کیا احرام کی حالت میں غلاف کعبہ کو چھونا یا چومنا منع ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احرام کی حالت میں غلاف کعبہ کوچھونا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا عمرہ کے طواف کے دوران یا طواف کے علاوہ احرام کی حالت میں کعبہ شریف کے غلاف کو چھو سکتے ہیں۔ سنا ہے یہ معطر ہوتا ہے۔ اگر اجازت ہے تو کس قدر لپٹنا وغیرہ؟
جواب
کعبہ شریف کے غلاف اور اس کے کونوں اور حجرِ اسود وغیرہ پر آج کل بہت زیادہ خوشبو لگی ہوتی ہے اور مُحرِم کو احرام کی حالت میں خوشبو لگی ہوئی چیزوں کو چھونا یا ان سے لپٹنا منع ہے۔ اگر کسی خوشبو لگی ہوئی چیز کو چھونے، لپٹنے، بوسہ لینے وغیرہ سے اِن سے خوشبو چھوٹ کر بدن یا اِحرام پر لگ جائے، تو اگر زیادہ لگے یعنی لوگ دیکھ کر کہیں کہ یہ بہت سی خوشبو لگ گئی ہے، اگرچِہ تھوڑے سے حصّے میں لگی ہو، یا کسی بڑے عضو جیسے سر، مونھ، ران، پنڈلی کو پورا سان دیا، اگرچہ خوشبو تھوڑی ہے، تو ان دونوں صورتوں میں دم واجب ہوگا اور اگر کم لگے یعنی جسے لوگ زیادہ نہ کہیں، اور عضو کے تھوڑے سے حصہ میں لگے تو اس معمولی خوشبو لگنے کی صورت میں صَدَقہ دینا واجِب ہوگا۔
بہار شریعت میں ہے خوشبو اگر بہت سی لگائی جسے دیکھ کر لوگ بہت بتائیں، اگرچہ عضو کے تھوڑے حصہ پر یا کسی بڑے عضو جیسے سر، مونھ، ران، پنڈلی کو پورا سان دیا، اگرچہ خوشبو تھوڑی ہے، تو ان دونوں صورتوں میں دَم ہے اور اگر تھوڑی سی خوشبو عضو کے تھوڑے سے حصہ میں لگائی، تو صدقہ ہے۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 6، ص 1163، مکتبۃ المدینہ)
بہار شریعت میں ہے کسی شے میں خوشبو لگی تھی، اسے چھوا، اگر اس سے خوشبو چھوٹ کر بڑے عضوِ کامل کی قدَر بدن کو لگی، تو دَم دے اور کم ہو، تو صدقہ اورکچھ نہیں، تو کچھ نہیں۔ مثلاً سنگِ اَسود شریف پر خوشبو ملی جاتی ہے، اگر بحالتِ احرام بوسہ لیتے میں بہت سی لگی، تو دَم دے اور تھوڑی سی، تو صدقہ۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 6، ص 1164، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1227
تاریخ اجراء: 07 ربیع الثانی 1444ھ / 03 نومبر 2022ء