logo logo
AI Search

Aurat Ka Baghair Mehram Ke Umrah Par Jane Ka Hukum ?

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عورت کا بغیر محرم کے عمرے پر جانے کا حکم؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ تین سگی بہنیں عمرے پر گئیں، چھوٹی بہن کے ساتھ ان کے شوہر تھے جبکہ بڑی دو بہنوں کے ساتھ نہ ان کے شوہر نہ ہی کوئی اورمحرم تھا، یہ فرمائیں کہ ان کا اس طرح عمرے کے لیے سفر کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا ان کو تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہے؟ بڑی دو بہنوں میں ایک پچاس سال اور دوسری پچپن سال کی ہیں۔

جواب

جس عورت کو عمرے یا کسی اور کام کے لئے شرعی سفر کرنا پڑے (شرعی سفر سے مراد تین دن کی راہ یعنی تقریباً 92 کلو میٹر یا اس سے زائد سفر کرنا پڑے بلکہ خوف فتنہ کی وجہ سے تو علماء ایک دن کی راہ جانے سے بھی منع کرتے ہیں) تو اس کے ہمراہ شوہر یا محرم ہونا شرط ہے، اس کے بغیر سفر کرنا ناجائز حرام ہے خواہ عورت جوان ہو یا بوڑھی، لہذا بڑی دو بہنوں کا بغیر محرم کے عمرے کے لئے جانا جائز نہیں تھا، اس کے سبب وہ گناہ گار ہوئیں، جس سے توبہ کرنا ان پر لازم ہے، البتہ تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح کی ضرورت نہیں کہ ان سے کوئی کفر سرزد نہ ہوا۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: Kan-12154
تاریخ اجراء: 29 ربیع الثانی 1438ھ / 28 جنوری 2017ء