احرام میں بیلٹ کے ساتھ پاؤچ یا چھوٹا بیگ باندھنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
احرام کی حالت میں بیلٹ کے ساتھ چھوٹا بیگ باندھ سکتے ہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
پوچھی گئی صورت میں پیسے وغیرہ ضروری چیزیں رکھنے کے لیے آپ بیلٹ کے ساتھ جیب والا پاؤچ یا چھوٹا بیگ لگا کر کمر پر باندھ سکتے ہیں؛ اس لیے کہ احرام کی حالت میں پاسپورٹ، دیگر ڈاکومنٹس اور کیش وغیرہ رکھنے کی نیت سے جیب والا بیلٹ باندھنا بلا کراہت جائز ہے، ہاں اگر بیلٹ یا ناڑا وغیرہ احرام کی تہبند کسنے کے لیے باندھا جائے، تو مکروہ ہے۔
فقیہِ حنفیہ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1069ھ / 1658ء) لکھتے ہیں: ”الهميان بالكسر ما يجعل فيه الدراهم و يشد على الحقو و لا يكره شده سواء كان به نفقته أو نفقة غيره“ ترجمہ: ہمیان، ہا کی زیر کے ساتھ، وہ چیز ہے جس میں دراہم (پیسے) رکھے جاتے ہیں اور اسے کمر پر باندھا جاتا ہے، اور (حالتِ احرام میں) اس کا باندھنا مکروہ نہیں، خواہ اس میں اس کا اپنا نفقہ (خرچ) ہو یا کسی دوسرے کا نفقہ۔ (حاشیة الشرنبلالی علی درر الحکام، کتاب الحج، مواقيت الإحرام، جلد 1، صفحہ 222، دار إحياء الكتب العربية)
علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں: ”و لا فرق بين كون النفقة له أو لغيره كما في شرح اللباب و لا بين شده فوق الإزار أو تحته لأنه لم يقصد به حفظ الإزار بخلاف ما إذا شد إزاره بحبل مثلا“ ترجمہ: اور اس میں کوئی فرق نہیں کہ (ہمیانی میں) نفقہ اس کا اپنا ہو یا کسی دوسرے کا، جیسا کہ شرح لباب میں ہے، اور اسے تہبند کے اوپر باندھنے یا اس کے نیچے باندھنے میں بھی کوئی فرق نہیں؛ کیونکہ اس سے مقصود تہبند کو سنبھالنا نہیں ہے، برخلاف اس صورت کے کہ جب کوئی اپنے تہبند کو مثلاً رسی کے ذریعے باندھے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحج، فصل في الإحرام، جلد 2، صفحہ 490-491، دار الفکر، بیروت)
علامہ علاؤ الدین محمد بن علی حصکفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1088ھ / 1677ء) لکھتے ہیں: ”فإن زرره أو خلله أو عقده أساء ولا دم عليه“ ترجمہ: پس اگر احرام کی چادر کو بٹن لگایا یا اسے سوئی (یا پن وغیرہ) سے جوڑ لیا یا اسے گرہ لگا لی تو اس نے برا عمل کیا، البتہ اس پر دم لازم نہیں۔ (الدر المختار شرح تنویر الابصار، کتاب الحج، فصل في الإحرام، صفحہ 158، دار الکتب العلمیة، بیروت)
علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ/1836ء) اس کے تحت لکھتے ہیں: ”و كذا لو شده بحبل و نحوه لشبهه حينئذ بالمخيط من جهة أنه لا يحتاج إلى حفظه“ ترجمہ: اور اگر تہبند کو رسی یا اس جیسی کسی چیز سے باندھ لیا تو بھی یہی حکم ہے (یعنی برا کیا لیکن دم نہیں)؛ اس لیے کہ وہ اس وقت سلے ہوئے کپڑے کے مشابہ ہو جاتا ہے، اس وجہ سے کہ (پھر) اسے سنبھالنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحج، فصل في الإحرام، جلد 2، صفحہ 481، دار الفکر، بیروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) مکرو ہات احرام بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”تہبند باندھ کر کمر بند سے کسنا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 734، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
امیر اہل سنت مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں: ”(حالت احرام میں) رقم وغیرہ رکھنے کی نیت سے جیب والا بیلٹ باندھنے کی اجازت ہے۔ البتہ صرف تہبند کو کسنے کی نیت سے بیلٹ یا رسی وغیرہ باندھنا مکروہ ہے۔“ (رفیق الحرمین، صفحہ 81، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-1233
تاریخ اجراء: 04 محرم الحرام 1448ھ / 20 جون 2026ء