logo logo
AI Search

قارن کے طواف وداع چھوڑنے پر کتنے دم لازم ہوں گے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قارن نے طواف وداع نہیں کیا تو اس پر کتنے کفارے لازم ہوں گے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر قارن نے طوافِ وداع چھوڑ دیا، تو اس کو کتنے دم دینے ہوں گے دو یا ایک؟ کسی نے کہا ہے کہ دو دم دینے ہوں گے، کیونکہ قارن نے دو احرام باندھے ہوتے ہیں، لہذا قارن کےغلطی کرنے پر اس پر دو کفارے لازم ہوتے ہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں قارن پر طوافِ وداع چھوڑ دینے کے سبب صرف ایک دم لازم ہوگا، دو دم لازم نہیں ہوں گے، کیونکہ طواف وداع حج کا واجب ہے اور جن واجبات کا تعلق خاص حج سے یا خاص عمرہ سے ہے، قارن اگر ان کو چھوڑ دے، تو اس پر ایک ہی دم لازم ہوگا، یوہیں اگر واجب چھوڑنے پر صدقہ لازم آتا ہو، تو قارن پر ڈبل صدقہ نہیں ہوگا۔

البتہ احرام باندھنے والے پر نفسِ احرام کی وجہ سے جو کام کرنا حرام ہیں اور ان کے ارتکاب پر دم لازم ہوتا ہے، تو قارن اگر ان کا ارتکاب کرے تو اس پر دو دم لازم ہوں گے، کیونکہ اس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا ہوا ہے اور ایسی خلاف ورزی دونوں احرام کی جنایت کہلائے گی مثلاً قارن نے حالتِ احرام میں چار پہر چہرہ چھپایا تو اس پر دو دم لازم ہوں گے ایک عمرے کے احرام کی خلاف ورزی کا اور ایک حج کے احرام کی خلاف ورزی کا اور صدقے کے بارے میں بھی قارن کا یہی حکم ہے کہ اس پر دو صدقے لازم ہوں گے۔

علامہ رحمت اللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 993ھ) لباب میں اور علامہ علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 1014ھ) اس کی شرح میں فرماتے ہیں: ”(لو ترک طواف الصدر) بفتحتین ای طواف الوداع (فعلیہ دم واحد) لانہ متعلق بالحاجّ الآفاقی دون المعتمر مطلقاً“ یعنی اگر قارن نے طوافِ رخصت چھوڑ دیا تو اس پر صرف ایک دم لازم ہوگا کیونکہ طوافِ رخصت کا تعلق آفاقی حاجی کے ساتھ ہے، عمرے والے کے ساتھ مطلقاً کوئی تعلق نہیں۔ (المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، ص 574، مطبوعہ مکہ مکرمہ)

محقّق مدقّق علامہ علاء الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 1088ھ) درِّ مختار میں فرماتے ہیں: ”وكل ما على المفرد به دم بسبب جنايته على احرامه يعنی بفعل شیء من محظوراته لا مطلقا اذ لو ترك واجباً من واجبات الحج او قطع نبات الحرم لم يتعدد الجزاء لانه ليس جناية على الاحرام فعلى القارن ومثله متمتع ساق الهدی دمان وكذا الحكم فی الصدقة“ یعنی ہر وہ خلاف ورزی جس کے ارتکاب پر مفرد پر ایک دم لازم آتا ہے تو قارن اگر اس کا ارتکاب کرے، یو ہیں وہ متتمع جو اپنے ساتھ ہدی لایا تو ان پر دو دم ہوں گے یہی حکم صدقے کا ہے۔ یہاں جنایت سے احرام کی خلاف ورزی مراد ہے نہ کہ مطلقاً جنایت کیونکہ اگر قارن نے حج کا کوئی واجب چھوڑا یا حرم کی گھاس کاٹی تو اس پر ڈبل جزا لازم نہیں ہوگی کیونکہ یہ احرام پر جنایت نہیں۔ (الدرّالمختار علی ردّ المحتار، ج 3، ص 701-702، مطبوعہ کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو الحسن رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-13458
تاریخ اجراء: 18 محرم الحرام 1446 ھ/ 25 جولائی 2024ء