logo logo
AI Search

جدہ سے مکہ نفلی طواف کیلئے احرام کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحيم

جدہ سے طواف کرنے کی نیت سے مکہ جانے کی صورت میں احرام کا حکم؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

جدہ حِل میں (میقات کے اندر اور حرم سے باہر) ہے، اور حِل میں رہنے والے جب حج یا عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ جانے کا قصد کریں، تب ان پر حدودِ حل سے احرام باندھ کر جانا لازمی ہوتا ہے، اس صورت میں احرام باندھے بغیر حدودِ حرم میں داخل ہونا ان کے لئے جائز نہیں۔ ہاں جب مکہ شریف جانا حج یا عمرہ کے رادے سے نہ ہو اگرچہ محض نفلی طواف کرنے کا ارادہ ہوتو احرام باندھنا ضروری نہیں۔ لہٰذا اگر آپ کی طواف سے مراد نفلی طواف ہی ہے تو اس کے لئے احرام ضروری نہیں۔ لیکن اگر آپ کی مراد عمرہ کرنا ہے تو عمرے کے لئے جدہ سے مکہ شریف جاتے ہوئے حدودِ حرم سے پہلے احرام باندھنا ہوگا بلکہ بہتر ہے کہ گھر سے ہی احرام باندھ کر روانہ ہوں۔

چنانچہ مفتی علی اصغر صاحب دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں: ”جو حِل میں رہتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ حِل سے احرام باندھے ۔ ۔ ۔ حِل والے کے لئے پورا حِل حج کے احرام باندھنے کی میقات ہے، حرم سے پہلے جہاں سے چاہے باندھ سکتا ہے البتہ اس کے لئے گھر سے باندھنا افضل ہے ۔ ۔ ۔ حِل میں رہنے والوں کے لئے عمرہ کے احرام کے لئے حج کے احرام کی طرح حکم یہ ہے کہ بیرونِ حرم کہیں سے بھی احرام باندھ سکتے ہیں لیکن گھر سے باندھنا افضل ہے۔

مزید لکھتے ہیں: ”بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حل سے اگر حرم آئیں تو احرام ضروری ہوگا مثلاً مکہ مکرمہ کا رہائشی جدہ جائے پھر واپس آنا ہو یا حدیبیہ یا جعرانہ جائیں اور پھر مکہ مکرمہ آنا ہو تو ایسی صورت میں احرام باندھنا ضروری ہوگا یہ درست نہیں کہ یہ جگہیں حِل میں ہیں، حِل سے مکہ مکرمہ آتے وقت حج یا عمرہ کا ارادہ نہ ہو تو بغیر احرام کے آسکتے ہیں۔“ (27 واجباتِ حج اور تفصیلی احکام، صفحہ 53، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2577
تاریخ اجراء: 11 جمادی الاولٰی 1447ھ / 03 نومبر 2025ء