مکہ سے عمرہ کا احرام باندھ سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مکہ مکرمہ سے احرام باندھنے سے متعلق حدیث کا درست معنی
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حدیث پاک میں ہے (پھر جو ان میقاتوں کے اندر کا باشندہ ہو تو اس کا احرام اپنے گھر سے ہے اور اسی طرح حتی کہ مکہ والے مکہ سے ہی احرام باندھیں۔ (مسلم، بخاری)
کیا مکی عمرہ کا احرام حرم سے باندھ سکتا ہے؟ اگر نہیں باندھ سکتا تو اس حدیث پاک کا کیا جواب ہے؟ شرعی رہنمائی فرما دیں۔
جواب
جمہور علمائے کرام کے نزدیک حکم یہی ہے کہ جوشخص حدود حرم میں موجود ہو، چاہے وہ مکہ کا رہائشی ہو یا غیر رہائشی، اگر عمرے کا احرام باندھنا چاہے، تو اس کےلئے لازم ہے کہ وہ حدود حرم سے باہر جائے اوروہاں سے احرام باندھ کر عمرہ کی ادائیگی کرے، کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حدود حرم میں موجود تھیں، انہوں نے عمرے کا احرام باندھنا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدود حرم سے باہر جا کر تنعیم نامی جگہ سے احرام باندھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔
جہاں تک سوال میں پوچھی گئی حدیث پاک کا تعلق ہے، تو اس کے متعلق شارحین کرام نے فرمایا ہے کہ حدیثِ پاک کے یہ الفاظ : ”مکہ والے مکہ سے ہی احرام باندھیں“ یہ حج کے احرام کے ساتھ خاص ہے۔ عمرہ اس میں شامل نہیں ہے، عمرے کا احرام باندھنے کے لئے حدودِ حرم سے باہر، حل میں جانا ہوگا۔
مصنف عبد الرزاق میں ہے: ”عن الزھری قال یھل اھل مکۃ بالحج من مکۃ فمن اراد ان یھل بعمرۃ خرج الی التنعیم“ ترجمہ: امام زہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ: اہل مکہ حج کا احرام، مکہ سے باندھیں اور جس مکی کا عمرہ کرنے کا ارادہ ہو، وہ تنعیم کی طرف نکل جائے۔ (مصنف عبد الرزاق، جلد 4، صفحہ 451، حدیث 9864، مطبوعہ دار التاصیل)
صحیح بخاری شریف میں ہے: ”ان عبدالرحمن بن ابی بکر اخبرہ ان النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم امرہ ان یردف عائشۃ و یعمرھا من التنعیم“ ترجمہ: حضرت عبد الرحمن بن ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: کہ رسول پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ساتھ لے جائیں، اور تنعیم سے انہیں عمرے کے احرام کی نیت کروائیں۔ (صحیح بخاری، جلد 3، صفحہ 4، حدیث 1784، مطبوعہ مصر)
اس حدیث پاک کے تحت علامہ عینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”ان المعتمر المکی لابد لہ من الخروج الی الحل ثم یحرم منہ وانما عین التنعیم ھنا دون المواضع التی خارج الحرم لان التنعیم اقرب الی الحل من غیرھا “ ترجمہ: مکی شخص عمرہ کرنا چاہے، تو اس کے لئے حدود حرم سے باہر جانا اور وہاں سے احرام باندھنا ضروری ہے۔ اس حدیث پاک میں تنعیم کو اس لئے خاص کیا گیا کہ تنعیم باقی مقامات کے مقابلے میں سب سے قریب ہے۔ (عمدۃ القاری، جلد 10، صفحہ 120، مطبوعہ بیروت)
اس حدیث پاک کے تحت نزھۃ القاری میں ہے: ”اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ جو مکے کا باشندہ ہو، یا مکے میں مقیم ہو اور عمرہ کرنا چاہے، تو اسے واجب ہے کہ حرم سے باہر جاکر احرام باندھے تاکہ ایک گونہ سفر پایا جائے۔ دوسرا یہ کہ اس کے لئےسب سے موزوں جگہ تنعیم ہے۔“ (نزھۃ القاری، جلد 3، صفحہ 206، فرید بک سٹال، لاہور)
