے بیرونی لبوں (Outer Labia) کے اندر ہی ہو، ظاہرِ بدن پر نہ آیا ہو، طہارت زائل ہو جائے گی، یعنی استحاضہ (بیماری کا خون) ہونے کی صورت میں وضو اور حیض و نفاس ہونے کی صورت میں غسل باقی نہیں رہے گا۔ اور چونکہ مینسٹرل کپ میں آنے والا استحاضہ کا خون جب تک فرجِ داخل میں موجود ہوتا ہے، اپنے محل میں ہی ہوتا ہے، لہٰذا ناپاک اور طہارت کو زائل کرنے والا نہیں ہوگا اور جس عورت نے مذکورہ کپ استعمال کیا، وہ نجاست کو اٹھانے والی بھی شمار نہیں ہوگی۔ اور چونکہ اس کے سبب وضو بھی نہیں ٹوٹتا، لہٰذا ایسی مستحاضہ عورت اس کپ کو لگانے کے بعد باوضو حالت میں طواف بھی کر سکتی ہے۔
یاد رہے! بیان کردہ حکمِ شرعی استحاضہ والی عورت کے متعلق ہے، اگر کسی عورت نے حیض کے خون کو روکنے یا جمع کرنے کے لیے مینسٹرل کپ استعمال کیا، تو اس کے احکام جداگانہ ہیں۔
بالترتیب جزئیات ملاحظہ کیجیے!
مستحاضہ عورت کے لیے بدن اور کپڑوں کو آلودہ ہونے سے بچانے کے لیے کرسف، کپڑا وغیرہ استعمال کرنے کی اجازت ہے کہ خودنبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کی تعلیم ارشاد فرمائی، چنانچہ سنن ترمذی ، سنن ابو داؤد ، مسند احمد، دارقطنی، سنن کبریٰ اور مستدرک وغیرہا کتبِ احادیث میں ہے،
و اللفظ للاوّل: حمنة بنت جحش قالت: كنت أستحاض حيضة كثيرة شديدة، فأتيت النبي صلى اللہ عليه و سلم أستفتيه و أخبره، فوجدته في بيت أختي زينب بنت جحش، فقلت: يا رسول اللہ، إني أستحاض حيضة كثيرة شديدة، فما تأمرني فيها، فقد منعتني الصيام و الصلاة؟ قال: «أنعت لك الكرسف، فإنه يذهب الدم» قالت: هو أكثر من ذلك، قال: «فتلجمي» قالت: هو أكثر من ذلك، قال: «فاتخذي ثوبا» قالت: هو أكثر من ذلك، إنما أثج ثجا... الخ
ترجمہ حضرت حمنہ بنت جحش رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ مجھے بہت زیادہ اور سخت قسم کا استحاضہ ہو گیا تھا، میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کی خدمت میں مسئلہ پوچھنے اور اپنی حالت بتانے کے لیے حاضر ہوئی، تو میں نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اپنی بہن حضرت زینب بنت جحش رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر میں پایا۔میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! مجھے بہت زیادہ اور شدید استحاضہ ہوتا ہے، اس نے مجھے روزہ اور نماز سے روک دیا ہے، آپ مجھے اس کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے فرمایا:میں تمہیں روئی استعمال کرنے کا مشورہ دیتا ہوں، کیونکہ وہ خون کو روک لیتی ہے۔ میں نے عرض کیا:یہ اس سے بھی زیادہ ہے، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: تو لنگوٹ باندھ لو۔ میں نے عرض کیا: یہ اس سے بھی زیادہ ہے، فرمایا: تو کوئی کپڑا استعمال کر لو۔ میں نے عرض کیا: یہ اس سے بھی زیادہ ہے، بلکہ خون تو زور سے بہتا ہے۔ (سنن ترمذی، ابواب الطھارۃ، جلد 1، صفحہ 221، مطبوعہ مصر)
مذکورہ حدیثِ پاک کےالفاظ
أنعت لك الكرسف، فإنه يذهب الدم
