ایک احرام سے کتنے عمرے کر سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ایک احرام سے دو عمرہ کرنے کا حکم؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے مسجدِ عائشہ سے ایک ساتھ دو عمروں کی نیت سے احرام باندھا۔ دو عمروں کی نیت کرتے ہوئے اس کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اسی نیت کے ساتھ دو عمرے کرے گا، پہلا عمرہ کرنے کے بعد وہ حالتِ احرام میں ہی ہوگا اور اسی احرام سے دوسرا عمرہ کرے گا، دوسرے عمرے کی نیت کے لئے مسجد عائشہ آنے کی حاجت نہیں ہوگی اس مذکورہ نیت و ارادے سے زید نے ایک عمرہ کے لئے طواف و سعی کر کے حلق کروایا اور خود کو حالت احرام میں سمجھتے ہوئے اس نے مسجد حرام سے ہی دوسرےعمرے کے لئے تلبیہ پڑھا، اور طواف و سعی کرکے حلق کروایا۔ زید نے دو عمرے کرنے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا ہے، کیا یہ درست ہے؟ زید پر کوئی دَم وغیرہ تو لازم نہیں ہوا؟ راہنمائی فرمادیں۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں زید نے ایک ساتھ دو عمرے کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا ہے یہ شرعاً درست نہیں ہے، زید گناہ گار ہوا، اوراس پر ایک عمرے کی قضا اور ایک دم لازم ہے جو حدود حرم میں ہی اد اکرنا ضروری ہے۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ دو عمروں کا ایک ساتھ احرام باندھنا ناجائز و گناہ ہے اس لیے زید گناہ گار ہوا اور اس پر دوعمروں کی ادائیگی لازم ہوگئی کیونکہ دو عمروں یا متعدد عمروں کا ایک ساتھ احرام باندھ لینے سےاتنی ہی تعداد میں عمرے لازم ہوجاتے ہیں۔ اورایک احرام میں دوعمروں کی نیت کی ہو تودونوں میں سے ایک کا رفض یعنی ایک عمرے کی نیت توڑنا لازم ہوتا ہے، اس رفض عمرہ کے سبب ایک دم بھی لازم ہوتا ہے۔ اگر ایک احرام میں دو عمروں کی نیت کرنے والا ایک عمرے کی نیت ختم نہ کرے تو پہلا عمرہ شروع کرتے ہی دوسرے کا احرام خود بخود ختم ہوجاتا ہے۔
اس لئے پوچھی گئی صورت میں جب زید نے ایک ساتھ دوعمروں کی نیت کرنے کے بعد ان میں سے ایک عمرے کی نیت ختم کیے بغیر ہی ایک عمرے کا طواف شروع کیا تو دوسرے عمرے کا احرام خود بخود ختم ہوگیا، اوراس عمرے کے رفض کی وجہ سے اس پر ایک دم لازم ہوا۔ پھر جب اس نے پہلے عمرے کے طواف و سعی کے بعد حلق کروایا تو وہ احرام سے باہر آگیا اور اس نے جو احرام باندھتے ہوئے ایک ساتھ دو عمروں کی نیت کی تھی ان میں سے ایک عمرہ ادا ہوگیا اب اس پر دوسرے عمرے کی قضا باقی ہے اور ایک عمرے کی رفض کی وجہ سے ایک دم بھی لازم ہے جیسا کہ اوپر اس کی وضاحت گزری۔ نیز زید کا دوسرا عمرہ ادا نہیں ہوا کیونکہ جب اس نے پہلے عمرے کا حلق کروایا تو وہ احرام سے باہر آگیا۔ دوسرا عمرہ کرنے کے لئے حدود حرم سے باہر جا کر عمرے کی نیت کر کے تلبیہ پڑھنا ضروری تھا، جبکہ زید نے نئے سرے سے عمرے کی نیت کیے بغیر ہی مسجد احرام سے تلبیہ پڑھا، اس لئے وہ محرم ہی نہیں ہوا کیونکہ بغیر نیت کے محض تلبیہ پڑھنے سے محرم نہیں ہوتا۔ اس لئے زید نے دوسرے عمرے کے لئے جو طواف کیا وہ نفل ہوگیا اور سعی لغو ہوگئی کہ سعی بطورِ نفل مشروع نہیں ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ جون 2023ء