حج کے بعد عمرہ کرنے کے لیے طواف وداع کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حج کے بعد عمرہ کرنے کے لیے طواف وداع کرنا لازم ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جس شخص نے حج کر لیا مگر ابھی دس سے بارہ دن مزید مکے میں گزارنے ہیں، وہ عمرہ کرنا چاہتا ہے تو کیا عمرہ کرنے سے پہلے اسے حج کا طواف وداع کرنا لازم ہے؟ کیونکہ عمرہ کی نیت کیلئے اسے حدود حرم سے باہر جانا پڑے گا تو کیا وہ طواف وداع کئے بغیر حدود حرم سے باہر جاسکتا ہے؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں عمرہ کرنے سے پہلےاسے حج کا طوافِ وداع کرنا لازم نہیں۔
تفصیل یہ ہے کہ طوافِ وداع، آفاقی حاجی یعنی میقات کے باہر سے آنے والے شخص پر افعال حج مکمل کرنے کے بعد واجب ہوتا ہے کہ وہ میقات سے گزرنے سے پہلے پہلے اس کو ادا کرلے، اور یہ اسی صورت میں لازم ہوتا ہے جب آفاقی حاجی، میقات سے باہر جانے کے ارادے سے مکہ سے خارج ہو، اگر آفاقی حاجی کا ارادہ صرف حل جانے کا ہے تو اس صورت میں طواف وداع لازم نہیں ہے بلکہ وہ حل میں کسی جگہ جا سکتا ہے، چونکہ مکہ سے عمرہ کرنے کے لیے حدود حرم سے باہر، حِل میں کسی جگہ (مثلاً مقام تنعیم) سے احرام باندھا جاتا ہے لہٰذا طوافِ وداع سے پہلے حدود حرم سے باہر جا کر عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ ادا کیا جاسکتا ہے ۔
طواف وداع آفاقی حاجی پر واجب ہوتا ہے۔ مسلك المتقسط میں ہے: ”طواف الوداع (ھو واجب علی الحاج الآفاقی) ای دون المکی و المیقاتی“ ترجمہ: طواف وداع آفاقی حاجی پر واجب ہے یعنی مکی اور میقاتی پر واجب نہیں۔ (مسلک المتقسط، صفحہ 279، دار الکتب العلمیہ)
بہار شریعت میں ہے: جب ارادہ رخصت کا ہو طوافِ وداع بے رمل و سعی و اضطباع بجا لائے کہ باہر والوں پر واجب ہے۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1151، مکتبۃ المدینہ، کراچی )
حل کے کسی مقام کی طرف جانے سے طواف وداع واجب نہیں ہوتا۔ اسی میں ہے: ”(ولیس علی الخوارج الی التنعیم) أي مثلا من مواضع الحل (وداع) أي طواف له“ ترجمہ: مقام ِتنعیم یعنی حل کی جگہوں کی طرف جانے والوں پر طواف وداع واجب نہیں ہے۔ (مسلک المتقسط، صفحہ 281، دار الکتب العلمیہ)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ ترتیب سے حج کے افعال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اب تیرھویں کے بعد جب تک مکہ میں ٹھہرو اپنے پیر استاد، ماں باپ خصوصا حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور ان کے اصحاب و عترت اور حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی طرف سے جتنے ہوسکیں عمرے کرتے رہو، تنعیم کو جو مکہ معظمہ سے شمال یعنی مدینہ طیبہ کی طرف تین میل کے فاصلے پر ہے جاؤ وہاں سے عمرہ کا احرام جس طرح اوپر بیان ہوا باندھ کر آؤ اور طواف و سعی حسبِ دستور کر کے حلق یا تقصیر کرلو عمرہ ہو گیا، جو حلق کر چکا اور مثلا اِسی دن دوسرا عمرہ کیا وہ سر پرا سترا پھر وا لے کافی ہے۔ یوں ہی وہ جس کے سر پر قدرتی بال نہ ہوں۔۔۔ جب عزمِ رخصت ہو طوافِ وداع بے رمل وسعی واضطباع بجا لاؤ کہ باہر والوں پر واجب ہے۔ ہاں وقت رخصت عورت حیض و نفاس میں ہو اس پر نہیں۔ پھر دو رکعت مقامِ ابراہیم میں پڑھو۔“ (ملتقطاً از فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 755-756، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی حج و عمرہ میں ایک سوال کے جواب میں فرمایا: صورت مسئولہ میں نہ تو جدہ جانے والے آفاقی حاجی پر طواف وداع واجب ہو گا اور نہ ہی تنعیم یا حل کے کسی اور مقام کو عمرہ یا غیر عمرہ کے ارادے سے جانے والے پر، کیونکہ یہ طواف تو صرف اس آفاقی حاجی پر واجب ہوتا ہے جب و ہ مواقیت خمسہ میں سے کسی میقات سے باہر جانے کا ارادہ کرے۔ (فتاوی حج و عمرہ، جلد 4، صفحہ 133، جمیعت اشاعت اہلسنت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0302
تاریخ اجراء: 23 محرم الحرام 1448ھ/08 جولائی 2026ء