Hamein Umrah Per Namazein Qasar Parhni Hain Ya Mukamal
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ہمیں عمرے پر نمازیں قصرپڑھنی ہیں یا مکمل؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ الحمد للہ عزوجل ہم گیارہ افراد عمرے کی ادائیگی کے لئے جارہے ہیں، اور ہمارا شیڈول یہ ہوگا، کہ پہلے تین دن مدینہ منورہ میں ہوں گے، پھر مکہ مکرمہ میں چار دن ہوں گے، اور پھر مدینے شریف میں تین دن قیام ہوگا، اور پھر مکہ مکرمہ میں آٹھ دن قیام ہوگا، اور آخر میں مدینے شریف میں آٹھ دن قیام ہوگا، اور وہیں سے واپس پاکستان آنا ہوگا، تو معلوم یہ کرنا ہے، کہ اس پورے شیڈول میں ہمیں نمازوں میں قصر کرنی ہے یا مکمل پڑھنی ہے؟
سائل: عبد القادر عطاری (سرجانی ٹاؤن، کراچی)
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ سب زائرینِ حرمین شریفین زادهما اللہ شرفا و تعظیماً اس مبارک سفر میں اول تا آخر مسافر ہی رہیں گے، اور پنجگانہ، چار رکعت والی فرض نمازوں (ظہر، عصر اور عشاء) میں قصر ہی کریں گے، جبکہ سنتوں میں قصر نہیں ہے۔
اپنے وطن سے 92 کلو میٹرمسافت دور، کسی دوسری جگہ پر مسافر اس وقت مقیم کہلاتا ہے جبکہ اس جگہ، مستقل، لگاتار، کم از کم 15 دن، رات قیام کا ارادہ ہو، جبکہ پندرہ دن رات سے کم قیام کی صورت میں جیساکہ اس شیڈول میں مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ میں کہیں بھی پندرہ دن رات کا قیام نہیں ہوگا، تو یہ دونوں جگہیں آپ سب کے لئے وطن سفر ہوں گی، اور وطن سفر میں مسافر کو نماز میں قصر کرنے کا حکم ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: Fmd-0290
تاریخ اجراء: 17 جمادی الاولیٰ 1438ھ / 15 فروری 2017ء