احرام کی نیت سے پہلے خوشبو والا تیل لگانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
احرام کی نیت کرنے سے قبل خوشبو والا تیل سرپر لگانا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
احرام کی نیت سے پہلے سر پر خوشبو والا تیل لگانا، جائز ہے، اگرچہ احرام کی نیت کے بعد خوشبو والا تیل سر پر رہے، کیونکہ احرام کی نیت کرنے سے پہلے بدن پر خوشبو لگانا نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کے عملِ مبارک سے ثابت ہے۔ بخاری شریف میں ہے ”عن عائشة رضي اللہ عنها قالت: كنت أطيب النبي صلى اللہ عليه و سلم عند إحرامه بأطيب ما أجد“ ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کو آپ کے احرام کے وقت عمدہ سے عمدہ خوشبو، جو مجھےملتی، وہ لگاتی تھی۔ (صحیح البخاری، صفحہ 1094، رقم الحدیث 5923، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
حدیث میں بیان کردہ خوشبو لگانے کا عمل احرام کی نیت سے پہلے کا ہے، جیساکہ عمدۃ القاری میں ہے ”في رواية أبي أسامة: بأطيب ما أقدر عليه قبل أن يحرم ثم يحرم“ ترجمہ: حضرت ابو اسامہ کی روایت میں یوں ہے کہ: میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کے نیتِ احرام کرنے سے پہلے حسبِ قدرت سب سے بہترین خوشبو لگایا کرتی تھی، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نیتِ احرام فرماتے۔ (عمدۃ القاری، جلد 22، صفحہ 61، مطبوعہ: بیروت)
احرام کی نیت سے پہلے بدن اور کپڑوں پر خوشبو لگانا احرام کی سنتوں میں سے ہے، جیسا کہ علامہ علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: سننہ:۔ ۔ ۔ التطیبُ ای استعمال الطیب فی البدن و الثوب قبل الاحرام“ ترجمہ: احرام کی سنتوں میں سے ایک خوشبو لگانا ہے، یعنی احرام سے پہلے اپنے جسم اور کپڑوں پر خوشبو استعمال کرنا۔ ( المسلک المتقسط شرح لباب المناسک، صفحہ 127، مطبوعہ: پشاور)
بہار شریعت میں ہے بدن اور کپڑوں پر خوشبو لگائیں کہ سنت ہے، اگر خوشبو ایسی ہے کہ اُس کا جِرم باقی رہے گا جیسے مشک وغیرہ تو کپڑوں میں نہ لگائیں۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1072، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو الفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5204
تاریخ اجراء: 06 صفر المظفر 1448ھ / 21 جولائی 2026ء