logo logo
AI Search

کیا احرام کی حالت میں مچھر یا کھٹمل مار سکتے ہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

احرام کی حالت میں مچھر یا کھٹمل مار دیا، تو کیا حکم ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

احرام کی حالت میں کسی نے مچھر یا کھٹمل مار دیا ، تو کیا کفارہ لازم ہوگا؟

جواب

حالتِ احرام میں کسی نےمچھر یا کھٹمل مار دیا، تو اس کی وجہ سے کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا اور حدودِ حرم میں بھی ان کو مارنے کی اجازت ہے کہ یہ حشرات الارض ہیں اور ان سے ایذا متصور ہے۔

بہار شریعت میں ہے:” کوّا، چیل، بھیڑیا، بچھو، سانپ، چوہا، گھونس، چھچوندر، کٹکھنا کتّا، پِسُّو، مچھر، کلّی، کچھوا، کیکڑا، پتنگا، کاٹنے والی چیونٹی، مکھی، چھپکلی، بُر اور تمام حشرات الارض بِجو، لومڑی، گیدڑ جب کہ یہ درندے حملہ کریں یا جو درندے ایسے ہوں جن کی عادت اکثر ابتداءحملہ کرنے کی ہوتی ہے جیسے شیر، چیتا، تیندوا، اِن سب کے مارنے میں کچھ نہیں۔ یوہیں پانی کے تمام جانوروں کے قتل میں کفارہ نہیں۔“(بہار شریعت،ج 1،حصہ 6،ص 1183،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2564

تاریخ اجرا: 04جمادی الاولٰی1447ھ / 27 اکتوبر 2025ء