کے تحت شیخِ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی حنفی بخاری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1052ھ) لکھتےہیں:
(فإنه يذهب الدم) من الاذهاب أي: يمنع خروجه إلى ظاهر الفرج
ترجمہ: یذھب، ذھاب سے ماخوذ ہے اور معنیٰ یہ ہے کہ کرسف خون کو فرجِ خارج کی طرف نکلنے سے روک لیتا ہے (اس لیے اس کے استعمال کی تعلیم ارشاد فرمائی)۔ (لمعات التنقیح، جلد 2، صفحہ 301، مطبوعہ دار النوادر، دمشق)
محیط برہانی، بنایہ، بحر الرائق، ذخر المتاہلین و غیرہا کتبِ فقہ میں ہے،
و اللفظ للآخر: و أما الكرسف: فسنة للبكر عند الحيض فقط، و للثيب مطلقا. و يسن تطييبه بمسك و نحوه
ترجمہ: اور کرسف، تو کنواری عورت کے لیے یہ صرف حیض کی حالت میں سنت ہے اور شادی شدہ عورت کے لیے ہر حال میں سنت ہے۔ اور اسے کستوری وغیرہ سے خوشبو دار کرنا بھی سنت ہے۔ (ذخر المتاھلین و النساء، صفحہ 72، مطبوعہ دار الفکر)
جس کو وضو ٹوٹنے کا کوئی عارضہ (مثلاً خون یا پیشاب کے قطرے کا عارضہ) لاحق ہو، اگر وہ اس کو روک سکتا ہو، تو اسےروکنے کی تدبیر اختیار کرے، تاکہ وضو باقی رہے، بلکہ شرعی معذور کے لیے اپنی قدرت و اختیار کے مطابق ایسی کوئی ترکیب و تدبیر کرنا، لازم ہوتا ہے، چنانچہ فتاوی عالمگیری، رد المحتار اور دیگر کتبِ فقہ میں ہے،
و اللفظ للآخر: و من كان بطيء الاستبراء فليفتل نحو و رقة مثل الشعيرة و يحتشي بها في الاحليل فإنها تتشرب ما بقي من أثر الرطوبة التي يخاف خروجها، و ينبغي أن يغيبها في المحل لئلا تذهب الرطوبة إلى طرفها الخارج
ترجمہ: جس شخص کو تاخیر سے طہارت حاصل ہوتی ہو وہ جَو کے دانے برابر (روئی وغیرہ کا) پتّا وغیرہ بٹ کر اسے عضو مخصوص کے سوراخ میں ڈالے، یہ رطوبت کے باقی ماندہ اثر جس کے نکلنے کا ڈر ہے، اس کو جذب کرلے گا اور چاہیے یہ کہ اسے اندر غائب کر دے، تاکہ رطوبت اس کی باہر والی جانب نہ نکلے۔ (رد المحتار، کتاب الطھارۃ، جلد 1، صفحہ 614، 615، مطبوعہ کوئٹہ)
شرعی معذور کے حکم کے متعلق فتح القدیر، بحر الرائق مع منحۃ الخالق، تبیین الحقائق، اللباب اور در مختار وغیرہا کتبِ فقہ میں ہے،
و اللفظ للآخر: يجب رد عذره أو تقليله بقدرقدرته و لو بصلاته موميا و برده لا يبقى ذا عذر بخلاف الحائض
ترجمہ: شرعی معذور پر اپنی قدرت کے مطابق اپنے عذر کو ختم کرنا یا کم کرنا واجب ہے، اگرچہ یوں کہ اشارے سے نماز ادا کر لے اور جب کسی بھی طرح اس نے اپنا عذر ختم کر لیا، تو یہ معذور باقی نہیں رہے گا، بر خلاف حائضہ کے (کہ وہ خون روک بھی لے ، تو حائضہ ہی رہے گی)۔
مذکورہ عبارت کے تحت ردالمحتار میں ہے:
و متى قدر المعذور على رد السيلان برباط أو حشو أو كان لو جلس لا يسيل و لو قام سال وجب رده، و خرج برده عن أن يكون صاحب عذر، و يجب أن يصلي جالسا بإيماء إن سال بالميلان؛ لأن ترك السجود أهون من الصلاة مع الحدث
