احرام کی نیت سے پہلے یا بعد باڈی اسپرے لگانے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احرام کی نیت سے پہلے یا نیت کے بعد باڈی اسپرے لگانا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا احرام کی نیت کرنے سے پہلے اور یونہی نیت کرنے کے بعد جسم پر باڈی اسپرے لگا سکتے ہیں؟
جواب
احرام کی نیت کرنے سے پہلے بدن یا جسم پر خوشبو لگانا سنت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عملِ مبارک سے ثابت ہے، البتہ جب احرام کی نیت کر لی جائے، تو پھر باڈی اسپرے لگانے کی ہرگز اجازت نہیں، بلکہ اگر نیت کرنے کے بعد باڈی اسپرے لگا لیا، تو دم یا صدقہ لازم آئے گا، جس کی درج ذیل چار صورتیں ہیں۔
(1) خوشبو قلیل ہو اور مکمل عضو پر نہ لگی ہو۔
(2) خوشبو قلیل، لیکن مکمل عضو پر لگی ہو۔
(3) خوشبو کثیر ہو، لیکن مکمل عضو پر نہ لگے۔
(4) خوشبو کثیر ہو اور مکمل عضو پر لگ جائے۔
پہلی صورت میں صدقہِ فطر اور بعد والی تینوں صورتوں میں مُحرِم پر دم لازم آئے گا، نیز بدن پر خوشبو لگنے میں وقت کا اعتبار نہیں ہے۔ خواہ چند لمحوں کے لیے ہی لگی اور صاف کر دی، اِس کے باوجود کفارہ لازم آ جائے گا۔
نیتِ احرام سے پہلے خوشبو لگانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے چنانچہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیتِ احرام کرنے سے پہلے عمدہ ترین خوشبو لگایا کرتی تھیں، چنانچہ ابو عبداللہ امام محمد بن اسماعیل بخاری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 256ھ /870ء) روایت کرتے ہیں: ’’عن عائشة رضي اللہ عنها قالت: «كنت أطيب النبي صلى اللہ عليه وسلم عند إحرامه بأطيب ما أجد‘‘ ترجمہ: حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے وقت عمدہ سے عمدہ خوشبو، جو لگا سکتی تھی، وہ لگاتی تھی۔ (صحیح البخاری، جلد 07، صفحہ 164، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، بیروت)
یہ خوشبو لگانا نیتِ احرام سے پہلے ہوا کرتا تھا، چنانچہ شارِح بخاری، علامہ بدر الدین عینی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 855ھ/1451ء) لکھتےہیں: ’’في رواية أبي أسامة: بأطيب ما أقدر عليه قبل أن يحرم ثم يحرم‘‘ ترجمہ: حضرت ابو اسامہ کی روایت میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیتِ احرام کرنے سے پہلے حسبِ قدرت سب سے بہترین خوشبو لگایا کرتی تھی، چنانچہ خوشبو لگوانے کے بعد آپ نیتِ احرام فرماتے۔ (عمدۃ القاری، جلد 22، صفحہ 61، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی، بیروت)
نیت ِ احرام سے پہلے جسم اور لباس پر خوشبو لگانا احرام کی سنتوں میں سے ہے، چنانچہ نور الدین علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1014ھ/1605ء) لکھتے ہیں: ’’سنن الاحرام التطیبُ ای استعمال الطیب فی البدن والثوب قبل الاحرام‘‘ ترجمہ: احرام کی سنتوں میں سے ایک خوشبو لگانا ہے، یعنی احرام سے پہلے اپنے جسم اور کپڑوں پر خوشبو استعمال کرنا۔ (المسلک المتقسط شرح لباب المناسک، سنن الاحرام، صفحہ 126، کوئٹہ)
