logo logo
AI Search

احرام میں عورت کا چہرہ پر ماسک پہننا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عورت کا پردے کے لئے حالت احرام میں ماسک سے چہرہ چھپانے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں اس وقت مکہ پاک میں ہوں، مدینہ پاک سے واپسی پر احرام کی نیت کی، لیکن بس میں بہت سے نوجوان ہونے کے سبب، منہ چھپانے کے لیے ناک تک دس روپے والا کاغذی ماسک لگا لیا، جب کوئی سامنے نہ ہوتا ماسک ہٹا دیا جاتا، مسجد الحرام میں داخل ہوتے ہی ہٹا دیا گیا تو کیا اس پر دم واجب ہوگا۔ براہ کرم جلد رہنمائی کر دیجیے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں آپ پر اس وجہ سے ایک صدقہ فطر لازم ہے، جو کہیں بھی دیا جا سکتا ہے، البتہ! حدود حرم میں ادا کرنا افضل ہے۔ تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ احرام کی حالت میں مرد و عورت کا بلاعذر شرعی کپڑے وغیرہ کے ساتھ منہ چھپانا حرام ہے۔ نیز چہرے کا چوتھائی حصہ 12 گھنٹے سے کم وقت، بھلے ایک ہی سیکنڈ کے لیے چھپانے سے، ایک صدقہ فطر لازم ہوتا ہے۔ چونکہ ناک تک چہرہ چھپانے سے چہرے کا چوتھائی حصہ چھپ جاتا ہے، اور بیان کی گئی صورت کے مطابق 12 گھنٹے سے کم وقت ہی چہرے کا چھپانا پایا جا رہا ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں بھی ایک صدقہ فطر ادا کرنا، اور اپنے اس فعل سے توبہ کرنا بھی لازم ہے۔

نوٹ: عورتوں کو حالتِ احرام میں غیر محرم سے پردہ کرنے کے لیے چہرے کے ساتھ کوئی چیز مس کیے بغیر، آڑ کرنے کی اجازت ہے، مثلا ہاتھ کا پنکھا، کسی کاغذ یا کپڑے، یا کسی کتاب وغیرہ کو چہرے سے کچھ دور رکھ کر آڑ کرلے۔

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن احرام کی ممنوع کام ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”یہ احرام تھا اس کے ہوتے ہی یہ کام حرام ہوگئے۔۔۔۔۔منہ یا سر کسی کپڑے وغیرہ سے چھپانا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 732، 733، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی عالمگیری میں ہے ’’و لو غطی المحرم راسہ او وجھہ یوما فعلیہ دم و ان کا ن اقل من ذلک فعلیہ صدقۃ کذا فی الخلاصہ، و کذا اذا غطاه لیلۃ کاملۃ سواء غطاہ عامدا او ناسیا او نائما، اذا غطی ربع راسہ فصاعدا یوما فعلیہ دم و ان کا ن اقل من ذالک فعلیہ صدقۃ‘‘ ترجمہ: اور اگر محرم نے اپنا سر یا چہرہ چھپایا ایک دن، تو اس پر ایک دم ہے اور اگر ایک دن سے کم چھپایا، تو اس پر صدقہ ہے، ایسے ہی خلاصہ میں ہے اور اسی طرح جب وہ ایک پوری رات چھپائے برابر ہے کہ ان (چہرے اور سر) کو چھپایا ہو جان بوجھ کر یا بھول کر یا سوتے ہوئے، جب چوتھائی سر یا اس سے زیادہ پورا ایک دن چھپایا تو اس پر دم ہے اور اگر اس سے کم ہو، تو اس پر صدقہ ہے۔ (فتاوی عالمگیری، الفصل الثانی فی اللبس، جلد 1، صفحہ 242، مطبوعہ:کوئٹہ)