ترجمہ: اور جب شرعی معذور پٹی باندھ کر یا روئی وغیرہ رکھ کر خون وغیرہ بہنے کو روکنے کی قدرت رکھتا ہو یا اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو زخم نہیں بہے گا، کھڑا ہونے کی صورت میں بہے گا، تو اس کو روکنا اس پر واجب ہے اور اسے روک لینے کی صورت میں وہ معذور نہیں رہے گا۔ اور اگر (رکوع و سجدہ کی حالت میں) جھکنے میں بہتا ہو، تو اس پر بیٹھ کر اشارے کے ساتھ نماز پڑھنا، لازم ہے، کیونکہ سجدہ چھوڑ دینا حدث کے ساتھ نماز پڑھنے سے ہلکا ہے۔ (درمختار مع ردالمحتار، جلد 1، صفحہ 558، 559، مطبوعہ کوئٹہ)
امامِ اہلِ سنّت الشاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ شرعی معذور کے متعلق کیے گئے ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:
اذا کان احتشاؤہ یردمابہ کما وصف فی السؤال فقدخرج عن حد العذر والتحق بالاصحاء یتوضأ لکل حدث ویغسل کل نجس ویؤم کل نفس ولایعذر فی ترک الاحتشاء بل ھو فریضۃ علیہ کفریضۃ الصلاۃ... و المسألہ ظاھرۃ و فی الزبر دائرۃ اما تعسرہ فی العجلۃ الدخانیۃ فضلا عن تعذرہ فلا یظھرلہ وجہ فان من سافر فحمل معہ زادہ لایثقل علیہ القطن ان زادہ وان کان یزعم انہ یخرج بصدمات الحرکۃ فلیطولہ و لیسفلہ و لیربط العضو الی فوق۔
یعنی: اگر رُوئی رکھنے سے اس کے قطرے ٹپکنے بند ہوجاتے ہیں ،جیسا کہ سوال میں بیان کیا تو وہ عذر کی حد سے نکل گیا اور صحیح افراد کے ساتھ شامل ہوگا۔ ہر حدث (اصغر) کے بعد وضو کرے جہاں نجاست لگی ہو اسے دھوڈالے اور ہر ایک کی امامت کراسکتا ہے اس سے رُوئی نہ رکھنے کا عذر قبول نہ ہوگا، بلکہ نمازکی طرح روئی رکھنا بھی اس پر فرض ہے۔۔۔ مسئلہ ظاہر ہے اور (تمام) کتب میں موجود ہے بھاپ سے چلنے والی گاڑی میں مشکل پیش آنے، نہ کہ متعذر ہونے کی بظاہر کوئی وجہ نہیں، کیونکہ جو آدمی سفر کرتے ہوئے زادِ راہ لے جاتا ہے وہ اگر اس میں رُوئی کا اضافہ کرلے تو کوئی بوجھ نہیں پڑتا۔ اور اگر اس کا خیال یہ ہے کہ گاڑی کی بار بار حرکت سے رُوئی نکل جائیگی تو وہ اسے لمبا کرکے نیچے کی طرف کرے اوراوپر کی طرف سے عضو کو باندھ دے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 4، صفحہ 368، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن)
اور بہارِ شریعت میں ہے: اگر کپڑاوغیرہ رکھ کر اتنی دیر تک خون روک سکتی ہے کہ وُضو کرکے فرض پڑھ لے توعذر ثابت نہ ہوگا۔۔۔ اگر کسی ترکیب سے عذر جاتا رہے یا اس میں کمی ہو جائے تو اس ترکیب کا کرنا فرض ہے، مثلاً کھڑے ہو کر پڑھنے سے خون بہتا ہے اور بیٹھ کر پڑھے تو نہ بہے گا، تو بیٹھ کر پڑھنا فرض ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 385، 387، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بعض فقہائے کرام کے نزدیک کرسف کو فرجِ داخل میں رکھنا، (بلاحاجت) مکروہ و ناپسندیدہ ہے، چنانچہ محیط برہانی میں ہے:
أن اتخاذ الكرسف... و عن محمد بن سلمة البلخي رحمه اللہ أنه يكره للمرأة أن تضع الكرسف في الفرج الداخل، قال: لأن ذلك يشبه النكاح بيدها
ترجمہ: کرسف (روئی) كا استعمال... حضرت محمد بن سلمہ بلخی علیہ الرحمۃ سے منقول ہے کہ عورت کے لیے فرجِ داخل میں کرسف رکھنا مکروہ ہے، فرماتے ہیں کہ اس میں نکاح بالید کے ساتھ مشابہت ہے۔ (محیط برھانی، جلد 1، صفحہ 615، مطبوعہ بیروت)
