شرعی مسافت نہ ہو تو عورت کا بغیر محرم سفر حج کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شرعی مسافت نہ ہو تو کیا عورت بغیر محرم تنہا سفرِ حج کر سکتی ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک اسلامی بہن جو کہ جدہ میں رہتی ہے، اس کے پاس حج کے اسباب موجود ہیں، یعنی فرضیتِ حج کی شرائط پائی جارہی ہیں، لیکن ساتھ جانے کے لیے کوئی محرم نہیں ہے، پوچھنا یہ تھا کہ کیا جدہ میں مقیم وہ اسلامی بہن بغیر محرم کے اپنا فرض حج کرسکتی ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمادیں۔
جواب
فقہ حنفی کی ظاہر الروایہ اور اصل مذہب کے مطابق عورت کے لئے صرف مسافتِ شرعی یعنی تین دن (فی زمانہ 92 کلو میٹر) یا اس سے زائد سفر، مَحرم یا شوہر کے بغیر کرنا، ناجائز و گناہ ہے، اس سے کم سفر کا یہ حکم نہیں ہے، لیکن شیخین (امامِ اعظم ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہما ) سے ایک روایت یہ بھی مروی ہے کہ عورت ایک دن کی مسافت (تقریبا 30کلو میٹر) کے لیے بھی بغیر شوہر یا محرم کے نہیں جاسکتی، بعض فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم نے فسادِ زمانہ کی وجہ سے برائی کے اسباب کو ختم کرتے ہوئے اس قول کو بھی اختیار فرمایا ہے۔
بیان کردہ تفصیل کی روشنی میں پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ جدہ سے مکہ شریف کا سفر، شرعی مسافت سے اگرچہ کم ہے، لیکن (پرانے زمانے کے حساب کے) ایک دن کی مسافت سے زائد ہے، لہذا ظاہر الروایہ اور اصل مذہب کے مطابق عورت اپنا فرض حج ادا کرے، لیکن فسادِ زمانہ کی وجہ سے شیخین رحمۃ اللہ علیہما سے مروی دوسری روایت کی رعایت کرتے ہوئے مذکورہ اسلامی بہن کو چاہیے اولاً ہر ممکن کوشش کرے کہ شوہر ہونے کی صورت میں اس کے ساتھ یا کسی قابل اطمینان مَحرم کے ساتھ حج کو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو مقام تنعیم سے احرام باندھنے کا فرمایا، تو آپ کے بھائی حضرت عبد الرحمن کو ساتھ بھیجا تھا، حالانکہ مقامِ تنعیم کی مسافت جدہ سے بہت کم ہے۔ البتہ اگر شوہر یا مَحرم کے ساتھ جانے کی کوئی بھی صورت نہ بن رہی ہو، توچونکہ یہ شرعی مسافت سے کم سفر ہے، لہذا فرض حج کی ادائیگی کے لیے اسے چاہیے کہ پردے وغیرہ کی مکمل رعایت کرتے ہوئے چلی جائے اور کوشش کرے کہ نیک پارسا عورتوں کے ساتھ رہے اور بلاوجہ اِدھر اُدھر گھومنے سے بھی پرہیز کرے، بلکہ مکمل توجہ اپنے حج کے ارکان اور عبادات پر رکھے اور جیسے ہی اس کا حج مکمل ہوجائے، تو فورا ً واپس اپنے گھر لوٹ آئے۔
بیان کردہ شرعی حکم کے دلائل:
عورت تین دن یا اس سے زیادہ کی مسافت کا سفر بغیر شوہر یا محرم کے نہیں کرسکتی، چنانچہ صحیح مسلم کی حدیث پاک ہے، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لا یحل لامرأۃ تؤمن باللہ و الیوم الاخر ان تسافر سفراً یکون ثلاثۃ ایام فصاعداً الا ومعھا ابوھا او ابنھا او زوجھا او اخوھا او ذومحرم منھا“ ترجمہ: جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر کرنا حلال نہیں ہے، مگریہ کہ اس کے ساتھ اس کا باپ، بیٹا، شوہر، بھائی یا اس عورت کا کوئی محرم ہو۔ (صحیح مسلم، جلد 02، رقم الحديث 1340، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
عورت کے لیے شرعی مسافت سے کم سفر کے لیے بھی بہتر و مناسب یہی ہے کہ کسی محرم کے ساتھ سفر کرے، چنانچہ بخاری شریف کی حدیث پاک ہے: ”عن عائشة رضي اللہ عنها، أنها قالت: يا رسول اللہ، اعتمرتم ولم أعتمر، فقال: يا عبد الرحمن، اذهب بأختك، فأعمرها من التنعيم“ ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ لوگوں نے عمرہ کرلیا لیکن میں نے نہیں کیا، تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبد الرحمن اپنی بہن کو لےکر جاؤ اور مقام تنعیم سے انہیں عمرہ کروادو۔ (صحیح البخاری، جلد 02، رقم الحدیث 1518، دار طوق النجاۃ)