جدالممتار علی رد المحتار میں ہے ’’وفی الاقل صدقۃ ای اذا ستر کل راسہ او وجھہ او ربع احدھما اقل من یوم او لیلۃ ففیہ نصف صاع، قلت: و کذا اذا ستر اقل من ربع راسہ او وجھہ یوما کاملا او لیلۃ کاملۃ ففیہ ایضا نصف صاع ۔۔بقی ما اذا ستر اقل من الربع فی اقل من یوم او لیلۃ ولا شک فی منعہ و کراھتہ تحریما‘‘ ترجمہ: اور کم میں صدقہ ہے یعنی جب سارا سر یا چہرہ یا ان دونوں میں سے کسی ایک کا چوتھائی ایک دن یا ایک رات سے کم چھپایا، تو اس میں نصف صاع ہے، میں کہتا ہوں اور اسی طرح جب چوتھائی سر یا چہرے سے کم کامل ایک دن یا ایک رات چھپایا، تو اس میں بھی نصف صاع ہے، باقی رہا وہ کہ جب چوتھائی سے کم کامل ایک دن یا ایک رات سے کم چھپایا، تو اس کے منع اور مکروہ تحریمی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ (جد الممتار علی رد المحتار، باب الجنایات، جلد 4، صفحہ 322، 323، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اگر جرم بلاعذر شرعی ہو، تو کفارے کے ساتھ ساتھ گناہ بھی ہوتا ہے، چنانچہ ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری میں ہے ”(المحرم اذا جنی عمداً بلا عذر یجب علیہ الجزاء) ای جزاء فعلہ وھوالکفارۃ (والاثم) ای وتدارک اثمہ وھو التوبۃ عن المعصیۃ (وان جنی بغیر عمد او بعذر فعلیہ الجزاء دون الاثم)“ ترجمہ: محرم جب جان بوجھ کر بلاعذر جرم کرے، تو اس پر اپنے اس فعل کی جزا یعنی کفارہ بھی لازم ہوتا ہے اور گناہ بھی ہوتا ہے یعنی اس کے گناہ کو ختم کرنے والی چیز معصیت سے توبہ کرنا ہے اور اگر اس نے انجانے میں یا عذر کی وجہ سے جرم کیا تو اس پر اس فعل کا کفارہ لازم ہے، گناہ نہیں۔ (ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری، صفحہ 421، مطبوعہ: پشاور)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہوا: "مستورات منہ پر پنکھا کھجور کا لگا لیتی ہیں یقینا وہ پنکھا کنپٹی اور ناک اور منہ سے لگتا ہے اور چہرہ پوشیدہ بھی رہتا ہے احرام کی حالت میں کیا کرنا چاہئے، نماز پڑھتے وقت جبکہ پردہ کی جگہ نہ ہو پنکھا اونچا اٹھا ہو مشکل سے رکے گا، علاوہ ازیں چہرہ نامحرمان کی نظر سے مخفی رکھنا دشوار ہے اس کے متعلق صاف الفاظ میں تحریر فرمائیے جو سمجھ میں آسکے۔"                                               

 تو آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”پنکھا سر پر مضبوط باندھیں کہ اٹھا رہے اور بڑا ہو کہ اٹھا رہنے کی عادت میں چہرہ اجانب سے چھپارہے پھر بھی اگر احیاناً چہرہ پر ڈھلک آئے یا کنپٹی یا ناک یا منہ سے لگے اگر منہ کی ٹکلی کے چہارم تک نہ پہنچے تو کفارہ کچھ نہیں، نہ قربانی نہ صدقہ کہ نہ چہارم منہ چھپایا نہ چار پہر تک اسے دوام رہا، اس صورت میں کراہت و معصیت ہوتی مگر جبکہ وہ بلا قصد ہے اور اسے قائم نہ رکھا گیا تو مواخذہ نہیں، ہا ں اگر چہارم منہ کی ٹکلی چھپ جائے گی تو ضرور صدقہ دینا آئے گا، احکام جو شرع مطہر نے ارشاد فرمائے صدقِ دل سے ان کا اہتمام ہو تو وہی جس کے احکام ہیں مدد فرماتا اور آسان کر دیتا ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 715 تا 716، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5209
تاریخ اجراء: 03 صفر المظفر 1448ھ/18 جولائی 2026ء