عمرے میں تلبیہ چھوڑنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تلبیہ چھوڑنے کی صورت میں عمرہ کا شرعی حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں پہلے عمرہ کرنے کے بعد مکہ میں ہی کچھ دن ٹھہر گیا پھر میں نے دوسرا عمرہ کرنے کے لیے مسجد عائشہ سے جاکر احرام باندھا اور وہیں دو رکعت نفل ادا کرکے یہ نیت کی اے اللہ! میں عمرہ کی نیت کرتا ہوں، میرے لیے اسے آسان بنا اور قبول فرما۔ لیکن چونکہ ٹیکسی ڈرائیور بار بار مجھے جلدی کرنے کا کہہ رہا تھا جس کی وجہ سے میں تلبیہ پڑھنا بھول گیا جب ہم حرم میں واپس پہنچ گئے تو مجھے یاد آیا کہ میں نے تلبیہ نہیں پڑھی تھی لہٰذا میں نے وہیں تلبیہ پڑھ کر عمرہ کرلیا، کیا اس صورت میں مجھ پر کوئی کفارہ لازم ہوگا؟
جواب
جب آپ نے ایک عمرہ کرلیا تو اب آپ مکی کے حکم میں ہوگئے اور مکی عمرہ کرنا چاہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ حرم سے باہر جاکر عمرہ کا احرام باندھ کر آئے اور عمرہ کے احرام کے لیے عمرہ کی نیت اور اس کے ساتھ تلبیہ یا اس کے قائم مقام الفاظ کہنا ضروری ہیں بغیر اس کے احرام میں داخل نہیں ہوگا لہٰذا دریافت کردہ صورت میں اگر آپ نے حدودِ حرم میں آنے سے پہلے تلبیہ کے قائم مقام کوئی لفظ جیسے ”سبحان اللہ، الحمد للہ یا لا الہ الا اللہ“ وغیرہ کہہ لیے تھے تو آپ حالتِ احرام میں داخل ہوگئے اور عمرہ درست ہوگیا لیکن اگر بیرون حرم تلبیہ بھی نہیں کہا اور اس کے قائم مقام الفاظ بھی نہیں کہے اور حرم میں آکراس نیت سے تلبیہ یا قائم مقام ذکر کیا تو اس صورت میں حرم کے اندر احرام باندھنا پایا گیا جس کی وجہ سے آپ پر دم لازم ہوگیا ایسی صورت میں حکم یہ ہوتا ہے کہ بیرونِ حرم جاکر وہاں سے دوبارہ تلبیہ پڑھ کر آئے تو اس پر جو دم لازم ہوچکا وہ ساقط ہوجائے گا اور اگر بیرون حرم جانے سے پہلے عمرہ شروع کرلے تو اب دَم مؤکد و متعین ہو جاتا ہے لہٰذا جب آپ نے حرم کے اندر ہی تلبیہ پڑھ کر عمرہ کرلیا تو آپ پر ایک دم اور اس گناہ سے توبہ کرنا بھی لازم ہوگی۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ اپریل 2026ء