حج تمتع میں عمرہ کے بعد قران کی نیت کرنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حج تمتع والا عمرہ ادا کرنے کے بعد قران کی نیت کرسکتا ہے یا نہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کسی نے حج کے مہینوں میں حج تمتع کی نیت سے عمرے کا احرام باندھ کر عمرہ مکمل ادا کر لیا، جب حلق کا وقت آیا، تو اس نے سوچا کہ میں حلق نہیں کرواتا، اسی کو continue کرتا ہوں، حج قران کروں گا، کیا اس کی نیت درست ہو جائے گی؟ اور حج قران ہو جائے گا؟
جواب
اگر پہلے صرف عمرے کا احرام باندھا ہو، تواب حج قران کے لیے ضروری ہے، کہ عمرے کے چار پھیرے پورے کرنے سے پہلے حج کی نیت کرے، جبکہ پوچھی گئی صورت میں تو عمرے کے تمام پھیرے پورے کر چکا ہے، لہذا اب حج کی نیت کرنے سے حج قران ادا نہیں ہوگا، پس اگر حلق کروائے بغیر، حج کی نیت کرے گا، تو حج کی نیت تو درست ہو جائے گی، لیکن تب بھی یہ حج قران نہیں ہوگا، بلکہ اگر عمرے کا طواف حج کے مہینوں میں تھا (جیسا کہ سوال میں مذکور ہے) تو یہ تمتع ہوگا، اور اب اس صورت میں یہ حکم ہوگا، کہ اگر احرام سے متعلق کوئی جنایت کرے گا، تو قران والے کی طرح اس پر بھی دو کفارے لازم ہوں گے، کیونکہ عمرہ کا احرام بھی باقی ہے، اور حج کا احرام بھی باندھ چکا ہے، تو دو احراموں پر جنایت ہوگی، لہذا کفارے بھی دو ہی لازم ہوں گے۔
در مختار میں ہے "(والقران) لغة الجمع بين شيئين وشرعا (أن يهل) أي يرفع صوته بالتلبية (بحجة وعمرة معا) حقيقة أو حكما بأن يحرم بالعمرة أولا ثم بالحج قبل أن يطوف لها أربعة أشواط" ترجمہ: قران کا لغوی معنی ہے دو چیزوں کو ملانا۔ شرعا یہ کہ میقات سے حج اور عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پڑھے، حقیقۃً یا حکماً۔ اس طرح کہ پہلے عمرے کا احرام باندھے پھر طواف کے چار چکر مکمل کرنے سے پہلے حج کا احرام باندھے۔
اس کے تحت رد المحتار میں ہے "قولہ: (قبل ان یطوف لھا اربعۃ اشواط) فلو طاف الاربعۃ ثم احرم بالحج لم یکن قارنا کما ذکرناہ، بل یکون متمتعا ان کان طوافہ فی اشھر الحج، فلو قبلھا لایکون قارنا ولامتمتعا" ترجمہ: در مختار میں یہ قید لگائی ہے کہ حج قران کے لیے ضروری ہے کہ عمرے کے چار پھیرے پورے کرنے سے پہلے حج کی نیت کرے، پس اگر عمرے کے چار پھیرے لگا لیے، پھر حج کا احرام باندھا تو قران کرنے والا نہیں ہوگا، جیسا کہ ہم نے اسے ذکر کیا ہے، بلکہ متمتع ہوگا، اگر اس کا طواف حج کے مہینوں میں تھا، پس اگر عمرے کا طواف حج کے مہینوں سے پہلے تھا، تو نہ قران کرنے والا ہوگا، اور نہ تمتع کرنے والا۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 633، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے "قِران کے یہ معنی ہیں کہ حج و عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھے یا پہلے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور ابھی طواف کے چار پھیرے نہ کیے تھے کہ حج کو شامل کر لیا یا پہلے حج کا احرام باندھا تھا اُس کے ساتھ عمُرہ بھی شامل کر لیا، خواہ طوافِ قدوم سے پہلے عمرہ شامل کیا یا بعد میں۔ طوافِ قدوم سے پہلے اساء ت ہے کہ خلاف سنت ہے مگر دَم واجب نہیں اور طوافِ قدوم کے بعد شامل کیا تو واجب ہے کہ عمرہ توڑ دے اور دَم دے اور عمرہ کی قضا کرے اور عمرہ نہ توڑا جب بھی دَم دینا واجب ہے۔" (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1154، مکتبۃ المدینۃ، کراچی )
حج تمتع کرنے والے کے متعلق در مختار میں ہے "(ويطوف ويسعى) كما مر (ويحلق أو يقصر) إن شاء" ترجمہ: اور متمتع عمرے کا طواف کرے گا اور سعی کرے گا، جیسا کہ پیچھے گزرا، اور حلق یا تقصیر کروائے گا، اگر وہ چاہے۔
اس کے تحت رد المحتارمیں ہے "(قوله إن شاء) راجع للأمرين أي إن شاء حلق، وإن شاء قصر، وإن شاء بقي محرما ح. وفيه دلالة على أن المتمتع الذي لم يسق الهدي لا يلزمه التحلل كما ذكره الإسبيجابي وغيره" ترجمہ: اگر چاہے، والے جملے کا تعلق دونوں چیزوں سے ہے یعنی اگر چاہے تو حلق کروائے، اور اگر چاہے تو تقصیر کروائے، اور اگر چاہے تو احرام کی حالت میں باقی رہے۔ یہ حاشیہ حلبی میں ہے۔ اور اس میں اس بات پر دلالت ہے، کہ جو متمتع، جانور ساتھ نہیں لایا، اس پر عمرے کے احرام سے باہر آنا ضروری نہیں ہے، جیسا کہ علامہ اسبیجابی وغیرہ نے اسے ذکر کیا ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحج، باب التمتع، ج 03، ص 642، مطبوعہ: کوئٹہ)
رد المحتار میں ہے "اعلم أن المتمتع إذا أحرم بالحج، فإن كان ساق الهدي أو لم يسق ولكن أحرم به قبل التحلل من العمرة صار كالقارن، فيلزمه بالجناية ما يلزم القارن" ترجمہ: جان لے کہ! متمتع جب حج کا احرام باندھے، تو اگر وہ جانور ساتھ لایا تھا، یا جانور تو ساتھ نہ لایا، لیکن عمرے کے احرام سے نکلنے سے پہلے اس نے حج کا احرام باندھ لیا، تو وہ قران کرنے والے کی طرح ہو گیا، پس اس پر جنایت سے وہی کچھ لازم ہوگا، جو قران کرنے والے پر لازم ہوتا ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الحج، باب التمتع، ج 03، ص 645، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے "عمرہ سے فارغ ہو کر حلق بھی ضروری نہیں۔ اُسے یہ بھی اختیار ہے کہ سر نہ مونڈائے بدستور محرم رہے۔۔۔۔ اگر جانور نہ لایا اور عمرہ کے بعد احرام کھول ڈالا اب حج کا احرام باندھا اور کوئی جنایت واقع ہوئی تو جرمانہ مثل مفرد کے ہے اور وہ احرام باقی تھا تو جرمانہ قارن کی مثل ہے۔" (بہار شریعت، ج 01، حصہ 16، ص 1159، 1160، مکتبۃ المدینہ)
فتاوی رضویہ میں ہے "جہاں ایک دم یا صدقہ ہے قارن پر دو ہیں۔" (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 762، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5052
تاریخ اجراء: 04 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 21 مئی 2026ء