نخب الافکار میں ہے: ”جماھیر العلماء من التابعین و غیرھم منھم ابو حنیفۃ و اصحابہ و مالک و الشافعی و احمد و اسحاق ابو ثور و غیرھم فانھم قالوا: وقت العمرۃ لمن کان بمکۃ الحل و ھو خارج الحرم فمن ای الحل احرموا بھا جاز سواء کان ذلک التنعیم او غیرہ من الحل“ ترجمہ: تابعین اور ان کے علاوہ جمہور علمائے کرام جیسے امام اعظم، اور ان کے شاگرد، امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام اسحق ، امام ابو ثور اور ان کے علاوہ دیگر علمائے کرام رحمہم اللہ اجمعین فرماتے ہیں کہ مکی کے لئے عمرے کی میقات حل ہے، لہذا حل میں کسی بھی جگہ سے احرام باندھ لیا، تو کافی ہے چاہے وہ تنعیم سے ہو یا کسی اور جگہ سے۔ (نخب الافکار، جلد 10، صفحہ 157، مطبوعہ قطر)
اہل مکہ کے لئے میقات، مکہ ہی ہے، اس حدیث پاک کا جواب یہ ہے کہ یہ حج کے احرام کے ساتھ خاص ہے، عمرہ کے احرام کے لئے حدودِ حرم سے باہر جانا ہوگا۔ نبی کریم علیہ الصلوۃ و السلام نے جن جگہوں کو میقات بیان کیا، اس کے متعلق بخاری شریف میں ہے: ”عن ابن عباس رضی اللہ عنہ ما قال: وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم لاھل المدینۃ ذا الحلیفۃ و لاھل الشام الجحفۃ و لاھل نجد قرن المنازل و لاھل الیمن یلملم“ فھن لھن و لمن اتی علیھن من غیر ھن لمن کان یرید الحج و العمرۃ فمن کان دونھن فمھلہ من اھلہ و کذاک حتی اہل مکۃ یھلون منھا“ ترجمہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل نجد کے لئے قرن المنازل اور اہل یمن کے لئے یلملم کو میقات مقرر کیا ہے۔ لہذا جو لوگ وہاں رہتے ہیں یا ان کے علاوہ وہاں سے گزرتے ہیں، یہ ان سب کے لیے میقات ہیں جبکہ وہ حج و عمرے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ جو ان مقامات کے اندر رہنے والے ہیں، وہ اپنے گھر سے احرام باندھیں، اسی طرح اہل مکہ، مکہ شریف سے احرام باندھیں۔ (صحیح بخاری، جلد 2، صفحہ 134، حدیث 1526، مطبوعہ مصر)
صحیح بخاری کی شرح، شرح ابن بطال میں ہے: ”و يدل امر النبى عليه السلام عائشة أن تخرج من الحرم و تحرم بعمرة، على أن مكة ليست بميقات يحرم منها للعمرة، فبان بهذا أن معنى قوله عليه السلام فى حديث ابن عباس: (حتى أهل مكة يهلون من مكة) أنه أراد الإحرام بالحج فقط، دون الإحرام بالعمرة“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کو حدودِ حرم سے باہر نکل کر عمرہ کا احرام باندھنے کا حکم دینا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مکہ مکرمہ، مکے شریف سے عمرے کا احرام باندھنے والوں کے لیے میقات نہیں ہے۔ اسی سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث پاک ”اہل مکہ، مکہ سے احرام باندھے“ کا مطلب واضح ہو گیا کہ اس سے مراد صرف حج کا احرام ہے، عمرے کا احرام مراد نہیں ہے۔“ (شرح صحيح البخاري ابن بطال، جلد 4، صفحہ 195، مطبوعہ رياض)
ایک حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے علامہ علی قاری مرقاۃ المفاتیح میں فرماتے ہیں : ”دل الحديث على أن المكي ميقاته مكة في الحج و العمرة و المذهب أن المعتمر يخرج إلى الحل لأنه عليه الصلاة و السلام أمر عائشة رضي اللہ عنها بالخروج فهذا الحديث مخصوص بالحج“ ترجمہ: یہ حدیث پاک دلالت کرتی ہے کہ مکی کی میقات حج و عمرہ میں، مکہ ہے، حالانکہ مؤقف یہ ہے کہ حدودِ حرم سے عمرہ کرنے والا، حل میں جائے گا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کو حل میں جانے کا حکم دیا، لہذا یہ حدیثِ پاک حج کے ساتھ خاص ہوگی۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 5، صفحہ 1746، مطبوعہ بیروت)
لمعات التنقیح میں ہے: ”و قوله: (حتى أهل مكة يهلون منها) أي: من مكة، و هذا مخصوص، بالحج“ ترجمہ: اہل مکہ، مکہ سے ہی احرام باندھیں، یہ حکم حج کے ساتھ خاص ہے۔ (لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح جلد 5، صفحہ 282 ، مطبوعہ دار النوادر، دمشق)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Gul-3256
تاریخ اجراء: 24 صفر المظفر 1446ھ / 30 اگست 2024ء