logo logo
AI Search

مکہ میں قیام کی نیت اور جعرانہ سے عمرہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مکہ مکرمہ میں اقامت کی نیت کے باوجود جعرانہ سے عمرہ کا ارادہ ہو تو اقامت کی نیت درست ہوگی؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کوئی معتمر عمرہ کی ادائیگی کے لیے جاتا ہے، اور اس کے گروپ کا پیکج اس طرح ہے کہ مکہ مکرمہ میں اس کی رہائش بیس دن کے لیے ہو، اور اس کی نیت عمرہ کرنے کی ہو، اب اگر اس کی پہلے سے نیت یہ ہو، کہ وہ مسجد جعرانہ سے عمرہ کرے گا، تو کیا اس صورت میں اس کی بیس دن مکہ مکرمہ میں اقامت کی نیت درست ہوگی، یا وہ مسافر شمار ہوگا، اور قصر نماز ادا کرے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اُس شخص کی نیت مسلسل پندرہ راتیں مکہ مکرمہ میں قیام کی ہے اور اقامت میں رات ہی کا اعتبار ہوتا ہے، لہذا وہ شخص مکہ مکرمہ پہنچتے ہی مقیم ہوجائے گا، اُس کی اقامت کی نیت درست ہوگی۔ اس دوران جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھنے کے ارادے سے بھی اس کی اقامت باطل نہیں ہوگی، اور نہ ہی اس کا یہ سفر دو حصوں میں تقسیم ہوگا کیونکہ یہ مسافت 92 کلومیٹر سے کم ہے۔ البتہ اگر وہ شخص دن ہی دن میں مکہ مکرمہ سے 92 کلو میٹر یا اس سے دور کسی مسافت پر چلا جائے تو ضرور اس کی اقامت باطل ہوجائے گی اور وہ مسافر ہوجائے گا۔

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: جب تک کسی خاص جگہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت الہ آباد میں کرلی ہے، تو اب الہ آباد وطنِ اقامت ہوگیا نماز پوری پڑھی جائے گی جب تک وہاں سے تین منزل کے ارادہ پر نہ جاؤ، اگرچہ ہر ہفتہ پر بلکہ ہر روز الہ آباد سے کہیں تھوڑی تھوڑی دور یعنی چھتیس ۳۶ کوس سے کم باہر جانا اور دن کے دن واپس آنا ہو جبکہ نیت کرتے وقت اس پندرہ دن میں کسی رات دوسری جگہ شب باشی کا ارادہ نہ ہو، ورنہ وہ نیت پورے پندرہ دن کی نہ ہوگی، مثلاً الہ آباد میں پندرہ روز ٹھہرنے کی نیت کی اور ساتھ ہی یہ معلوم تھا کہ ان میں ایک شب دوسری جگہ ٹھہرنا ہوگا، تو یہ پورے پندرہ دن کی نیت نہ ہوئی اور سفر ہی رہا، اگرچہ دوسری جگہ الہ آباد کے ضلع میں بلکہ اس سے تین چار ہی کوس کے فاصلہ پر ہو اور اگر پندرہ راتوں کی نیت پوری یہیں ٹھہرنے کی تھی اگرچہ دن میں کہیں اور جانے اور واپس آنے کا خیال تھا، تو اقامت صحیح ہوگئی نماز پوری پڑھی جائے گی، جبکہ وہ دوسری جگہ الہ آباد سے چھتیس کوس یعنی ستاون اٹھاون میل کے فاصلے پر نہ ہو۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 08، ص 251، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مزید ایک مقام پر فرماتے ہیں: وطن اقامت یعنی جہاں پندرہ دن یا زیادہ قیام کی نیت صحیحہ کرلی ہو آدمی کو مقیم کردیتا ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 08، ص 262، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں نیت اقامت صحیح ہونے کی شرائط میں ہے پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت ہو، اس سے کم ٹھہرنے کی نیت سے مقیم نہ ہوگا۔ (بہار شریعت ، ج 01، حصہ 4، ص 744، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4947
تاریخ اجراء: 12 شوال المکرم 1447ھ / 01 اپریل 2026ء