طواف یا سعی میں میاں بیوی کا ہاتھ پکڑ کر چلنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سعی یا طواف کے دوران میاں بیوی کا ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ کر چلنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
آج کل دیکھا جاتا ہے صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگاتے یا طواف کرتے بیوی اور شوہر نے ایک دوسرے کا ہاتھ یا کندھا پکڑا ہوتا ہے تو کیا احرام کی حالت میں یہ جائز ہے؟
جواب
میاں بیوی کو بھی حالت احرام میں بلا حائل ہاتھ میں ہاتھ ڈالے طواف و سعی وغیرہ سے بچنا چاہئے کیونکہ اگر شہوت آگئی اور اس کیساتھ چھونا پایا گیا تو دَم واجب ہوجائے گا، ہاں بلا شہوت چھونے میں کوئی کفارہ نہیں۔
بہار شریعت میں ہے: ’’مباشرتِ فاحشہ اور شہوت کے ساتھ بوس و کنار اور بدن مس کرنے میں دَم ہے، اگرچہ انزال نہ ہو اور بلا شہوت میں کچھ نہیں۔ ‘‘ ( بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 1172، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2608
تاریخ اجراء: 27 جمادی الاولٰی 1447ھ/19 نومبر 2025ء