عمرہ میں سعی کرنا بھول گیا اور سعی سے پہلے احرام کھول دیا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عمرے میں سعی کرنے سے پہلے حلق کروالیا تو کیا حکم ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص عمرہ میں لاعلمی کی وجہ سے سعی کیے بغیر احرام کھولنے کی نیت سے سر منڈا کر احرام اُتار دے ، تو اس کا کیا کفارہ ہوگا، کیا دَم دینا پڑے گا یا دوبارہ عمرہ کرنا ہوگا؟
جواب
عمرے میں سعی کرنا واجب ہے اور اس سعی میں ایک واجب یہ ہے کہ حلق یا تقصیر سے پہلے حالتِ احرام میں سعی کی جائے اور سعی کرنے سے پہلے ہی حلق یا تقصیر کروا لینے سے دم لازم ہوجاتا ہے، لیکن اس سے سعی ساقط نہیں ہوتی، بلکہ اب بھی اس کی ادائیگی واجب ہی رہتی ہے، یعنی دم دینا بھی ضروری ہے اور رہ جانے والی سعی کرنا بھی ضروری ہے، البتہ اب سعی کے لیے دوبارہ احرام باندھنا ضروری نہیں، بلکہ عمرہ کرنے والاجب سعی سے پہلے حلق کروا کر احرام کھول دے، تو اب بغیر احرام کے عام لباس میں ہی سعی کرے گا۔
اس تفصیل کے بعد پوچھی گئی صورت کا متعین جواب یہ ہے کہ جس شخص نے لاعلمی کی وجہ سے سعی کیے بغیر احرام اتارنے کی نیت سے سر منڈوایا اور احرام اتاردیا، اُس پر حدودِ حرم کے اندرایک دم ادا کرنا لازم ہوچکا اور اب حکم یہ ہے کہ وہ سعی بھی کرے اور دم بھی ادا کرے، مکمل عمرہ کرنا لازم نہیں اور اب سعی کے لیے دوبارہ احرام باندھنا بھی ضروری نہیں، بلکہ بغیر احرام کے عام لباس میں ہی سعی کرلے۔ اور دَم سے مراد ایک بکرا ہے، اِس میں نَر، مادہ، دُنبہ، بھیڑ، نیز گائے یا اونٹ کا ساتواں حصہ سب شامل ہیں، نیز اِس جانور کا حدودِ حرم میں ذبح ہونا شرط ہے، مزید یہ کہ اِس دم میں دئیے جانے والے جانور میں سے نہ تو خود کچھ کھا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی غنی کو کھلا سکتے ہیں، بلکہ وہ صرف محتاجوں کا حق ہے۔
عمرے میں حلق یا تقصیر سے پہلے سعی کرنا واجب ہے، چنانچہ شمس الائمہ، امام سَرَخْسِی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 483ھ / 1090ء) لکھتے ہیں: ”و السعي من أعمال العمرة فعليه أن يأتي به قبل التحلل بالحلق“ ترجمہ: اور سعی عمرے کے افعال میں سے ہے، لہٰذا عمرہ کرنے والے پر واجب ہے کہ حلق کے ذریعے احرام سے باہر نکلنے سے پہلے سعی کا واجب ادا کرے۔ (المبسوط، جلد 4، صفحہ 52، مطبوعہ دارالمعرفہ، بیروت، لبنان)
حلق یا تقصیر سے پہلے سعی، حالتِ احرام میں کرنا واجب ہے، چنانچہ سعی کے واجبات بیان کرتے ہوئے علامہ شیخ رحمت اللہ بن عبد اللہ سندھی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 993ھ / 1585ء) لکھتے ہیں: ”و کونہ فی حالۃ الاحرام فی سعی العمرۃ“ ترجمہ: اور عمرہ کی سعی کرنے والے کا حالتِ احرام میں ہونا واجب ہے۔ (لباب المناسک و عباب المسالک، باب السعی بین الصفا و المروۃ، صفحہ 128، مطبوعہ دار قرطبہ)
