logo logo
AI Search

غیر مُحرم حدود حرم میں جوں مار سکتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

غیر مُحرم کا حدودِ حرم میں جوں مارنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب حالتِ احرام میں نہ ہوں، تو حرم کی حدود میں رہتے ہوئے جوئیں مارنا کیسا ہے؟

جواب

جو شخص حالتِ احرام میں نہ ہو اس پر حرم میں جوئیں مارنے پر نہ کوئی گناہ ہے، نہ کوئی کفارہ لازم ہوگا۔

تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ جوں مارنا اس وقت جرم قرار پاتا ہے، جب بندہ حالتِ احرام میں ہو اور اپنے بدن یا کپڑے سے لے کر مارے یا مارنے کا سبب قصداً اختیار کرے کہ یہ بدن سے میل چھڑانا ہے اور حالتِ احرام میں میل چھڑانا منع ہے، لہذا اگر مُحرِم نے جوں اپنے بدن یا کپڑے سے لے کر ماردی یا ہٹا کر پھینک دی یا جوئیں ختم کرنے کے لئے جوں والا کپڑا دھوپ میں ڈال دیا تو حسبِ تفصیل جوں مارنے کا کفارہ لازم ہوگا۔ اس کے برعکس اگر محرم نے زمین پر گری ہوئی جوں ماری یا دوسرے کے بدن یا کپڑے پر موجود جوں ماری، تو اس مارنے والے پر کچھ نہیں اگرچہ وہ دوسرا بھی احرام میں ہو حالانکہ مارنا یہاں بھی پایا جارہا ہے لیکن میل چھڑانےکی علت نہیں پائی جا رہی اس لئے کفارہ لازم نہیں۔ اس تفصیل سے پوچھی گئی صورت کا حکم بھی واضح ہو گیا کہ غیر مُحرِم کا حرم میں جوں مارنا، جائز ہے، اس عمل سے اس پر کوئی کفارہ یا گناہ لازم نہیں ہوگا کیونکہ یہاں بھی میل چھڑانے کی علت نہیں پائی جا رہی۔

علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 993ھ) فرماتے ہیں: ”ولا شیء علی الحلال بقتلھا فی الحرم“ یعنی غیر مُحرِم پر حرم میں جوں مارنے کے سبب کچھ لازم نہیں۔ (لباب المناسک، باب الجنایات، فصل فی قتل القمل، ص 535، مطبوعہ مکہ مکرمہ)

علامہ عبد اللہ بن حسن عفیف حنفی رحمۃ اللہ علیہ (حیات1102ھ) فرماتے ہیں: ”لا شیء علی الحلال اذا قتلھا ای القملۃ ولو فی الحرم “یعنی غیر محرم پر کچھ لازم نہیں جب اس نے جوں ماری اگر چہ حدودِ حرم میں۔ (اقرب المسالک الی بغیۃ المناسک، ص 173، مخطوط)

مفتیِ مکہ مکرمہ علامہ طاہر سنبل حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 1218ھ) فرماتے ہیں: ”فانھا لیست بصیدٍ ولذا حلّ قتلھا للحلال فی الحرم “یعنی جوں شکار نہیں ہے، اسی وجہ سے غیر محرم کے لئے حرم میں اس کو مارنا حلال ہے۔ (حاشیۃ ضیاء الابصار علی منسک الدرّ المختار، ص 259، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

جوں مارنے کی ممانعت کی وجہ بیان کرتے ہوئے امام ملک العلماء ابو بکر کاسانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 587ھ) فرماتے ہیں: ”ولا يقتل القملة لا لانها صيد بل لما فيها من ازالة التفث لانه متولد من البدن كالشعر والمحرم منهی عن ازالة التفث من بدنه فان قتلها تصدق بشیء كما لو أزال شعرة “یعنی محرم جوں نہیں مارے گا، اس وجہ سے نہیں کہ یہ شکار ہے بلکہ اس لئے کہ اس میں میل چھڑانا ہےکیونکہ جوں بدن سے پیدا ہوتی ہے جیسے بال اور محرم کو اپنے بدن سے میل چھڑانا ممنوع ہے، لہذا اگر محرم نے جوں ماری تو کچھ صدقہ دے، جیسے اگر بال دور کرتا (تو کفارہ لازم آتا)۔ (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، ج 03، ص 231، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو الحسن رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-13797
تاریخ اجراء: 25 شوال المکرم 1446ھ / 24 اپریل 2025 ء