logo logo
AI Search

نفلی طواف ادھورا چھوڑنے کا شرعی حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نفلی طواف ادھورا چھوڑ دیا تو کیا کریں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عمرہ وغیرہ سے فارغ ہو کر بغیر احرام باندھے میں نے اپنے مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لئے چار طواف کیے لیکن ہر مرتبہ ہر طواف کے صرف چار، چار پھیرے کیے، وقت کی کمی کی وجہ سے تین، تین پھیرے چھوڑ دیئے اور اب پاکستان واپس آچکا ہوں۔ اس صورت میں کیا حکم ہے؟ کوئی دَم یا صدقہ وغیرہ تو لازم نہیں؟

جواب

نفلی طواف جب شروع کر دیا جائے تو مثلِ نماز اس کا پورا کرنا واجب ہو جاتا ہے، اس کو ادھورا چھوڑ دینا ناجائز و گناہ ہے۔ لہذا ہر طواف میں تین، تین پھیرے چھوڑنے کی وجہ سے آپ گناہ گار ہوئے، اس کی توبہ آپ پر واجب ہے۔ نیز طوافِ قدوم کی طرح نفلی طواف اگر شروع کر کے اس کے اکثر یعنی چار یا اس سے زائد پھیرے ترک کردیئے جائیں تو دَم لازم ہوتا ہے اور اگر اقل یعنی چار سے کم ایک، دو یا تین پھیرے ترک کردیئے جائیں تو ہر پھیرے کے عوض ایک صدقہ لازم ہوگا اور دونوں صورتوں میں رہ جانے والے پھیرے اگر مکمل کرلئے تو پہلی صورت میں دَم اور دوسری صورت میں لازم ہونے والے صدقے ساقط ہوجائیں گے۔ لہذا صورتِ مستفسرہ (یعنی پوچھی گئی صورت) میں چار نفلی طوافوں میں اکثر سے کم یعنی تین، تین پھیرے چھوڑنے کی وجہ سے آپ پر 12 صدقات لازم ہیں، اگر ممکن ہو تو آپ واپس جائیں اور چاروں طوافوں کے رہ جانے والے بقیہ پھیرے پورے کر لیں، اس سے آپ پر لازم ہونے والے صدقات، ساقط ہوجائیں گے اور اگر واپس جا کر رہ جانے والے پھیرے پورے نہیں کرتے تو 12 صدقات فقراءِ شرعیہ کو ادا کریں۔ صدقہ سے مراد ایک صدقہ فطر کی مقدار ہے یعنی گندم یا اس کا آٹا یا ستونصف صاع (2 کلو سے 80 گرام کم) یا اس کی قیمت ہے اور جَو یا کھجور ایک صاع (4 کلو سے 160 گرام کم) یا اس کی قیمت ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سرفراز عطاری مدنی
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ ذو القعدۃ الحرام 1440ء