اور سعی سے پہلے حلق کروالینے سے دم واجب ہونے اور سعی ساقط نہ ہونے کے متعلق علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ / 1605ء) لکھتے ہیں: ”یجب أن لا یحلّ بحلق أو تقصیر حتی یسعی بینھما فإنّہ لو خالفہ یجب علیہ دم و لا یسقط عنہ السعی اتّفاقاً“ ترجمہ: عمرہ کرنے والے پر واجب ہے کہ جب تک سعی نہ کرلے، حلق یا تقصیر کے ذریعے احرام نہ کھولے، پس اگر اس نے اس کی مخالفت کی (یعنی سعی سے پہلے حلق یا تقصیر کر کے احرام اتار دیا)، تو اس پر بالاتفاق دم واجب ہوگا اور سعی بھی ساقط نہیں ہوگی۔ (شرح لباب المناسک مع حاشیۃ ارشاد الساری، باب السعی بین الصفا و المروہ، صفحہ 248، مطبوعہ مکہ)
مزید اسی میں لکھتے ہیں: ”لو طاف ثم حلق ثم سعی صحّ سعیہ و علیہ دم لتحلّلہ قبل وقتہ و سبقہ علی أداء واجبہ“ ترجمہ: اگر عمرہ کرنے والے نے طواف کر کے حلق کروالیا، پھر سعی کی، تو اس کی سعی درست ہو گئی، مگر وقت سے پہلے اِحرام کھول کر حلال ہونے اور واجب کی ادائیگی سے پہلے حلق کروانے کی وجہ سے اس پر دم لازم ہوگا۔ (شرح لباب المناسک مع حاشیۃ ارشاد الساری، باب السعی ۔۔ الخ، صفحہ 248، مطبوعہ مکہ)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: عمرہ کی سعی میں احرام واجب ہے یعنی اگر طواف کے بعد سر مونڈا لیا پھر سعی کی، تو سعی ہوگئی، مگر چونکہ واجب ترک ہوا، لہٰذا دَم واجب ہے۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1109، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ، کراچی )
اور صورتِ مذکورہ میں صرف ایک ہی دم لازم ہوگا، کیونکہ سب سے پہلے والے محظورِ شرعی کے ارتکاب کے وقت رفضِ احرام کی نیت پائی گئی ہے، لہٰذا اگر اس کے بعد دیگر ممنوع کاموں کا بھی ارتکاب کر لیا، مثلاً: حلق کروا کر سلے ہوئے کپڑے بھی پہن لیے، تب بھی اس پر ایک ہی دم لازم آئے گا، چنانچہ ”رفضِ احرام“ اور ”وجوب دم“ کے متعلق شرح لباب المناسک مع حاشیہ ارشاد الساری میں ہے: ”(اعلم أنہ إذا نوى رفض الاحرام) ای قصد ترک الاحرام بمباشرۃ المحظور علی وفق ظنہ (فجعل يصنع ما يصنعه الحلال من لبس الثياب) ای الممنوعۃ من المخیط و نحوہ (فإنه لا يخرج بذلك من الاحرام) ای بالاجماع (وعليه) ای یجب (أن يعود كما كان محرما) ای و لا یرتکب بعد ذلک محظورا (و يجب دم واحد لجميع ما ارتكب، و لو فعل المحظورات) ای استحسانا عندنا … (و إنما يتعدد الجزاء بتعدد الجنايات إذا لم ينو الرفض) ای فی اول ارتکابھا (ثم نية الرفض إنما تعتبر ممن زعم أنه یخرج منه) ای الاحرام (بهذا القصد) ای فی ارتکاب الجنایۃ“ ملتقطاً
