حیض کی حالت میں طواف زیارت کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت کے مخصوص ایام میں فرض طواف کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ حج کے موقع پر اگر کسی عورت کو 8 ذو الحجۃ الحرام کے دن ماہواری آئے اور ماہواری ختم ہونے سے پہلے اس کی واپسی کی ٹکٹ ہو اور اس نے طواف زیارت نہ کیا ہو، ٹکٹ منسوخ کروانے میں شدید دشواری کا سامنا ہو تو اس صورت میں اس کے لئے شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں کیا حل ہے؟
جواب
ایسی عورت اپنی ٹکٹ منسوخ کروائے اور پاک ہونے کے بعد طوافِ فرض ادا کرے، اگرچہ بارہویں کے بعد ہی پاک ہو، اگر ٹکٹ منسوخ کروانے میں اپنی یا ہمسفروں کی سخت تکلیف و دشواری کا سامنا ہو تب بھی ایسی عورت کے لئے اس ناپاکی کی حالت میں مسجد میں داخل ہونا ناجائز و گناہ ہے۔ اور اگر وہ اسی حالت میں داخل ہوگئی اور اس نے طواف بھی کرلیا تو گناہ گار ہوگی البتہ اس صورت میں طواف والا فرض ادا ہوجائے گا اور اس پر اس گناہ سے توبہ کرنا لازم ہوگی اور ناپاکی کی حالت میں طواف کرنے کے سبب حرم میں ایک بدنہ (یعنی گائے یا اونٹ کی قربانی) دینا اس پر لازم ہوگا، پھر بعد میں اگر بارہویں کے غروبِ آفتاب تک طہارت کرکے طوافُ الزیارۃ کا اعادہ کرنے میں کامیابی ہوگئی تو کفارہ ساقط ہوگیا اور بارہویں کے بعد اگر پاک ہونے کے بعد موقع مل گیا اور اعادہ کرلیا تو بدنہ ساقط ہوگیا مگر دم دینا ہوگا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Book-208