logo logo
AI Search

عمرہ کیے بغیر جسے واپس بھیج دیا جائے تو احرام سے باہر کیسے اور کب ہوگا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

عمرہ کرنے والے کو جدہ سے واپس بھیج دیا تو اس نے جانور ذبح ہونے سے پہلے حلق کروا لیا تو کیا حکم ہے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید عمرے کی نیت سے حالت احرام میں لاہور سے جدہ ائیر پورٹ پہنچا لیکن کچھ مسائل کی وجہ سے وہ پاسپورٹ کنٹرول کے عملے کی طرف سےکلیئر نہیں ہوا اور اسے ڈی پورٹ کردیا گیا۔ واپس پاکستان آکر وہ اپنے گھر آ گیا۔ یہاں کسی سنی عالم دین سے حکم پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ حرم میں کوئی جانور ذبح کروائیں اور احرام سے باہر آجائیں اور بعد میں اس عمرے کی قضا لازم ہے۔ زید نے حرم شریف میں ایک بندے سے رابطہ کیا کہ جانور ذبح کردو۔ اس نے کہا کہ ٹھیک ہے ایک گھنٹے تک جانور ذبح ہوجائے گا، لیکن اس وقت فوری طور پر جانور حرم میں ذبح کروانے کی صورت نہ بنی۔ تین گھنٹے بعد زید نے اس شخص سے رابطہ کیا لیکن رابطہ نہ ہوا۔ زید سمجھا کہ رات زیادہ ہوگئی ہے شاید اس وجہ سے رابطہ نہیں ہورہا، صبح بات کرلوں گا۔ چونکہ ایک گھنٹے کا وقت دیا تھا، اب تو تین گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا تھا لہذا زید نے یہ سمجھتے ہوئے کہ جانور ذبح ہوگیا ہوگا، احرام سے باہر آنے کی نیت سے سارے سر کا حلق کروالیا۔ حلق ہوتے ہی اس بندے کی کال آگئی کہ جانور نہیں مل رہا تھا لہذا اب ملا ہے تو اسے ذبح کرنے لگا ہوں لہذا حلق کے بعد جانور ذبح ہوا۔ اس دوران مزید احرام کے ممنوعات کا ارتکاب نہیں کیا۔ اس کے بعد کوشش کرنے سے دودن میں ہی مسئلہ حل ہوگیا اور زید نے جا کر عمرہ قضا کرلیا۔ اب عرض یہ ہے کہ اس ساری صورت حال کے پیش نظرزید پر مزید کوئی دم یا کفارہ لازم آیا یا نہیں؟ اگر کفارہ ہے تو کیا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں زید پر مزید ایک دم لازم ہے۔

تفصیل اس میں یہ ہے کہ جب زید حالت احرام میں جدہ پہنچا اور کسی بھی وجہ سے پاسپورٹ کنٹرول کے عملے کی طرف سے کلیئر نہ ہونے کے باعث عمرہ کیے بغیر ڈی پورٹ کردیا گیا تو وہ محصر ہوا کیونکہ عند الشرع احصار جس طرح حج میں متحقق ہوتا ہے، اسی طرح عمرہ میں بھی ہوتا ہے اور محصر اگر ہدی کے ذریعے احرام سے باہر آنا چاہے تو اس کی ایک ہی صورت ہے کہ وہ حرم شریف ہدی (قربانی کی شرائط پر پورا اترنے والا جانور) بھیجے جو اس کی طرف سے ذبح کی جائے یا ہدی کی قیمت بھیجے جس سے جانور خرید کر اس کی طرف سے ذبح کیا جائے۔ ہدی کا جانور ذبح ہونے سے پہلے وہ احرام سے باہر نہیں آسکتا۔ اس پر احرام کی پابندیوں کی رعایت رکھنا لازم ہوتا ہے۔ اور مذکورہ صورت میں جب زید نے حرم میں جانور ذبح ہونے سے پہلے ہی حلق کروا لیا اگرچہ یہ گمان کرتے ہوئے کہ جانور ذبح ہوگیا ہوگا تو اس کی وجہ سے بھی اس پر ایک دم لازم آیا کیونکہ حرم میں ہدی ذبح ہونے سے پہلے محصر محرم پر وہ سب کچھ لازم ہوتا ہے جو غیر محصر محرم پر لازم ہوتا ہے اور غیر محصر محرم اگر دوران احرام اپنا کل یا کم از کم چوتھائی سر منڈالے تو اس پر دم لازم آتا ہے لہذا محصر پر بھی اس کی وجہ سے ایک دم لازم آیا۔

اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ﴿وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِؕ- فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِۚ- وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗؕ-﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور حج اور عمرہ اللہ تعالی کے لئے پورا کرو پھر اگر تم روکے جاؤ تو قربانی بھیجو جو میسر آئے اور اپنے سر نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے۔ (سورۃ البقرۃ، پارہ: 2، آیت: 196)

صحیح بخاری میں ہے: عن نافع ان عبداللہ بن عمر حین خرج الی مکۃ معتمراً فی الفتنۃ قال ان صددتم عن البیت صنعنا کما صنعنا مع رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم فاھل بعمرۃ من اجل ان رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کان اھل بعمرۃ عام الحدیبیۃ حضرت نافع سے مروی ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما جب ایام فتنہ میں عمرہ کے لئے مکہ کی طرف نکلے تو فرمایا کہ اگر تمہیں بیت اللہ سے روک دیا جائے توہم وہی کریں گے جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کی ہمراہی میں کیا۔ پھر عمرے کا احرام باندھا اس لئے کہ حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ (صحیح بخاری، ج 1، ص 331، مطبوعہ لاھور)

محصر کی تعریف بیان کرتے ہوئے فتاوی عالمگیری میں ہے المحصر من أحرم ثم منع عن مضي في موجب الإحرام سواء كان المنع من العدو أو المرض أو الحبس أو الكسر أو القرح أو غيرها من الموانع من إتمام ما أحرم به حقيقة أو شرعا و هذا قول أصحابنا رحمهم اللہ تعالى، كذا في البدائع ترجمہ: محصر وہ شخص ہےکہ جس نے احرام باندھا پھر موجبات احرام کرگزرنے سے روک دیا گیا۔ برابر ہے کہ یہ روکنا دشمن کی طرف سے ہو یا مرض یا قید یا ہڈی ٹوٹنے یا زخم لگنے وغیرہ کی وجہ سے جس چیز کا احرام باندھا ہے اسےحقیقۃً یا شرعاً پوراکرنے سے رکاوٹ ہو اور یہی ہمارے اصحاب کا قول ہے جیسا کہ بدائع میں ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب المناسک، الباب الثاني عشر في الإحصار، جلد 1، صفحہ 255، مطبوعہ بیروت)

احصار جس طرح حج میں ہوتا ہے یونہی عمرہ میں بھی ہوتا ہے چنانچہ بدائع میں ہے: الاحصار کما یکون عن الحج یکون عن العمرۃ عند عامۃ العلماء علما ئے عامہ کے نزدیک احصارجس طرح حج میں ہو تا ہے اسی طرح عمرہ میں بھی ہو تا ہے۔ (بدائع الصنائع، ج 3، ص 190، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)

احصار کا حکم بیان کرتے ہوئے فتاوی عالمگیری میں لکھا ہے: و اما حکم الاحصار فھو ان یبعث بالھدی او بثمنہ لیشتری بہ ھدیاً و یذبح عنہ ما لم یذبح لا یحل و ھو قول عامۃ العلماء سواء شرط عند الاحرام الاھلال بغیر ذبح عند الاحصار او لم یشترط و یجب ان یواعد یوماً معلوماً یذبح عنہ فیحل بعد الذبح و لا یحل قبلہ حتی لو فعل شیئا من محظورات الاحرام قبل ذبح الھدی یجب علیہ ما یجب علی المحرم اذا لم یکن محصراً ترجمہ اور بہر حال احصار کا حکم یہ ہے کہ قربانی یا اس کی قیمت بھیجے تا کہ اس سے قربانی کا جانور خریدا جائے اور اس کی طرف سے ذبح کیا جائے۔ جب تک ذبح نہیں کیا جائے گااحرام نہیں کھلے گا اور یہی قول عامہ علماء کا ہے برابر ہے کہ احرام باندھتے ہوئے احصار کے وقت بغیر ذبح کے احرام کھولنے کی نیت کی ہو یا نہ کی ہو اور واجب ہے کہ ایک معین دن کا وعدہ لے لے جس دن اس کی طرف سے ذبح کیا جائے گا پس ذبح کے بعد احرام کھولے، پہلے نہیں کھول سکتا حتی کہ اگر ذبح سے پہلے ممنوعات احرام میں سے کسی ممنوع کا ارتکاب کیا تو اس پر وہی واجب ہو گا جو محرم پر واجب ہو تاہے جب وہ محصر نہ ہو۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 255، مطبوعہ کوئٹہ)

