logo logo
AI Search

عمرے میں سعی کرنا سنت ہے یا واجب؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

عمرے میں سعی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

عمرے میں سعی کرنا واجب ہے۔ نیز اس کا حلق یا تقصیر سے پہلے ہونا بھی واجب ہے۔ البحر العمیق میں ہے ”أن السعی واجب“ ترجمہ: (عمرہ میں) سعی واجب ہے۔ (البحر العمیق، ج 3، ص 1282، مطبوعہ: مکۃ المکرمۃ)

شمس الائمہ، امام سَرَخْسِی علیہ الرحمہ (سالِ وفات: 483ھ / 1090ء) لکھتے ہیں: و السعي من  أعمال  العمرة فعليه أن يأتي به قبل التحلل بالحلق" ترجمہ: اور سعی عمرے کے افعال میں سے ہے، لہٰذا عمرہ کرنے والے پر واجب ہے کہ حلق کے ذریعے احرام سے باہر نکلنے سے پہلے سعی کا واجب ادا کرے۔ (المبسوط، ج 4، ص 52، مطبوعہ: بیروت)

حلق سے پہلے سعی واجب ہے، پہلے احرام کھول لیا تو دم لازم ہو گا، صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: عمرہ کی سعی میں احرام واجب ہے یعنی اگر طواف کے بعد سر مونڈا لیا پھر سعی کی، تو سعی ہوگئی، مگر چونکہ واجب ترک ہوا، لہٰذا دَم واجب ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1109، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5273
تاریخ اجراء: 09 صفر المظفر 1448ھ / 24 جولائی 2026ء