logo logo
AI Search

عمرہ کرنا کب واجب اور کب سنت ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عمرہ کب واجب یا سنت ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کب عمرہ واجب اور کب سنت ہوتا ہے؟

جواب

صاحبِ استطاعت کے لئے زندگی میں ایک بار عمرہ کرنا سنت مؤکدہ ہے مگر واجب نہیں ہے۔ واجب تب ہوگا جبکہ اس کی منت مانی ہو۔ اس کے علاوہ اگر کوئی شخص میقات کے باہر سے حرم میں جانے کیلئے میقات سے گزر رہا ہو تو تعظیمِ حرم کیلئے اس پر حج یا عمرہ کرنا واجب ہوگا اور میقات سے حج یا عمرہ کے احرام کے بغیر گزرنا جائز نہیں ہوگا۔

تنویر الابصار و در مختار میں ہے: ”العمرۃ فی العمر مرۃ سنۃ مؤکدۃ“ یعنی عمرہ زندگی میں ایک بار سنتِ مؤکدہ ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 545، مطبوعہ: دار المعرفۃ، بیروت)

علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”العمرۃ سنۃ مؤکدۃ لمن استطاع“ یعنی صاحبِ استطاعت کے لئے عمرہ کرنا سنتِ مؤکدہ ہے۔ (فتح باب العنایۃ، جلد 2، صفحہ 20، مطبوعہ: بیروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے: ’’العمرة عندنا سنة وليست بواجبة‘‘ یعنی عمرہ ہمارے نزدیک سنت ہے، واجب نہیں ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 1، صفحہ 237، مطبوعہ: کوئٹہ)

بدائع الصنائع میں ہے: ”يصح النذر بالصلاة والصوم والحج والعمرة و الاحرام بهما“ یعنی نماز، روزہ، حج، عمرہ اور ان دونوں کے احرام کی منت ماننا درست ہے۔ (بدا ئع الصنائع، جلد 5، صفحہ 82، مطبوعہ: دار الكتب العلميہ، بیروت)

علامہ شیخ رحمت اللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ لباب المناسک میں فرماتے ہیں: ”و حکمھا وجوب الاحرام منھا لأحد النسکین وتحریم تأخیرہ عنھا لمن أراد دخول مکۃ أو الحرم وإن کان لقصد التجارۃ أو غیرھا ولم یرد نسکاً، ولزوم الدم بالتاخیر و وجوب أحد النسکین“ یعنی میقات کا حکم یہ ہے کہ جو شخص مکہ یا حرم میں داخل ہونے کا ارادہ کرے اگرچہ تجارت یا کسی اور کام کے لیے، اگرچہ اس کا حج یا عمرہ کرنے کا ارادہ نہ ہو، (پھر بھی اُس پر) میقات سے حج یا عمرہ میں سے کسی ایک کا احرام باندھنا واجب ہے اور احرام کو میقات سے مؤخر کرنا حرام ہے اور اگر احرام کو میقات سے مؤخر کردیا تو دَم لازم ہے اور حج یا عمرہ میں سے کسی ایک کی ادائیگی بھی واجب ہے۔ (لباب المناسک وعباب المسالک، فصل فی مواقیت، الصنف الأول، ص 77، مبطوعہ: دار قرطبۃ، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی

فتوی نمبر: Web-2609

تاریخ اجراء: 27 جمادی الاولٰی 1447ھ/19 نومبر 2025ء