ترجمہ: تُو جان لے! مُحْرِم جب اپنے گمان کے مطابق ممنوعاتِ احرام میں سے کسی کام کے ذریعے احرام کھولنے کا ارادہ کرے اور کوئی ایسا کام کرلے جو غیر مُحْرِم کرتا ہے، یعنی غیر محرم کی طرح سلے ہوئے کپڑے پہنے اور اِسی کی مثل دوسرے کام (مثلاً: خوشبو لگائے، حلق کروائے) تو ان کی وجہ سے وہ محرم بالاجماع کیفیتِ احرام سے باہر نہیں نکلے گا، بلکہ اُس پر واجب ہو گا کہ جیسے پہلے مُحْرِم تھا، اُسی حالت پر واپس لوٹ آئے (جیسا کہ صورتِ مسئولہ میں دوبارہ سعی لازم ہوگی) اور اس کے بعد دیگر ممنوع کام نہ کرے (لیکن اگر کسی نے کر لیا، تو) اِن تمام ممنوع اُمور کا ارتکاب کرنے کے سبب اُس پر ایک ہی دم لازم ہوگا، اگرچہ وہ سارے ہی محظورات کا ارتکاب کر لے۔ … اور متعدد جنایات سے متعدد دم اس صورت میں لازم ہوتے ہیں، جب پہلے ممنوع کام کا ارتکاب کرتے ہوئے رفضِ احرام کی نیت نہ کی ہو۔ پھر رفضِ احرام کی نیت اُسی کی معتبر ہے، جو یہ گمان کرتا ہو کہ وہ اس جرم کے ارتکاب سے احرام سے نکل جائے گا۔ (شرح لباب المناسک مع حاشیۃ ارشاد الساری، باب فی جزاء الجنایات، فصل فی ارتکاب المحرم المحظور، صفحہ 578، مطبوعہ مکہ)
اور حلق کروالینے کے بعد سعی کرنے میں احرام لازم نہ ہونے کے متعلق علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”سعی الحجّ بعد الوقوف لا یشترط فیہ الاحرام بل و یسنّ عدمہ و کذا سعی العمرۃ لا یشترط وجودہ بعد حلقہ بل یجب تحقّقہ قبل حلقہ“ ترجمہ: وقوف عرفہ کے بعد حج کی سعی میں احرام شرط نہیں، بلکہ احرام نہ ہونا سنت ہے، اسی طرح عمرہ کی سعی جب حلق کروانے کے بعد کی جائے، تو اس میں احرام پہننا شرط نہیں، بلکہ حلق سے پہلے سعی کرنے میں اِحرام واجب ہے۔ (شرح لباب المناسک مع حاشیۃ ارشاد الساری، باب السعی ۔۔ الخ، صفحہ 504، مطبوعہ مکہ)
دَم کی تفصیل بیان کرتے ہوئے امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: اِس فصل میں جہاں دم کہیں گے اس سے مراد ایک بھیڑ یا بکری ہوگی اوربدنہ اونٹ یا گائے، یہ سب جانور اُن ہی شرائط کے ہوں جو قربانی میں ہوں۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 757، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
دم کی ادائیگی حرم میں کرنا ضروری ہے، نیز اُس میں سے خود کچھ نہیں کھا سکتے، چنانچہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: کفارہ کی قربانی یا قارِن و متمتع کے شکرانہ کی، غیر حرم میں نہیں ہو سکتی، اگر غیر حرم میں کی تو ادا نہ ہوئی، نیز شکرانہ کی قربانی سے آپ کھائے، غنی کو کھلائے، مساکین کو دے اور کفارہ کی قربانی صرف محتاجوں کا حق ہے۔ ملتقطاً۔ (بھارِ شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1162، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
امیرِ اہلِ سنت مولانا محمد الیاس عطار قادری اطال اللہ عمرَہ لکھتے ہیں: دَم یعنی ایک بکرا، اِس میں نر، مادہ، دنبہ، بھیڑ، نیز گائے یا اونٹ کا ساتواں حصہ سب شامل ہیں۔ (رفیق المعتمرین، صفحہ 137، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Fsd-8236
تاریخ اجراء: 29 رجب المرجب 1444ھ / 21 فروری 2023ء