بنایہ، بحر الرائق، ذخر المتاہلین وغیرہا میں اس مسئلہ کو محیط برہانی کے حوالے سے ہی بیان کیا گیا ہے اور محیط میں یہ قول صرف حضرت محمد بن سلمہ بلخی علیہ الرحمۃ سے منقول ہے اور ظاہراً اس کی علت قوی نہیں، پھر بھی اگر مکروہ ہو، تو مکروہ تنزیہی ہی ہوسکتا ہے۔ نجاست جب تک اپنے معدن میں موجود ہو، اس پر حکمِ نجاست نہیں، چنانچہ محیط برہانی، بنایہ، فتح القدیر، رد المحتار وغیرہا کتبِ فقہ میں ہے،
و اللفظ للاوّل: و الشيء في معدنه و مصابه لا يعطى حكم النجاسة، ألا ترى أن الرجل إذا صلى و في كمه بيضة حال محّها دماً فصلاته جائزة
ترجمہ: جو چیز اپنے معدن و اصل مقام میں ہو، اس پرحکمِ نجاست نہیں ہو تا، کیا تم دیکھتے نہیں کہ اگر کسی شخص نے اس حال میں نماز پڑھی کہ اس کی آستین میں ایسا انڈا تھا، جس کی زردی خون ہو چکی تھی، تب بھی اس کی نماز جائز ہے۔ (محیط برھانی، جلد 1، صفحہ 115، مطبوعہ بیروت)
رد المحتار میں یوں بیان کیا گیا:
إن النجاسة ما دامت في محلها لا عبرة لها
یعنی: نجاست جب تک اپنے محل میں ہو، اس کا اعتبار نہیں ہوتا (یعنی اس پر حکمِ نجاست نہیں ہوتا)۔ (رد المحتار، کتاب الطھارۃ، جلد 1، صفحہ 336، مطبوعہ کوئٹہ)
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت الشاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: اصل کلی یہ ہے کہ کوئی نجاست اپنے معدن میں حکم نجاست نہیں پاتی، ورنہ نماز محال ہو کہ خود بدن مصلی خون وغیرہ سے کبھی خالی نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 455، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
خون وغیرہ نجاست جب تک فرجِ داخل میں ہو، مزیلِ طہارت نہیں، جب فرجِ خارج میں آئے گی، توطہارت زائل ہو گی، جیسا کہ عامہ کتبِ فقہ میں ہے،
و اللفظ للمحیط البرھانی: و حكم الفرج الباطن حكم قصبة الذكر، لا يعطى للخارج إليه حكم الخروج و الفرج الظاهر بمنزلة القلفة يعطى للخارج إليه حكم الخروج
ترجمہ: اور فرج داخل کا حکم مرد کے عضوِ تناسل کے قصبۂ ذکر (اندرونی حصے) جیسا ہے، چنانچہ اگر کوئی چیز وہاں تک پہنچے، تو اسے خارج ہونا یعنی باہر نکلنا نہیں کہا جائے گا۔ اور فرج خارج کا حکم مرد کے عضو کے قلفہ (کھال) کی مانند ہے، اس لیے اگر کوئی چیز وہاں پہنچ جائے تو اسے خارج شمار کیا جائے گا۔ (محيط برهاني، جلد 1، صفحہ 215، مطبوعہ بیروت)
امامِ اہلِ سنّت رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:
تظافر نصوص المذھب ان نزول شیئ الی الفرج الداخل لاینقض طھرا قط ما لم یجاوزہ الی الفرج الخارج
ترجمہ: مذہب کی نصوص کا اس پر اتفاق ہے کہ فرج داخل میں کسی نجاست کا اُتر آنا، ناقضِ طہارت نہیں، جب تک اس سے بڑھ کر فرج خارج تک نہ آ جائے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 1، الف، صفحہ 421، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Fsd-9740
تاریخ اجراء: 26 رجب المرجب 1447 ھ / 16 جنوری 2025ء