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: بدن اور کپڑوں پر خوشبو لگائیں کہ سنت ہے، اگر خوشبو ایسی ہے کہ اُس کا جِرم باقی رہے گا جیسے مشک وغیرہ تو کپڑوں میں نہ لگائیں۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1072، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
جب نیت کر لی تو پھر خوشبو دار چیز مثلاً: پرفیوم، عطر یا باڈی اسپرے لگانا، جائز نہیں، چنانچہ ”النتف فی الفتاوی“ میں ہے: ’’لَا يقرب طيبا وان مس طيبا فَعَلَيهِ دم‘‘ ترجمہ: محرم خوشبو کے قریب بھی نہ آئے۔ اگر خوشبو لگا لی، تو (دیگر شرائط پائے جانے پر) دَم لازم آئے گا۔ (النتف فی الفتاوی، جلد 1، صفحة 216، مطبوعة دار الفرقان، عمان)
اگر خوشبو قلیل ہو اور عضوِ کامل پر نہ لگے، تو صدقہِ فطر اور قلیل ہو، مگر عضو کامل پر لگ جائے تو دَم لازم ہے، چنانچہ ”لباب المناسک“ میں ہے: ’’لو طیب بالقلیل عضوا کاملا لزمہ دم۔۔۔ لو طيَّب أقلَّ من عضو بطيبٍ قليلٍ فعليه صدقةٌ‘‘ ترجمہ: اگر تھوڑی خوشبو مکمل عضو پر لگائی، تو دم لازم ہے اور اگر تھوڑی خوشبو عضو کے کچھ حصے پر لگائی تو اس پر صدقہ واجب ہے۔ (لباب المناسک، النوع الثانی فی الطیب، صفحہ 198، مطبوعہ دارقرطبہ)
اگر خوشبو کثیر ہو، تو پھر مکمل جسم، عضو کامل یا عضو کے معمولی حصے پر لگے، بہر صورت دم لازم ہے، چنانچہ علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ/1605ء) لکھتے ہیں: ’’لو اصاب جسدہ ای کلہ او عضوا کاملا او اکثر او اقل طیب کثیر فعلیہ دم وان غسل من ساعتہ‘‘ ترجمہ: اگر محرم نے پورے جسم یا ایک عضوِ کامل یا اس کے اکثر پر یا عضو کے تھوڑے حصے پر کثیر خوشبو لگائی تو مُحرِم پر دم واجب ہے، اگرچہ اُس نے اُسے فوراً دھو لیا ہو۔ (المسلک المتقسط مع حاشیۃ ارشاد الساری، صفحہ 452، مطبوعہ کوئٹہ)
کیونکہ جب خوشبو پر ”کثیر“ کا اطلاق ہو سکے، تو پھر دم ہی لازم آتا ہے۔ عضو کےکامل یا غیر کامل ہونے کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا، چنانچہ علامہ شیخ رحمت اللہ سندھی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے لکھا: ’’ان کان الطیب کثیرا فالعبرۃ بالطیب ای لا بالعضو‘‘ ترجمہ: اگر خوشبو کثیر ہو تو خوشبو کا ہی اعتبار ہو گا، عضو کا اعتبار نہ ہو گا۔ (لباب المناسک مع شرحہ للقاری، صفحہ 312، مطبوعہ ادارۃ القران و العلوم الاسلامیۃ)
بدن پر خوشبو لگنے میں وقت کا اعتبار نہیں ہوتا، چنانچہ علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں: ’’أشار بتقدير الطيب في الثوب بالزمان إلى الفرق بينه وبين العضو فإنه لا يعتبر فيه الزمان، حتى لو غسله من ساعته فالدم واجب كما في الفتح‘‘ ترجمہ: ماتن نے کپڑوں پر خوشبو کو زمانے کے ساتھ مقدر کر کے کپڑے اور عضو کے درمیان فرق کی طرف اشارہ کر دیا کہ عضو پر خوشبو لگنے میں زمانے کا اعتبار نہیں، یہاں تک کہ اگر عضو کو اسی وقت دھو دیا، تو دم واجب ہوگا، جیسا کہ ”فتح القدیر“ میں ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 3، باب الجنایات، صفحہ 654، مطبوعہ کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9985
تاریخ اجراء: 25 ذوالقعدۃ الحرام 1447ھ / 13 مئی 2026