عورت کے لیے حج کی شرائط بیان کرتے ہوئے ملك العلماء، علامہ کاسانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”وامّا الذي يخص النساء فشرطان: أحدهما أن يكون معها زوجها أو محرم لها فإن لم يوجد أحدهما لا يجب عليها الحج۔۔۔ثم المحرم أو الزوج إنما يشترط إذا كان بين المرأة، وبين مكة ثلاثة أيام فصاعدا، فإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم؛ لأن المحرم يشترط للسفر، وما دون ثلاثة أيام ليس بسفر فلا يشترط فيه المحرم كما لا يشترط للخروج من محلة إلى محلة“ ترجمہ: اور بہر حال وہ (شرائط) جو عورت کے ساتھ خاص ہیں، وہ دو ہیں: ان میں سے ایک یہ ہے کہ عورت کے ساتھ اس کا شوہر یا کوئی محرم ہو، اگر ان میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو، تو اس عورت پر حج کی ادائیگی فرض نہیں۔ پھر محرم یا شوہر کا ہونا اس وقت شرط ہے جب عورت اور مکہ کے درمیان تین دن یا اس سے زیادہ کی مسافت ہو، پس اگر (تین دن) سے کم مسافت ہو، تو عورت بغیر محرم کے بھی حج کر سکتی ہے، کیونکہ محرم کا ہونا م شرعی سفر کے لیے شرط ہے اور تین دن سے کم کا سفر، شرعی سفر نہیں ہے، لہذا اس کے لیے محرم بھی شرط نہیں ہے، جیسے ایک محلہ سے دوسرے محلہ کی طرف نکلنے کے لیے محرم شرط نہیں ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 02، صفحہ 124، دار الكتب العلمية)
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”عورت کو مکہ تک جانے میں تین دن یا زیادہ کا راستہ ہو تو اُس کے ہمراہ شوہر یا محرم ہونا شرط ہے، خواہ وہ عورت جوان ہو یا بوڑھیا اور تین دن سے کم کی راہ ہو تو بغیر محرم اور شوہر کے بھی جا سکتی ہے۔ (بہار شریعت، جلد 01، حصہ 06، صفحہ 1044، مکتبة المدینہ، کراچی)
ایسی عورت جو بغیر شوہر و محرم حج کے ارادہ سے وطن سے نکلی اور جدہ پہنچ گئی، تو اس کے دیگر احکامات کو بیان کر نے کے ساتھ، اس کے جدہ سے حج کرنے کے لیے مکہ معظمہ جانے کے متعلق اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”اگر شوہر ومحرم نہیں رکھتی، تو اگر اتنی دور پہنچ گئی کہ مکہ معظمہ تک مدت سفر نہیں مثلا جدہ پہنچ گئی تو اب چلی جائے اور واپس نہ ہو کہ واپسی میں سفر بلا محرم ہے اور وہ حرام ہے۔۔۔پھر بعد حج مکہ معظمہ میں اقامت کرے بلا محرم گھر کو واپس آنا بلکہ مدینہ طیبہ کی حاضری ناممکن ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 707، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں فتاوی یورپ میں لکھا ہے: ”البتہ مکہ معظمہ جدہ سے سفر شرعی کی دوری پر نہیں ہے، لہذا(وہ عورت) مکہ معظمہ چلی جائے اور حج کے بعد وہیں ٹھہرے، تاکہ اس کا کوئی محرم اس کو لینے کے لیے وطن سے پہنچ جائے۔ “ (فتاوی یورپ، صفحہ 330، مطبوعہ شبیر برادرز، لاہور)
شیخین رحمۃ اللہ علیہما سے مروی دوسری روایت (کہ عورت ایک دن کی مسافت کا سفر بھی شوہر یا محرم کے بغیر نہ کرے) کو بیان کرتے ہوئے علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ/1605ء) لکھتے ہیں: ”وروی عن ابی حنیفۃ وابی یوسف کراھۃ الخروج لھا مسیرۃ یوم بلا محرم، فینبغی ان یکون الفتوی علیہ لفساد الزمان“ ترجمہ: امام اعظم ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہما سے عورت کو ایک دن کی مسافت کے لیے بغیر محرم کے نکلنے کی کراہت کاقول بھی مروی ہے، تو مناسب یہ ہے کہ فسادِ زمانہ کی وجہ سے فتوی اسی پر ہو۔ (المسلک المتقسط شرح المنسک المتوسط، صفحہ 62، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0255
تاریخ اجراء:20 شوال المکرم 1447 ھ/09 اپریل 2026ء