حج تمتع میں عمرہ کے بعد مدینہ سے حج کا احرام باندھنا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حج تمتع والے کا عمرہ کرنے کے بعد مدینہ جانا اور واپسی میں حج کا احرام باندھ کر آنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
حج تمتع کا ارادہ رکھنے والا شخص پاکستان کی میقات سے عمرے کا احرام باندھ کر گیا اور عمرہ کرنے کے بعد مدینہ منورہ چلا گیا۔ وہاں سے مکہ مکرمہ واپسی چھ ذوالحجہ کو ہے، تو اگر وہ مدینہ شریف سے ہی حج کا احرام باندھ کر آئے تو اس کا حج تمتع رہے گا یا افراد ہو جائے گا ؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں اس کا حجِ تمتع ہوگا کیونکہ حجِ تمتع تب نہیں ہوتا جب عمرے کے بعد اِلمامِ صحیح پایا جائے جبکہ پوچھی گئی صورت میں اِلمامِ صحیح نہیں پایا گیا۔
اِلمام صحیح کے یہ معنی ہیں کہ عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول کر اپنے وطن کو واپس جائے اور وطن سے مراد وہ جگہ ہے جہاں وہ رہتا ہے پیدائش کا مقام اگرچہ دوسری جگہ ہو، جبکہ پوچھی گئی صورت میں اس کا وطن پاکستان ہے اور وہ عمرہ و حج کے درمیان پاکستان نہیں آیا، لہٰذا المام صحیح نہیں پایا گیا۔
بہار شریعت میں متمتع کے حوالے سے ہے: ”مکہ معظمہ ہی میں رہنا اُسے ضرور نہیں، چاہے وہاں رہے یا وطن کے سوا کہیں اور، مگر جہاں رہے وہاں والے جہاں سے احرام باندھتے ہیں یہ بھی وہیں سے احرام باندھے، اگر مکہ مکرمہ میں ہے تو یہاں والوں کی طرح احرام باندھے اور اگر حرم سے باہر اور میقات کے اندر ہے تو حِل میں احرام باندھے اور میقات سے بھی باہر ہو گیا تو میقات سے باندھے۔‘‘ (بہار شریعت، جلد: 1، صفحہ: 1159، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2603
تاریخ اجراء: 14 جمادی الاولٰی 1447ھ/06 نومبر 2025ء