اگر محصر جانور ذبح ہونے سے پہلے ممنوعات احرام کا ارتکاب کرے اگرچہ یہ گمان کرتے ہوئے کہ جانور ذبح ہوگیا ہوگا تو بھی اس پر کفارہ لازم ہوتا ہے چنانچہ درمختار میں ہے فلو ظن ذبحه ففعل كالحلال فظهر أنه لم يذبح أو ذبح في حل لزمه جزاء ما جنى ترجمہ: پس اگر محصر نے ہدی ذبح ہونے کاگمان کرتے ہوئے، ایسے کام کیے جو غیر محرم کرتا ہے پھر یہ ظاہر ہوا کہ جانور ذبح نہیں ہوا تھا یا حرم میں ذبح نہیں ہوا تھا تو جو جرم اس نے کیا ہے اس کی جزاء اس پر لازم ہوگی۔ (در مختار، کتاب الحج، باب الاحصار، جلد 2، صفحہ 592، مطبوعہ بیروت)

اگر محصر محرم نے ہدی ذبح ہونے سے پہلے حلق کر لیا تو اس پر دم لازم ہوگا۔ جیسا کہ البحر العمیق میں ہے: یحرم علیہ ما یحرم علی المحرم غیر المحصر، فلا یحلق راسہ، و لا یفعل شیئا من محظورات الاحرام حتی یکون الیوم الذی و اعدھم فیہ، و یعلم ان ھدیہ قد ذبح، لقولہ تعالی: ﴿و لا تحلقوا رئوسکم حتی یبلغ الھدی محلہ﴾ حتی لو فعل شیئا من محظورات الاحرام قبل ذبح الھدی یجب علیہ ما یجب علی المحرم اذا لم یکن محصرا، قال صاحب البدائع:حتی لو حلق قبل الذبح یجب علیہ الفدیۃ ترجمہ: محصر محرم پر وہ سب کچھ حرام ہوتا ہے جو غیر محصر محرم پر حرام ہوتا ہے،وہ اپنے سر کا حلق نہیں کرے گا، اور احرام میں ممنوعہ چیزوں میں سے کچھ نہیں کرے گا یہاں تک کہ وہ دن آجائے جس میں انہوں نے باہم وعدہ کیا تھا اور وہ جان لے کہ اس کی ہدی ذبح ہو چکی ہے، اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے اور اپنے سر نہ منڈاؤجب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے حتی کہ اگر محصر محرم نے ہدی ذبح ہونے سے پہلے ممنوعات احرام میں سے کوئی فعل کیا تو اس پر وہی کچھ لازم ہوگا جو غیر محصر محرم پر لازم ہوتا ہے، صاحب بدائع نے فرمایا: اگر محصر محرم نے ذبح سے پہلے حلق کیا تو اس پر دم لازم ہوگا۔ ( البحر العمیق، صفحہ 2093, 94، مطبوعہ مئوسسۃ الریان سعودیہ)

حرم میں ہدی ذبح ہونے سے ہی محصر احرام سے باہر آجاتا ہے، حلق کروانا ضروری نہیں ہوتا تاہم بہتر یہ ہے کہ حلق کروا لے چنانچہ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں: محصر کو احرام سے باہر آنے کے لیے حلق شرط نہیں مگر بہتر ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1196، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی 
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری 
فتویٰ نمبر: JTL-0744
تاریخ اجراء: 17 رجب المرجب 1444ھ / 09 فروری 2023ء