logo logo
AI Search

ناپاک احرام میں عمرہ کرنے سے احرام کی پابندیاں ختم ہوں گی؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

ناپاک احرام پہن کر عمرہ کرنے سے احرام کی پابندیاں ختم ہوجائیں گی؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

اگر ناپاک احرام میں عمرہ کیا، تو عمرہ اداہو جائے گا، اور طواف وسعی کے بعد حلق یا تقصیر کرلینے کے بعد احرام کی پابندیاں بھی ختم ہو جائیں گی، لیکن ایسا کرنا نہیں چاہیے کہ طواف میں کپڑے پاک ہونا سنت ہے، ناپاک کپڑوں میں طواف کیا، تو خلافِ سنت عمل کیا البتہ دَم یا صدقہ لازم نہیں ہوگا۔

ستائیس واجباتِ حج میں ہے: ”نجاستِ حقیقی مثلاً جسم یا لباس پر پیشاب کا لگا ہونا وغیرہ طواف میں اس سے پاک ہونا واجب نہیں ہے۔ البتہ تاکید ضرور ہے اور نجاستِ حقیقی کا پایا جانا کراہتِ تنزیہی بلکہ اساءت کا سبب ضرور بنتا ہے۔ البتہ ایسی صورت میں دَم یا صدقہ لازم نہ ہوگا۔ (ملخص از حج کے 27 واجبات، صفحہ 144، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

البتہ اگر ناپاک احرام میں طواف کے بعد کی دو رکعت واجب نماز پڑھی تو اگر نجاست بقدرِ مانع نماز تھی (یعنی اتنی نجاست تھی کہ جس سے نماز نہ ہو) تو وہ نماز ادا نہ ہوئی، دوبارہ پڑھنی ہوگی۔

بہار شریعت میں ہے:”نَجاستِ غلیظہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کپڑے یا بدن میں ایک درہم سے زِیادہ لگ جائے، تو اس کا پاک کرنا فرض ہے، بے پاک کیے نماز پڑھ لی تو ہو گی ہی نہیں اور قصداً پڑھی تو گناہ بھی ہوا اور اگر بہ نیتِ اِستِخفاف ہے تو کفر ہوا اور اگر درہم کے برابر ہے تو پاک کرنا واجب ہے کہ بے پاک کیے نماز پڑھی تو مکروہ تحریمی ہوئی یعنی ایسی نماز کا اِعادہ واجب ہے اور قصداً پڑھی تو گنہگار بھی ہوا اور اگر درہم سے کم ہے تو پاک کرنا سنّت ہے، کہ بے پاک کیے نماز ہوگئی مگر خلافِ سنّت ہوئی اور اس کا اِعادہ بہتر ہے۔ اگر نَجاست گاڑھی ہے جیسے پاخانہ، لید، گوبر تو درہم کے برابر، یا کم، یا زِیادہ کے معنی یہ ہیں کہ وزن میں اس کے برابر یا کم یا زِیادہ ہو اور درہم کا وزن شریعت میں اس جگہ ساڑھے چار ماشے اور زکوٰۃ میں تین ماشہ رتی ہے اور اگر پتلی ہو، جیسے آدمی کا پیشاب اور شراب تو درہم سے مراد اس کی لنبائی چوڑائی ہے اور شریعت نے اس کی مقدار ہتھیلی کی گہرائی کے برابر بتائی یعنی ہتھیلی خوب پھیلا کر ہموار رکھیں اور اس پر آہستہ سے اتنا پانی ڈالیں کہ اس سے زِیادہ پانی نہ رک سکے، اب پانی کا جتنا پھیلاؤ ہے اتنا بڑا درہم سمجھا جائے اور اس کی مقدار تقریباً یہاں کے روپے کے برابر ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 389، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2617
تاریخ اجراء: 14 جمادی الاولٰی 1447ھ / 06 نومبر 2025ء