طواف میں کعبہ کی طرف سینہ یا پیٹھ ہو جائے تو حکم؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دوران طواف قبلہ کو سینہ یا پیٹھ کرنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں نے دعوت اسلامی کی ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ طواف کرتے ہوئے کعبہ کو پیٹھ یا سینہ نہیں کرنا چاہیے، اگر ہو جاتا ہے تو اتنا طواف دوبارہ کرنا ضروری ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر رش وغیرہ کی وجہ سے ایسا ہو جائے تو پھر کیا حکم ہے؟
جواب
طَواف میں سینہ یا پیٹھ کئے جتنا فاصِلہ طے کیا، اُتنے فاصلے کا اِعادہ یعنی دوبارہ کرنا واجِب ہے، اگرچہ رش وغیرہ کی وجہ سے ایسا ہوا ہو۔ اور افضل یہ ہے کہ وہ پھیرا ہی نئے سِرے سے کر لیا جائے۔ اور اگر اعادہ کیے بغیر واپس آگیا، تو دم لازم ہے۔
لباب المناسک میں ہے "الخامس: التیامن وھو اخذ الطائف عن یمین نفسہ وجعل البیت عن یسارہ" ترجمہ: طواف کا پانچواں واجب (کعبہ کی) دائیں جانب طواف کرنا ہے اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ خود کو دائیں جانب رکھے اور کعبہ کو اپنی بائیں جانب رکھے ۔
اس کے تحت المسلک المتقسط میں ہے "لو استقبل البیت بوجھہ وطاف معترضا ۔۔۔۔ او مر معترضا مستدبر البیت لایبطل عندنا۔۔۔یحرم علیہ فعلہ ویجب الاعادۃ او لزوم الجزاء" ترجمہ: اگر کعبہ کو منہ کر کے ترچھا ہو کر طواف یا ترچھا چلتے ہوئے اس حال میں گزرا کہ اس کی پشت بیت اللہ کی طرف تھی، تو ہمارے لازم نزدیک طواف باطل نہیں ہوگا، البتہ اس کا ایسا کرنا حرام ہے، اور اس پر اعادہ کرنایا (اعادہ نہ کرنے کی صورت میں) جزا (دم) ہے۔ (لباب المناسک مع المسلک المتقسط، صفحہ 216، مطبوعہ:پشاور)
در مختارمیں ہے "(واخذ) الطائف (عن یمینہ مما یلی الباب) فتصیر الکعبۃ عن یسارہ۔۔۔۔ولو عکس اعاد مادام بمکۃ، فلو رجع فعلیہ دم" ترجمہ: اور طواف کرنے والا اپنی دائیں جانب، جو کہ باب کعبہ سے ملی ہوئی ہے، وہاں سے شروع کرے، تو یوں کعبہ اس کی بائیں جانب ہو جائے گا، اور اگر اس کا عکس کیا تو جب تک مکہ معظمہ میں ہے، اعادہ کرے گا، پس اگر واپس آگیا، تو اس پر دم لازم ہے ۔
اس کے تحت رد المحتار میں ہے "قولہ: (ولو عکس) بان اخذ عن یسارہ وجعل البیت عن یمینہ، وکذا لو استقبل البیت بوجھہ او استدبرہ وطاف معترضا" ترجمہ: اور اگر اس کے برعکس کیا، یوں کہ اپنی بائیں جانب سے طواف شروع کیا اور کعبہ کو اپنی دائیں جانب رکھا، اور اسی طرح حکم ہے اگر کعبہ معظمہ کو چہرہ یا پیٹھ کر کے ترچھا ہو کر طواف کیا۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحج، ج 03، ص 578، 579، مطبوعہ:کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے "اگر کسی نے اس کے خلاف طواف کیا مثلاً بائیں طرف سے شروع کیا کہ کعبہ معظمہ طواف کرنے میں سیدھے ہاتھ کو رہا یا کعبہ معظمہ کو مونھ یا پیٹھ کر کے آڑا آڑا طواف کیا یا حجرِ اسود سے شروع نہ کیا تو جب تک مکہ معظمہ میں ہے اس طواف کا اعادہ کرے اور اگر اعادہ نہ کیا اور وہاں سے چلا آیا تو دَم واجب ہے۔" (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1099، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
رفیق الحرمین میں ہے "سوال: بھیڑ کے سبب یا بے خیالی میں کسی طواف کے دوران تھوڑی دیر کے لیے اگر سینہ یا پیٹھ کعبہ کی طرف ہو جائے، تو کیا کریں؟ جواب: طواف میں سینہ یا پیٹھ کیے جتنا فاصلہ طے کیا ہو اتنے فاصلے کا اعادہ یعنی دوبارہ کرنا واجب ہے اور افضل یہ ہے کہ وہ پھیرا ہی نئے سرے سے کر لیا جائے ۔" (رفیق الحرمین صفحہ 275، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5183
تاریخ اجراء: 20 محرم الحرام 1448ھ/06 جولائی 2026ء