logo logo
AI Search

طواف کا آغاز رکن یمانی سے کرنے کا شرعی حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

طواف حجر اسود کے بجائے رکن یمانی سے شروع کیا تو کیا حکم ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا ایک جاننے والا شخص عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے گیا وہاں جاکراس نے طواف حجر اسود کی بجائے رکن یمانی سے شروع کیا اور سعی اور حلق کروا کر عمرہ مکمل کیا پھر دوسرے عمرے میں وہ میرے ساتھ تھا ہم نے طواف حجر اسود سے شروع کیا تو اس نے بتایا کہ وہ تو رکن یمانی سے طواف شروع کرتا رہا ہے لہذا میں نے اسے بتایا کہ طواف حجر اسود سے شروع ہوتا ہے لیکن پورے مسئلے کا مجھے بھی پتہ نہیں تھا لہذا اب ہم پاکستا ن واپس آچکے ہیں ہماری اس بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ شخص نے جو طواف رکن یمانی سے شروع کیا اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

سائل: عثمان علی عطاری (شاہ نور پارک، کوٹ خواجہ سعید لاہور)

جواب

طواف کا حجر اسود سے شروع کرنا یہ طواف کے واجبات میں سے ہے اور رکن یمانی سے شروع کرنا یہ ترک واجب ہے جس کا حکم یہ ہے کہ مذکورہ شخص ترکِ واجب کی وجہ سے گناہگار ہوا جس کی توبہ اس پر لازم ہے اور جب تک مکہ شریف میں تھا اس طواف کا اعادہ کرنا واجب تھا اور اب جبکہ وطن واپسی ہوچکی ہے تو مذکورہ شخص پر ایک دم زمینِ حرم میں دینا واجب ہے دم سے مراد ایک بکری اس میں نر، مادہ، دنبہ، بھیڑ سب شامل ہیں یا اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ اور اس اونٹ یا گائے کا بنیت تقرب ذبح ہونا ضروری ہے اگرچہ باقی حصے دوسری طرح کی قربت کے ہوں اور دم کے جانورکا قربانی کی شرائط کے مطابق ہونا اور حدود ِحرم میں قربان ہونا بھی ضروری ہے ساتھ ہی اپنے اس گناہ سے توبہ بھی لازم ہے۔

نوٹ: اب دم دینے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ کسی حج یا عمرہ پر جانے والے شخص کو بطور وکیل دم کی رقم دے دے وہ وہاں جا کر قربانی کی شرائط کا جانور خرید کر اس کی طرف سے بطور دم حدود حرم میں قربان کردے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: Mad-1836
تاریخ اجراء: 14 جمادی الثانی 1438ھ / 14 مارچ 2017ء