logo logo
AI Search

عمرے پر ساتھ لے جانے کا وعدہ پورا نہ ہو تو کیا کریں؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کسی کو اپنے ساتھ عمرے  پر لے جانے کا وعدہ کیا اور اب اس کا ویزا نہیں بن رہا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

وعدہ پورا کرنا عمدہ اسلامی اخلاق میں سے ہے اور وعدے کو بلا وجہ پورا نہ کرنا مکروہ تنزیہی اور خلافِ  مروت فعل ہے، جبکہ وعدہ کرتے وقت پورا کرنے کی نیت ہو۔ لیکن اگر وعدہ کرتے وقت ہی اُسے پورا نہ کرنے کی نیت ہو تو یہ بلا ضرورتِ شرعی حرام   وگناہ ہے اور اس طرح وعدہ خلافی کو منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ ہاں اگر وعدہ کرتے وقت اسے پورا کرنے کی نیت تھی اور بعد میں کسی عذر کے سبب پورا نہ کرسکے، تو اس  میں کوئی حرج نہیں۔

پوچھی گئی صورت میں جبکہ وعدہ کرتے وقت آپ کی نیت وعدہ پورا کرنے کی تھی اور اب  عذر کی بناء پر پورا نہ کرپائیں تو اس میں کوئی مضائقہ  نہیں۔  لہٰذا دوست کو ویزانہ ملنے کی صورت میں آپ دوست کو لئے بغیر بھی عمرہ پر جاسکتے ہیں۔ کہ عمرہ سنتِ مؤکدہ ہے جب آپ کو استطاعت ہے تو آپ دوست کے نہ جانے کی وجہ سے اس عظیم سنت سے محروم نہ رہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ- اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا(۳۴)  ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو، بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (پارہ 15، سورہ بنی اسرائیل، آیت 34)

حدیث پاک میں ہے: منافق کی  تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ (صحیح بخاری،جلد 1، صفحہ 16، حدیث 33، دار طوق النجاۃ)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جب آدمی اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت اسے پورا کرنے کی ہو پھر پورا نہ کر سکے اور مقررہ وقت  پر نہ آ سکے تو اس پر گناہ نہیں۔  (سنن أبی داود، جلد 4، صفحہ 299، حدیث 4995،  مطبوعہ بیروت)

اعلیٰ حضرت  امام اہلسنت امام احمد رضا خان  علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: خلف وعدہ جس کی تین صورتیں ہیں: اگر وعدہ سرے سے صرف زبانی بطور دنیا سازی کیا اور اسی وقت دل میں تھا کہ وفا نہ کریں گے تو بے ضرورتِ شرعی وحالتِ مجبوری سخت گناہ و حرام ہے، ایسے ہی خلافِ وعدہ کو حدیث میں علاماتِ نفاق سے شمار کیا۔ ۔ ۔  اور اگر وعدہ سچے دل سے کیا پھر کوئی عذرِ مقبول و سببِ معقول پیدا ہوا تو وفا نہ کرنے میں کچھ حرج کیا ادنیٰ  کراہت بھی نہیں، جبکہ اس عذر و مصلحت کو اس وفائے وعدہ کی خوبی و فضیلت پر ترجیح ہو۔ ۔ ۔  اور اگر کوئی عذر و مصلحت نہیں بلا وجہ (وعدہ پورا نہ کیا جیسے کہ بغیر کسی معقول وجہ کے) نسبت چھڑائی جاتی ہے تو یہ صورت مکروہ تنزیہی ہے۔ ۔ ۔  یہ بات اس تقدیر پر بے جا و خلافِ مروت ہے مگر حرام و گناہ نہیں، حضور پرنور سیدالعالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم فرماتے ہیں: لیس الخلف ان یعد الرجل و من نیتہ ان یفی و لکن الخلف ان یعدالرجل و من نیتہ ان لایفی رواہ ابو یعلی فی مسند عن زید بن ارقم رضی ﷲتعالی عنہ بسند حسن (یعنی وعدہ خلافی یہ نہیں کہ آدمی وعدہ کرے اور اس کی نیت وعدہ پورا کرنے کی ہو، بلکہ وعدہ خلافی یہ ہے کہ آدمی وعدہ کرے حالانکہ اس کی نیت اس وعدہ کو پورا نہ کرنے کی ہو۔ اس روایت کو امام ابو یعلی نے اپنی مسند میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے)“ (فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 281 - 283، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

صاحبِ استطاعت کے لئے عمرہ سنتِ مؤکدہ ہے، چنانچہ حضرت علامہ علی بن سلطان القاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: العمرۃ سنۃ مؤکدۃ لمن استطاع“ یعنی صاحبِ استطاعت کے لئے عمرہ کرنا سنتِ مؤکدہ ہے۔ (فتح باب العنایۃ، جلد 2، صفحہ 20، مطبوعہ: بیروت)

تنویر الابصار و در مختار میں ہے: (العمرۃ)فی العمر (مرۃ سنۃ مؤکدۃ) علی المذھب“ یعنی عمرہ زندگی میں ایک بار سنتِ مؤکدہ ہے۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے: ای اذا اتی بھا مرۃ فقد اقام السنۃ غیر مقید بوقت غیر ماثبت النھی عنھا فیہ  الا انھا فی رمضان افضل“ یعنی جب عمرہ ایک بار ادا کر لیا، تو سنت قائم ہوگئی یہ کسی وقت کے ساتھ مقید نہیں سوائے ان اوقات کے جن میں ممانعت ثابت ہے، ہاں عمرہ کرنا رمضان میں افضل ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 3، صفحہ 545، مطبوعہ: بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: Web-2526
تاریخ اجراء: 19 ربیع الآخر 1447ھ / 13 اکتوبر 2025ء