عورت کو حالت حیض میں عمرہ کرنے کا حکم؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت کا حیض کی حالت میں عمرہ کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
عورت کا حیض کی حالت میں عمرہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
عمرے کی ادائیگی کرتے ہوئے طواف کرنا اس کا رکن یعنی فرض ہے، اور واجباتِ طواف میں سے ایک واجب نجاست حکمیہ یعنی حیض و نفاس اور جنابت وغیرہ سے پا ک ہونا ہے۔ لہٰذا عورت حیض کی حالت میں عمرے کا طواف ہرگز نہ کرے بلکہ مسجد شریف میں بھی داخل نہ ہو ورنہ گناہگار ہوگی۔ البتہ یہ ذہن میں رکھیں کہ حیض کی حالت میں عمرے کا احرام باندھنا جائز ہے، یونہی اگر پاکی کی حالت میں احرام باندھا ہو تو محض حیض آنے سے احرام کی پابندیاں ختم نہیں ہوں گی، ان دونوں صورتوں میں عورت پر لازم ہے کہ وہ پاک ہونے کا انتظار کرے جب پاک ہوجائے تو طہارت کی حالت میں تمام افعال عمرہ ادا کر کے عمرہ مکمل کرے۔ یاد رہے اگر عورت نے حیض کی حالت میں طواف اور بقیہ ارکان ادا کرلیے تو اس کا عمرہ ادا ہوجائے گا مگر وہ گناہ گار ہوگی۔ نیز اس پر لازم ہوگا کہ جب تک مکہ مکرمہ میں ہے اس طواف کا اعادہ کرے، اگر طواف کا اعادہ کیے بغیر وطن چلی گئی تو واجب کے ترک کے سبب اس پر دم لازم ہوگا۔
فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’و اما رکنھا: فالطواف‘‘ یعنی: عمرہ کا رکن طواف ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 3، صفحہ 262، مطبوعہ بیروت)
ارشاد الساری میں ہے: ’’(طواف العمرۃ و ھو رکن فیھا) ای فرض‘‘ یعنی: عمرے کا طواف عمرے میں رکن یعنی فرض ہے۔ (ارشاد الساری الی مناسک ملا علی قاری، صفحہ 97، مطبوعہ بیروت)
بحر الرائق میں ہے: ’’ان الحیض یتعلق بالاحکام: الرابع عشر یحرم الطواف من جھتین دخول المسجد و ترک الطھارۃ لہ‘‘ یعنی: بیشک وہ احکام جو حیض سے تعلق رکھتے ہیں، چودھواں یہ ہے کہ حالت حیض میں دو وجہوں سے طواف حرام ہو جاتا ہے، مسجد میں داخل ہونے اورطہارت کے نہ پائے جانے کی وجہ سے۔ (البحر الرائق، جلد 1، صفحہ 336، مطبوعہدار الکتب العلمیۃ)
مناسک ملا علی قاری میں طواف کے واجبات بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”الاول الطھارۃ عن الحدث الاکبر و الاصغر ۔۔۔۔ ثم اذا اثبت ان الطھارۃ عن النجاسۃ الحکمیۃ و واجبۃ فلو طاف معھا یصح عندنا“ یعنی طواف کے واجبات میں سے پہلی شرط حدث اصغر یعنی بے وضو ہونے اور حدث اکبر یعنی حیض و نفاس اور جنابت سے پاک ہونا ہے ۔۔۔ پھر جب یہ ثابت ہوگیا کہ نجاست حکمیہ سے پاک ہونا واجب ہے تو اگر اس نے اسی حالت میں طواف کیا تو طواف ادا ہوجائے گا۔ (مناسک ملا علی قاری، ص 213، مطبوعہ مکۃ المکرمہ)
ارشاد الساری میں طواف کے محرمات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’(الطواف جنبا او حائض او نفساء) حرام اشد حرمۃ‘‘ یعنی: حالت جنب، حیض اور نفاس میں طواف حرام اشد حرام ہے۔ (ارشاد الساری الی مناسک ملا علی قاری، صفحہ 112، مطبوعہ بیروت)
محیط برھانی میں ہے: ’’اذا طاف للعمرۃ محدثا او جنبا فما دام بمکۃ یعید الطواف لان الطواف رکن العمرۃ کطواف الزیارۃ فی الحج و ان رجع الی اھلہ و لم یعد ففی المحدث یلزمہ الشاۃ و فی الجنب ۔۔۔ و فی الاستحسان یکفیہ شاۃ‘‘ یعنی: اگر کسی نے عمرے کا طواف بے وضو یا جنابت کی حالت میں کیا تو جب تک مکہ مکرمہ میں ہے دوبارہ طواف کرے کیونکہ طواف عمرے کا رکن ہے جیسا کہ حج میں طواف زیارت ہوتا ہے اور اگر اپنے گھر کو لوٹ گیا تو بے وضو طواف کرنے کی صورت میں ایک بکری اور اسی طرح جنبی کو بھی استحساناً ایک بکری بطور دم دینا لازم ہے۔ (المحیط البرھانی، جلد 3، صفحہ 453، مطبوعہ بیروت)
ابومحمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی دامت برکاتھم العالیہ اپنی تصنیف 27 واجبات حج میں فرماتے ہیں: اگر کسی نے تمام یا اکثر پھیرے عمرے کے طواف میں جنابت حیض یا نفاس کی حالت میں کیے تو مکہ مکرمہ میں رہتے ہوئے پاکی کی حالت میں اعادہ کرنا واجب ہے اور اگر بے و ضو حالت میں کئے تو پاکی کی حالت میں اعادہ کرنا مستحب ہے اعادہ نہ کیا تو مذکورہ تمام صورتوں میں ایک دم دینا لازم ہوگا۔ (27 واجبات حج، صفحہ 152، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1047
تاریخ اجراء: 04 ربیع االثانی 1445ھ / 20 اکتوبر 2023ء