logo logo
AI Search

عمرے کے حلق کے بغیر دوسرے عمرے کی نیت کرنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ایک عمرے کا حلق کروائے بغیر دوسرے عمرے کی نیت سے طواف و سعی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید پاکستان سے گیا اور عمرہ کیا، ابھی حلق نہیں کیا تھا کہ اس کے دل میں آیا میں اس کے ساتھ ہی دوسرا عمرہ بھی کر لیتا ہوں، چنانچہ اس نے حرم پاک میں ہی دوسرے عمرہ کی نیت سے دوبارہ طواف اور سعی کر لئے، دوسرے عمرہ کی نیت کرتے وقت تلبیہ یا اس کے قائم مقام کسی ذکر کو نہیں پڑھا، محض دوسرے عمرے کی نیت دل میں موجود تھی اور حلق سے پہلے اس نے دوبارہ طواف اور سعی کرلی، پھر اس کے بعد حلق کیا، ایسی صورت میں زید پر کوئی کفارہ لازم ہوگا یا نہیں ؟

جواب

حج یا عمرے کا احرام شروع ہونے کیلئے ضروری ہے کہ نیت کے ساتھ ساتھ تلبیہ یا اس کے قائم مقام کوئی چیز پائی جائے، اگر صرف نیت دل میں موجود ہو مگر تلبیہ یا اس کے قائم مقام کوئی چیز نہ پائی جائے تو احرام شروع نہیں ہوتا، لہذا زید نے پہلے عمرے اور سعی کے بعد جب دوسرے عمرے کی نیت حرم میں کی اور اس کے ساتھ تلبیہ یا اس کے قائم مقام کوئی ذکرنہ پایا گیا تو دوسرا عمرہ بھی شروع نہ ہوا، حلق سے پہلے دوسری مرتبہ کا طواف اور سعی جب بغیر عمرے کے پائے گئے تو یہ ایک اضافی نفلی طواف اور اضافی غیر ضروری سعی ہوگی اور عمرہ مکمل ہونے سے پہلے ہی اضافی طواف و ضروری سعی کر لینا اگرچہ پسندیدہ نہیں ہے مگر  ان سے کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا، کیونکہ اضافی طواف اور سعی کسی جرم و جنایت میں نہیں آتے نیز یہ اضافی طواف و سعی پہلے عمرے کے حلق میں تاخیر کا باعث ضرور بنے مگر حلق میں تاخیر سے کوئی کفارہ لازم نہیں ہوتا۔

صرف نیت ہو لیکن تلبیہ یا اس کے قائم مقام کوئی چیز نہ پائی گئی تو احرام شروع نہیں ہوگا۔ مبسوط للامام السرخسی میں ہے: ”لا يصير محرما بمجرد النية ما لم يأت بالتلبية أو ما يقوم مقامها“ ترجمہ: صرف نیت کرنے سے احرام میں نہیں آئے گا جب تک تلبیہ یا اس کے قائم مقام کوئی چیز نہ پائی جائے۔ (مبسوط للامام السرخسی جلد 4، صفحہ 7، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے: ” احرام کے لیے نیت شرط ہے اگر بغیر نیت لبیک کہا احرام نہ ہوا۔ یوہیں تنہا نیت بھی کافی نہیں جب تک لبیک یا اس کے قائم مقام کوئی اور چیز نہ ہو۔ “ (بہار شریعت جلد 1، حصہ 6، صفحہ  1074، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

عمرہ میں حلق سے پہلے نفلی طواف اگرچہ جائز ہے مگر بہتر نہیں ہے۔ مؤطا امام محمد میں ہے: ”أخبرنا مالك، أخبرنا عبد الرحمن بن القاسم: أن أباه القاسم كان يدخل مكة ليلا وهو معتمر فيطوف بالبيت وبالصفا والمروة ويؤخر الحلاق حتى يصبح، ولكنه لا يعود الى البيت فيطوف به حتى يحلق، وربما دخل المسجد فأوتر فيه، ثم انصرف فلم يقرب البيت قال محمد: لا بأس بأن يدخل مكة ان شاء ليلا وان شاء نهارا، فيطوف ويسعى ولكنه لا يعجبنا له أن يعود فی الطواف حتى يحلق أو يقصر كما فعل القاسم۔“

عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد قاسم رحمہ اللہ عمرے کا احرام باندھے جب رات میں مکہ میں داخل ہوتے تو وہ بیت اللہ شریف کا طواف کرتے اور صفا و مروہ کے چکر پورے کرتے، اور حلق کو صبح تک مؤخر کر دیتے لیکن حلق سے پہلے وہ بیت اللہ کے طواف کی طرف نہیں آتے تھے، کبھی کبھار ایسا ہوتا کہ وہ مسجد میں داخل ہوتے اور وتر ادا کرتے مگر طواف نہیں کرتے تھے۔ امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مکہ میں چاہے رات میں داخل ہو یا دن میں، دونوں صورتوں میں کوئی حرج نہیں ہے اور داخل ہونے والا طواف و سعی کرے مگر یہ ہمیں پسند نہیں ہے کہ وہ حلق یا تقصیر سے پہلے دوبارہ طواف شروع کرے، جس طرح کہ امام قاسم رحمہ اللہ نے کیا۔ (موطا امام محمد جلد 2، صفحہ  371، مطبوعہ بیروت)

مذکورہ روایت میں ”ولكنه لا يعود“ کے الفاظ کے تحت علامہ عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ حاشیے میں تحریر فرماتے ہیں: ”لیقع التوالی بین طواف العمرۃ والحلق من غیر فصل بینھما وان کان ذلک ایضا جائزا“ ترجمہ: حلق سے پہلے دوبارہ طواف اس لئے نہ کرتے تھے تاکہ عمرہ کے طواف اور حلق کے درمیان فاصلہ نہ ہوتے ہوئے تسلسل برقرار رہے، اگرچہ حلق سے پہلے دوبارہ طواف کرنا، جائز ہے۔ (موطا امام محمد جلد 2، صفحہ 372، مطبوعہ بیروت)

مزید ”ولكنه لا يعجبنا“ کے تحت فرمایا: ”أی لا یسرنا ولا یستحب عندنا للداخل بمکۃ أن یعود فی الطواف نفلا حتی یحلق رأسہ أو یقصر شعر رأسہ فیتم أفعا ل عمرتہ، ثم یاتی بالطواف ما شاء کما فعل۔۔۔القاسم بن محمد بن أبی بکر الصدیق أحد الفقھاء السبعۃ بالمدینۃ“ ترجمہ: ہمیں خوش نہیں کرتا اور ہمارے نزدیک مکہ میں داخل ہونے والے کیلئے مستحب نہیں ہے کہ وہ حلق یا تقصیر کرانے سے پہلے ہی نفلی طواف شروع کردے بلکہ وہ پہلے اپنے عمرے کے افعال مکمل کرے پھر جتنے طواف چاہے کرے، جیسا کہ قاسم بن محمد بن ابی بکر الصدیق نے کیا جو مدینے کے سات فقہاء میں سے ایک ہیں۔ (موطا امام محمد جلد 2، صفحہ 372، مطبوعہ بیروت)

عمرے کے حلق میں تاخیر سے کوئی کفارہ لازم نہیں آتا۔ مبسوط للامام السرخسی میں ہے: ”فأما فی العمرة فلا يتوقت الحلق بزمان حتى لو أخر الحلق فيه شهرا لا يلزمه شیء لأن أصل العمرة لا يتوقت بالزمان، وما هو الركن، وهو الطواف فيه أيضا لا يتوقت من حيث الزمان فكذلك الحلق فيه لا يتوقت“ ترجمہ: عمرے میں حلق کسی زمانے کے ساتھ خاص نہیں ہے، اگر ایک مہینے تک بھی حلق نہ کرایا تب بھی کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا کیونکہ عمرہ کی اصل کسی زمانے کے ساتھ خاص نہیں ہے، عمرے میں جو رکن ہے یعنی طواف وہ بھی کسی زمانے کے ساتھ خاص نہیں ہے تو اسی طرح حلق بھی اس میں کسی زمانے کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ (مبسوط للامام السرخسی جلد 4، صفحہ  81، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے: ”عمرہ کا حلق بھی حرم ہی میں ہونا ضرور ہے، اس کا حلق بھی حرم سے باہر ہوا تو دَم ہے مگر اس میں وقت کی شرط نہیں۔“ (بہار شریعت جلد 1، حصہ 6، صفحہ  1179، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)                                   

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Gul-3120
تاریخ اجراء: 01 شعبان المعظم 1445 ھ / 12 فروری 2024ء