logo logo
AI Search

طوافِ زیارت کے بعد سعی کے لیے احرام کا حکم؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا طوافِ زیارت کے بعد سعی کے لیے احرام ضروری ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر حج تمتع کرنے والا سات یا آٹھ ذو الحجہ کو حج کا احرام باندھنے کے بعد نفلی طواف کرکے حج کی سعی نہیں کرتا اور حج کی قربانی کے بعد حلق یا تقصیر کے ذریعے احرام سے باہر آنے کے بعد طواف زیارت کے ساتھ سعی کرتا ہے، تو کیا اس سعی کے لیے احرام ہونا ضروری ہے ۔؟ اور اگر اِس سعی کو احرام کے ساتھ کرنا ضروری ہے، تو کیا اس احرام کے لیے نیت اور احرام کی پابندیاں بھی ہوں گی؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں جب کسی حج تمتع کرنے والے نے حج سے پہلے سعی نہیں کی اور حج کی ادائیگی کے بعد احرام کھول کر طواف زیارت کے بعد سعی کرنی ہے، تو اب اس سعی کے لیےاحرام شرط نہیں اوراس میں سنت بھی یہی ہے کہ جب سعی وقوفِ عرفہ کے بعد ہو، تو احرام کھولنے کے بعد ہو۔

لباب المناسک و مسلک المتقسط میں ہے

(و ان کان) ای سعیہ (للحج بعدہ) ای بعد الوقوف (فلا یشترط) ای وجود الاحرام

ترجمہ: اور اگر حج کی سعی وقوفِ عرفہ کے بعد ہو، تو احرام شرط نہیں۔ (لباب المناسک مع المسلک المتقسط، صفحہ 248، مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: (سعی) وقوف عرفہ کے بعد ہو تو سنت یہ ہے کہ احرام کھول چکا ہو۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1109، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-3495
تاریخ اجراء: 26 رجب المرجب 1446ھ / 27 جنوری 2025ء