حِلی شخص حج کا احرام کہاں سے باندھے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حل میں رہنے والا حج کا احرام کہاں سے باندھے گا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلےکے بارے میں کہ حِلی (یعنی حدودِ حرم سے باہر اور میقات کے اندر رہنے والا) حج کا احرام کہاں سے باندھے گا؟
جواب
حِلی (حدودِ حرم سے باہر اور میقات کے اندررہنے والا) حج کا احرام حِل سے ہی باندھے گا اور اس میں بھی اسے اپنے گھر سے احرام باندھنا افضل ہے۔
صحیح بخاری شریف میں ہے: ’’وقت رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم لاهل المدينة ذا الحليفة و لاهل الشام الجحفة و لا هل نجد قرن المنازل و لا هل اليمن يلملم، فهن لهن و لمن اتى عليهن من غير اهلهن لمن كان يريد الحج و العمرة، فمن كان دونهن، فمهله من اهله و كذاك حتى اهل مكة يهلون منها‘‘ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذو الحلیفہ کو میقات (احرام باندھنے کی جگہ) بنایا، اہلِ شام کے لئے جحفہ، اہل نجد کے لئے قرن المنازل اور اہل یمن کے لئے یلملم کو مقرر فرمایا، یہ میقات ان جگہوں کے مقامی لوگوں کے لئے بھی ہے اور ان کے لئے بھی جو مقامی تو نہیں، لیکن حج و عمرہ کے ارادے سے ان جگہوں سے گزریں، پس جو ان مقامات کے اندر کا رہنے والا ہے، اس کا احرام اپنے گھر سے ہے اور اسی طرح حتی کہ مکہ والے مکہ سے ہی احرام باندھیں گے۔ (صحیح بخاری، کتاب المناسک، باب مھل اھل الشام، جلد 1، صفحہ 206، مطبوعہ کراچی)
محدثِ کبیر و فقیہ عظیم حضرت علامہ ملا علی القاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’و ھم الذین منازلھم فی نفس المیقات او داخل المیقات الی الحرم فوقتھم الحل ۔۔ للحج و العمرۃ ۔۔ و من دویرۃ اھلھم افضل‘‘ ترجمہ: وہ لوگ جو میقات کے یا میقات کے اندر حرم تک کے رہنے والے ہیں، ان کے لئے حج اور عمرہ کا احرام باندھنے کی جگہ حل ہے، البتہ ان کے لئے گھر سے باندھنا افضل ہے۔ (لباب المناسک، باب المواقیت، فضل فی النصف الثانی، صفحہ 83، ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیہ، کراچی)
بہار شریعت میں ہے: جو لوگ میقات کے اندر کے رہنے والے ہیں، مگر حرم سے باہر ہیں، اُن کے احرام کی جگہ حل یعنی بیرون حرم ہے، حرم سے باہر جہاں چاہیں احرام باندھیں اور بہتر یہ کہ گھر سے احرام باندھیں۔ (بھار شریعت، حصہ 6، صفحہ 1068، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7216
تاریخ اجراء: 01 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ / 22 مئی 2023ء